رسائی کے لنکس

ایران کا امریکہ میں مقیم حکومت مخالف رہنما کی گرفتاری کا دعویٰ


جمشید شرمہد،

ایران میں حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکہ میں مقیم حکومت مخالف ایک گروپ کے لیڈر کو گرفتار کر لیا ہے، جس پر مبینہ طور پر الزام ہے کہ و ہ سن 2008 میں شیراز کی ایک مسجد پر ہونے والے حملے میں ملوث تھا۔

اس حملے میں 14 افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔

ایران کی انٹیلی جینس منسٹری نے یکم اگست کو کہا ہے کہ گرفتار ہونے والے شخص کا نام جمشید شرمہد ہے اور اس کا تعلق کیلی فورنیا میں قائم ایک حکومت مخالف گروپ ' کنگڈم اسمبلی' سے ہے۔ جن کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

شرمہد کے متعلق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس گروپ کے عسکری ونگ کا سربراہ ہے، جسے تندر کہا جاتا ہے۔

عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس گروپ پر دوسری مشتبہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں بھی حصہ لینے کا شبہ ہے، اور یہ بھی امکان ہے کہ مذکورہ گروپ ان حملوں میں بھی ملوث رہا ہو جن کی وضاحت نہ کی گئی ہو۔

شرمہد کی گرفتاری کی خبر ایران کے سرکاری ٹیلی وژن پر نشر کی گئی تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں کب اور کہاں سے پکڑا گیا تھا۔

کنگڈم اسمبلی ایران کا ایک شاہ پر ست گروپ ہے جو ایران کی اسلام پسند حکومت کا تختہ الٹ کر وہاں پھر سے شہنشاہیت قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG