رسائی کے لنکس

logo-print

ایران حکومت کا بھاری ووٹنگ کا دعویٰ، سوشل میڈیا پر پولنگ اسٹیشن خالی


ایک خاتون ووٹر فتح کا نشان بنا رہی ہے۔ اس کی انگلی پر ووٹنگ کے وقت لگائی گئی روشنائی کا نشان نظر آ رہا ہے۔ 21 فروری 2020

ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے جمعے کے روز تہران کے ایک پولنگ اسٹیشن پر ووٹروں کی لمبی لمبی قطاریں دکھاتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے اپنی پسند کے امیدوار کے لیے ووٹ ڈالا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی بہت سے ویڈیوز میں پولنگ اسٹیشن خالی نظر آئے اور ووٹروں نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں نے ووٹنگ کے بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی تھی۔

ووٹنگ مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے شروع ہوئی۔ زیادہ تر ووٹروں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس لیے ووٹ ڈالنے آئے ہیں کیونکہ یہ ان کا فرض ہے۔ ٹی وی فوٹیج میں زیادہ تر ووٹر نوجوان دکھائی دے رہے تھے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے چند روز پہلے آذربائجان کے اپنے ایک دورے میں ایرانیوں پر زور دیا تھا کہ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے اپنے گھروں سے نکلیں، کیونکہ یہ ان کی مذہبی ذمہ داری ہے اور اس سے ایران کے دشمنوں کے منصوبے ناکام ہو جائیں گے۔

ملک بھر ووٹ ڈالنے کے لیے 55 ہزار پولنگ اسٹیشن بنائے گئے تھے جو شہروں اور قصبوں کی مساجد میں تھے۔ پارلیمنٹ کی 290 نشستوں کے لیے الیکشن میں حصہ لینے والے زیادہ تر اعتدال پسند امیدواروں کو انتخابی عہدے داروں نے پہلے ہی نااہل قرار دے دیا تھا جس کے بعد پارلیمنٹ میں سخت گیر امیدواروں کے پہنچنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

رہنما کونسل کی طرف سے 7000 سے زیادہ برطرف کیے جانے والے امیدواروں میں زیادہ تر ایسےافراد شامل تھے جو اصلاح پسند ہیں اور ترقی پسند نظریات رکھتے ہیں۔ ان کے نااہل ہونے کا فائدہ قدامت پسند امیدواروں کو پہنچے گا۔

پانچ کروڑ 80 لاکھ ایرانی ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ ایران میں 41 سال قبل اسلامی انقلاب آنے کے بعد یہ ملک کے 11 ویں عام انتخابات ہیں۔

ایران کے ایک سابق صدر ابوالحسن بنی صدر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ایرانی عوام حزب اختلاف کے رہنماؤں کی جانب سے پارلیمانی انتخابات کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں ملک بھر سے جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں، اس کے مطابق ملک بھر میں بائیکاٹ کی اپیل پر عمل ہو رہا ہے، جس سے حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہو گا جسے پہلے ہی بیرونی دنیا سے اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انتخابات کے ابتدائی نتائج ہفتے کے روز متوقع ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG