رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کا جوہری معاہدے کی حد سے تجاوز کا اقرار


ایران کے جوہری توانائی کے ادارے نے پیر کے روز کہا ہے کہ 2015ء کے بین الاقوامی جوہری معاہدے کے تحت یورینئم افزودگی کی جن حدود کی اجازت ہے، ایران نے ان سے تجاوز کیا ہے۔

ایران نے کہا ہے کہ اس نے 4.5 فی صد کی افزودگی کی شرح کو عبور کیا ہے، جب کہ معاہدے میں دی گئی یہ حد 3.67 فی صد کی ہے، جس کا مقصد یہ تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکا جائے۔

ایران نے کہا ہے کہ نیوکلیئر سمجھوتے میں دی گئی ضمانتوں سے انحراف کرتے ہوئے یورینئم کی افزودگی کو 20 فی صد تک لے جانے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے، اگر اسے معاہدے پر دستخط کرنے والے دیگر ملکوں کی جانب سے مدد فراہم نہیں کی جاتی، تاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عائد کردہ امریکی اقتصادی تعزیرات کا اثر زائل کیا جا سکے، جس معاہدے سے وہ گذشتہ سال الگ ہوئے تھے۔

پانچ فی صد افزودہ یورینئم بجلی کی جوہری تنصیبات میں ایندھن کے طور پر کام آتا ہے، لیکن یہ 90 فی صد سے کہیں نیچے ہے، جو شرح نیوکلئر ہتھیار تشکیل دینے میں کام آتی ہے۔

اقوام متحدہ کے نگران ادارے کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی دعوے کی تصدیق کا کام بجا لا رہا ہے کہ اس نے یورینئم کی افزودگی کی حد پار کر لی ہے۔

ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے دستخط کنندگان میں یورپی یونین ایک فریق ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے ایران کے اس اقدام پر ’’شدید تشویش‘‘ ہے۔

یورپی یونین نے برسلز میں کہا ہے کہ ’’ہم ایران پر زور دیتے ہیں کہ بین الاقوامی معاہدے کے تحت دی گئی ضمانتوں کے برخلاف اپنی تمام سرگرمیاں روک دے اور انہیں منسوخ کر دے‘‘۔

روس نے کہا ہے کہ اسے ایران کے اقدام پر تشویش ہے۔ لیکن، ساتھ ہی کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس نے خبردار کیا ہے کہ معاہدے سے الگ ہونے کے ٹرمپ کے اقدام سے عالمی سلامتی پر منفی نتائج مرتب ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG