رسائی کے لنکس

logo-print

سابق ایرانی قانون ساز کو غلط الزام پر گرفتار کیا گیا: وکیل


ایک سابق قانون ساز کی پیروی کرنے والے ایرانی وکیل کو گذشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا۔ اُن پر الزام ہے کہ اُنہوں نے ایرانی پارلیمان کے باہر مظاہرہ کیا اور دعویٰ کیا کہ سازش کے ذریعے حکام نے اُن کے مؤکل پرجھوٹے الزام لگائے ہیں۔

بدھ کے روز ’وائس آف امریکہ‘ کی فارسی سروس کو انٹرویو میں وکیل، محمد حسین آقاسی نے کہا ہے کہ اُن کے مؤکل قاسم شعلہ سعدی قومی سلامتی کے خلاف کسی قسم کی سازش نہیں کی تھی، چونکہ شعلہ سعدی نے دیگر افراد سے ایسی کوئی اپیل نہیں کی کہ وہ تہران میں پارلیمان کی عمارت کے باہر احتجاجی مظاہرے میں شرکت کریں۔

شعلہ سعدی نے 1988ء سے 1996ء کے دوران ایرانی قانون ساز کے طور پر فرائض انجام دیے اور بعدازاں وکالت کے پیشے سے منسلک رہے۔

اُنہوں نے جمعے کو ٹوئٹر پر شائع ایک وڈیو میں اعلان کیا کہ وہ اگلے روز احتجاج کریں گے۔

کلپ میں اُنہوں نے کہا کہ ’’ایران کو تباہ کُن معاشی اور سیاسی مسائل درپیش ہیں‘‘؛ اور اسلام نواز حکومت پر الزام لگایا کہ وہ پارلیمان اور صدارتی عہدوں کے امیدواروں کے انتخاب میں حصہ لینے سے قبل، اُن کے ناموں کی چھان بین کرتی ہے۔

ایران کی 12 رُکنی غیر منتخب شوریٰ نگہباں، جو چھ عالم دین اور چھ ماہر قانون پر مشتمل ہے، طے کرتی ہے کہ کون سا امیدوار صدارت اور پارلیمان کے انتخاب لڑنے کا اہل ہے، جس میں اولیت اس بات کو دی جاتی ہے کہ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے اصولوں کے بارے میں امیدوار کیا سوچ رکھتے ہیں۔

شعلہ سعدی 60 کے پیٹے میں ہیں۔ اُنھوں نے جمعے کو شائع کی گئی وڈیو کا اختتام اس بات پر کیا کہ وہ پارلیمان کی عمارت کے سامنے کھڑے ہوں اور شوریٰ نگہباں کے بارے میں ایرانیوں کی مخالفانہ سوچ کے بارے میں لب کشائی کریں گے۔ سعدی نے حالیہ عشرے کے دوران کئی بار صدارتی امیدوار بننے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن اُنہیں اس کے لیے نااہل قرار دیا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG