رسائی کے لنکس

logo-print

جواد ظریف کا دو ماہ میں دوسرا دورہ، کیا پاکستان یمن جنگ میں ثالثی کر سکتا ہے؟


ایران کے وزیر خارجہ ایک ایسے وقت پر پاکستان آئیں ہیں جب چند روز قبل ہی پاکستان نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ یمن کے تنازعے کے حل کے لیے سعودی عرب اور ایران کے مابین ثالث کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے

پاکستان اور ایران نے مغوی باڈر سکیورٹی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ بلوچستان کی سرحد سے متصل ایرانی علاقے میں ’پاسدارانِ انقلاب‘ کے اہلکاروں سمیت 14 ایرانی باڈر سکیورٹی گارڈ اغوا ہو گئے تھے۔ کالعدم شدت پسند تنظیم ’جیش العدل‘ نے اُن کے اغوا کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف منگل کی شب مختصر دورے پر اسلام آباد پہنچے تھے، جہاں بدھ کی صبح انھوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے اور وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں باہمی تعاون اور علاقائی امور پر بات چیت کی گئی، جبکہ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی، ’ارنا‘ کے مطابق ایران اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی ملاقات میں مغوی ایرانی سرحدی محافظوں کی رہائی کے لیے اقدامات میں تعاون کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ کے دورے کا مقصد سرحدی محافظوں کی بازیابی کے لیے پاکستان کی سول اور عسکری حکام سے بات کرنا ہے۔

یاد رہے کہ 16 اکتوبر کو بلوچستان سے متصل ایرانی سرحد پر سے پاسدرانِ انقلاب سمیت سرحدی محافظوں کو اغوا کر لیا گیا تھا، جس کے بعد کالعدم شدت پسند تنظیم، ’جیش العدل‘ نے اُن کے اغوا کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے رہائی کے لیے شرائط عائد کی تھیں۔

پاکستان میں تحریکِ انصاف کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کا پاکستان کا یہ دوسرا دورہ ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ ایک ایسے وقت پر پاکستان آئیں ہیں جب چند روز قبل ہی پاکستان نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ یمن کے تنازعے کے حل کے لیے سعودی عرب اور ایران کے مابین ثالث کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

تجزیہ کار یمن کی جنگ میں کے خاتمے میں پاکستان کی بحیثت ثالث کردار سے زیادہ پُر امید نہیں ہیں۔ تجزیہ طلعت مسعود کہتے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے سعودی عرب اور ایران کو اپنے رویے بدلنے ہوں گے۔

’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے مابین تلخی اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ سعودی عرب ایران کو دبانے کے لیے اسرائیل کے قریب ہو گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو پہلے پراکسی جنگ ختم کرنا ہو گی۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ یمن میں ایران حوثی باغیوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے اور مالی مدد کر رہا ہے، جبکہ ایران ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

ادھر، یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی کمان میں اتحادی افواج کے آپریشن کو ختم کرنے کے اعلانات سامنے آ رہے ہیں۔

سعودی اتحاد میں شامل امریکہ نے یمن کے محاذ کو بند کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیو کا کہنا ہے کہ یمن کی تباہ کُن اور متنازعہ جنگ سے انسانی بحران پیدا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب جنگ ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG