رسائی کے لنکس

ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف کا مستعفی ہونے کا اعلان


ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف (فائل فوٹو)

ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وزیرِ خارجہ نے استعفے کا اعلان منگل کی صبح سماجی رابطوں کی ویب سائٹ 'انسٹاگرام' پر کیا۔

اپنے پیغام میں جواد ظریف نے لکھا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں مزید انجام دینے سے قاصر ہیں اور وہ یہ عہدہ چھوڑنے اور اپنے دور میں رہ جانے والی خامیوں پر قوم سے معذرت خواہ ہیں۔

اپنے پیغام میں انہوں نے ایرانی قوم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ گزشتہ 67 مہینوں کے دوران بہت عزیز اور بہادر عوام اور حکام کے تعاون کے شکر گزار ہیں۔

جواد ظریف کا استعفیٰ خاصا غیر متوقع ہے جس کے اعلان کے بعدسے ایرانی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں اس کے متعلق قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔

'انسٹاگرام' پر اپنے پیغام میں جواد ظریف نے استعفے کی کوئی وجہ بھی بیان نہیں کی ہے۔ لیکن بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرِ خارجہ شام کے صدر بشار الاسد کے دورۂ ایران پر اعتماد میں نہ لینے کی وجہ سے مستعفی ہوئے ہیں۔

بشار الاسد نے پیر کو تہران کا دورہ کیا تھا لیکن ان کے دورے کے دوران ہونے والی تمام سرکاری تقاریب کی جو تصاویر ایران کی حکومت نے جاری کی تھیں ان میں سے کسی میں بھی وزیرِ خارجہ موجود نہیں تھے۔

ایک ایرانی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیرِ خارجہ کو شامی صدر کے دورے کے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

شام میں 2011ء میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے بعد سے صدر بشار الاسد کا ایران کا یہ پہلا دورہ تھا جس کے دوران شامی صدر نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر حسن روحانی سے ملاقاتیں کی ہیں۔

ایران بشار الاسد کی حکومت کا اہم ترین اتحادی ہے اورمددگار ہے جس کے فوجی اہلکار اور حمایت یافتہ ملیشیائیں شامی حکومت کے ساتھ مل کر باغیوں سے برسرِ پیکار رہی ہیں۔

تہران میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان اور اقوامِ متحدہ میں ایرانی مشن کے ترجمان نے بھی محمد جواد ظریف کے استعفے کی تصدیق کردی ہے۔

لیکن تاحال یہ واضح نہیں کہ آیا صدر روحانی اپنے وزیرِ خارجہ کا استعفیٰ قبول کریں گے یا نہیں۔

جواد ظریف کی جانب سے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد ایران کے کئی سیاست دانوں اور ارکانِ پارلیمان نے صدر روحانی پر زور دیا ہے کہ وہ ان کا استعفیٰ مسترد کردیں۔

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015ء میں طے پانے والے جوہری معاہدے پر اتفاقِ رائے میں محمد جواد ظریف کا اہم کردار تھا جنہوں نے ایرانی حکومت کی طرف سے عالمی طاقتوں کے نمائندوں کے ساتھ اس معاہدے پر کئی سال تک مذاکرات کیے تھے۔

لیکن امریکہ کی جانب سے گزشتہ سال مئی میں اس معاہدے سے علیحدگی اور ایران پر اقتصادی پابندیاں بحال کرنے کے اعلان کے بعد ایران کے قدامت پسند حلقوں نے جواد ظریف کو آڑے ہاتھوں لیا تھا اور ان پر کڑی تنقید کی تھی۔

اعتدال پسند حسن روحانی نے 2013ء میں صدارتی انتخاب میں کامیابی کےبعد جواد ظریف کو وزیرِ خارجہ نامزد کیا تھا جو اس سے قبل 2002ء سے 2007ء کے دوران اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر بھی رہ چکے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG