رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی تعزیرات کے بعد ایران کے ترکی سے روابط میں اضافہ


ترک، آذری اور ایرانی وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ تعزیرات کے نتیجے میں ہمارے ملکوں کے درمیان تجارتی اور کاروباری ترقی کے حوالے سے منفی اثر پڑے گا

امریکی تعزیرات کی سختی سے بچنے کے لیے، ایران ترکی کی قربت کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔

ترکی ایران کی تونائی کا ایک اہم گاہک ہے۔ منگل کے روز ترکی نے ایران کے خلاف تعزیرات کی مخالفت کا اعادہ کیا، جو چار نومبر سے لاگو ہوں گی۔

ترک، آذری اور ایرانی وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ ’’ایران کے جوہری معاہدے کے معاملے پر (جسے باضابطہ طور پر ’جوائنٹ کمپریھنسو پلان آف ایکشن‘ کہا جاتا ہے)، اسلامی جمہوریہٴ ایران کی جانب سے عمل درآمد کو مد نظر رکھتے ہوئے، جس کی توانائی کے بین الاقوامی ادارے نے بھی تصدیق کی ہے، ہم یکطرفہ تعزیرات کی مذمت کرتے ہیں۔ تعزیرات کے نتیجے میں ہمارے ملکوں کے درمیان تجارتی اور کاروباری ترقی کے شعبہ جات پر منفی اثر پڑے گا‘‘۔ تینوں وزرائے خارجہ نے یہ بات ایک تحریری بیان میں کہی ہے۔

بیان جاری ہونے سے قبل، تینوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے استبول میں مذاکرات کیے۔

ایران کے وزیر خارجہ، محمد جواد ظریف نے کہا ہےکہ ’’بدقسمتی سے قانون توڑنے والا ایک ملک (امریکہ) دوسرے ملک (ایران) کو سزا دینا چاہتا ہے، جو قانون کی پاسداری کر رہا ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’یہ طریقہٴ کار عالمی نظام کے لیے سنگین نتائج مرتب کرے گا‘‘۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران پر جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہیں؛ جس بین الاقوامی سمجھوتے کے نتیجے میں ایران کے جوہری پروگرام پر کنٹرول کیا گیا؛ جب کہ ایران کی توانائی کی برآمدات کو ہدف بناتے ہوئے، خصوصی پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔

تعزیرات کی کھل کر مخالفت کرنے میں ترکی پیش پیش ہے۔ ترکی کی ’مڈل ایسٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی‘ کے بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر، حسین باغی کا کہنا ہے کہ ’’ایران ترکی کا ہمسایہ ہے اور وہ تعزیرات پر عمل درآمد نہیں کرے گا‘‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’عام طور پر ترکی امریکی خارجہ پالیسی کو نہیں مانتا۔ چونکہ آپ امریکی خارجہ پالیسی کو نہیں مانتے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ امریکہ کے خلاف ہو۔ ایران کے معاملے پر، امریکہ نے ہمیشہ ترکی کو رعایتیں دی ہیں‘‘۔

بھارت اور چین کی طرح، ترکی ایران کے تیل کا سب سے بڑا گاہک ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تینوں ملک امریکہ کی جانب سے عائد کردہ تعزیرات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG