رسائی کے لنکس

logo-print

'دنیا سے الگ تھلگ رہنے کا راستہ ہم نے نہیں چنا'


ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف سرکاری ٹیلی وژن چینل تھری کے ایک لائیو شو میں۔ 26 اگست 2018

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر ایرانی نوجوانوں نے مسترد کر دیا ہے کہ عالمی دباؤ کی صورت حال میں جینے کا فیصلہ ایرانی قوم نے خود کیا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظريف کے اس بیان کے بعد کہ ایرانیوں نے دباؤ میں جینے کا راستہ خود چنا ہے، سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

جواد ظريف کا اشارہ ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے نتیجے میں اس ملک کے خلاف بڑھتی ہوئی اقتصادی پابندیوں کی طرف تھا۔

ظريف نے یہ بیان اتوار کے روز ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کے ایک لائیو شو کے دوران دیا۔

شو کے میزبان رضا راشد پور نے ان سے پوچھا کہ ایران کو دوسرے ملکوں کے مقابلے میں زیادہ عالمی دباؤ کا سامنا کیوں ہے تو انہوں نے کہا کہ ہم نے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں ایک مختلف انداز جینے کا راستہ چنا ہے۔ ہم یہ نہیں چاہتے کہ کوئی ہمیں یہ بتائے کہ ہم نے کس طرح زندگی بسر کرنی ہے۔ ہم اپنے قوانین کے مطابق اپنے عوام کے حقوق کو تحفظ دینا چاہتے ہیں ۔ہم ایک ایسا نظام حکومت چاہتے ہیں جسے ہم ترجيج دیتے ہیں۔

پیر کو رات گئے تک کم از کم 5000 ٹوٰیٹس میں #I_didn’t_choose اور #We_didn’t_choose کے ہیش ٹیگ کے ساتھ جواد ظريف کے بیان کو مسترد کیا گیا تھا۔

جواد کے بیان کو مسترد کرنے والوں میں ایک صدف نامی خاتون بھی ہیں جن کے فالور ز کی تعداد 24 ہزار سے زیادہ ہے ۔ انہوں نے فارسی زبان کے اپنے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ مسٹر ظریف یہ راستہ ہم نے نہیں چنا۔ ہمارے والدین اور آپ جیسے لوگوں نے تقریباً 40 سال پہلے اسے چنا تھا جس پر اب وہ معذرت خواہ ہیں۔ ہم نوجوان ایرانوں کا خواب یہ ہے باقی ماندہ دنیا کے ساتھ ہمارے تعلقات دوستانہ اور معمول کے مطابق ہوں۔

ایران میں مقیم ایک صحافی عامر عباس کلہور نے ایک ہیش ٹیگ میں فارسی زبان میں لکھا ہے کہ نہ ہی تو میرے والدین نے اور نہ ہی میں نے اور میری جنریشن کے دوسرے لوگوں نے آپ کو چنا ہے۔ جنہیں نہ تو ریفرنڈم اور نہ ہی آزاد انہ انتخابات میں کوئی فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔

ایران کی اسلامی لیڈر شپ نے 1979 کے انقلاب میں شاہ ایران کا تختہ الٹنے کے بعد اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ اس وقت سے ایران پر غیر منتخب مذہبی لیڈر قابض ہیں جنہیں منتخب صدر اور پارلیمنٹ کے فیصلوں پر نظرثانی کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG