رسائی کے لنکس

logo-print

ایران پر بڑھتا ہوا امریکی دباؤ، خلیجی ممالک کی حمایت


رینو مارکہ کاروں کی ڈیلرشپ

ایران کے خلاف نئی معاشی پابندیاں اس ہفتےنافذ ہوئیں جس کا ہدف اسلامی جمہوریہ کی کارساز صنعت ہے، ساتھ ہی امریکی ڈالر کی خرید اور سونے کی تجارت کی ایران کی استعداد پر ضرب لگانا ہے۔

یورپی یونین، روس اور چین کے ساتھ ساتھ عراق نے اِن نئی امریکی تعزیرات کی وسیع طور پر تنقید کی ہے۔

تاہم، ایران کے ہمسائے سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات بڑی حد تک خاموش ہیں، حالانکہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اختیار کردہ بڑھی ہوئی محاذ آرائی پر مبنی انداز کی زیادہ تر حمایت کرتے ہیں۔

واشنگٹن ڈی سی میں تعینات متحدہ عرب امارات کے سفیر، یوسف العتیبہ نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ایران کو پتا ہونا چاہیئے کہ اُس کے اقدامات پر اُس کی پکڑ ہوتی ہے۔

العتیبہ نے کہا کہ ’’ایران کے رویے کا موازنہ نتائج سے کیا جائے۔ یہ نتائج کیا ہیں؟ یہ بات ہمیں مل کر سوچنی چاہیئے‘‘۔

یوسف العتیبہ نے مزید کہا کہ خطے میں دوسروں کے بدلے لڑائی لڑنے کا مقصد ایران کے مفادات کو فروغ دینا اور ایران کے علاقائی اہداف اور عزائم کی غمازی ہے۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’ایران مشرق وسطیٰ میں دہشت گرد گروہوں کی پیش پناہی اور نیابت کی نوعیت والی لڑائیوں کا پکا حامی ہے۔ ایک بات جو اِن گروپوں میں عام ہے وہ یہ کہ ان کا ہدف خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے‘‘۔

خلیج کا ردِ عمل

سنی مسلک والا سعودی عرب اور اُس کے خلیجی اتحادی، شیعہ مسلک والے ایران کے ساتھ کئی دہائیوں سے مخاصمت اور رقابت کی راہ پر چل رہے ہیں۔ وہ مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ ’پروکسی‘ لڑائیوں میں مصروف رہا ہے، جس کے نتیجے میں وہ عراق، شام، لبنان اور یمن کے تنازعات پر اثرانداز ہوا ہے۔

ایسے میں جب یہ تنازعات مشرق وسطیٰ کے میدان جنگ پر مرتب دکھائی دیتے ہیں، یہ تینوں ملک ایران کے خلاف اقدام کو سخت کیے جانے کے حامی ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین ایران پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ خطے میں دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کرتا ہے، تاکہ اِن ملکوں میں عدم استحکام پیدا کیا جائے اور اُس کی طاقت زور پکڑے۔

گذشتہ ماہ، سعودی وزیر خارجہ عبد الجبیر نے خطے میں فرقہ وارایت اور دہشت گردی کی حمایت پر تشویش کا اظہار کیا۔

بیجنگ میں ’چین عرب تعاون فورم‘ کے آٹھویں اجلاس کے احاطے سے باہر لندن کے اخبار ’الشارق الأوسط‘ کو بتایا کہ ایران عرب ملکوں کے معاملات میں متحرک طریقے سے مداخلت کرتا ہے۔

الجبیر نے کہا کہ ’’ہم ملکوں کے اقتدار اعلیٰ پر یقین رکھتے ہیں۔ اس لیے، ہم عرب ملکوں کے امور میں ایران کی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں؛ علاوہ ازیں، وہ فرقہ وارانہ تناؤ اور دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG