رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کی جوہری تنصیب میں آتش زدگی، کوئی نقصان نہیں ہوا: ترجمان


ایران کا یورینیم افزودہ کرنے کا مرکزی پلانٹ نطنز کا ایک اندرونی منظر، فائل فوٹو

جمعرات کے روز ایران کے زیر زمین جوہری پلانٹ نطنز میں ہونے والے حادثے کے متعلق ترجمان نے کہا ہے کہ اس واقعہ میں پلانٹ محفوظ رہا اور اس سے تابکاری خارج نہیں ہوئی۔

متاثرہ عمارت کے بارے کہا گیا ہے کہ وہ زمین کی سطح پر تعمیر کی گئی ایک صنعتی تنصیب تھی، لیکن وہ زیر زمین جوہری مواد کی افزودگی کے پلانٹ کا حصہ نہیں تھی۔

نطنز جوہری پلانٹ کے ترجمان بہروز کمالوندی کا کہنا تھا کہ عمارت کو نقصان پہنچا ہے اور مالی نقصان بھی ہوا ہے جس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس واقعہ سے ہمارے کام میں کوئی خلل نہیں پڑا، اور جوہری پلانٹ میں معمول کے مطابق کام جاری رہا۔

آتشزدگی سے قبل کوئی ایسی اطلاح نہیں تھی کہ نطنز کے یورینیم انرچمنٹ سینٹر میں کوئی تعمیراتی کام ہو رہا ہے۔

یہ پلانٹ دارالحکومت تہران سے جنوب میں 250 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ایک زیر زمین تنصیب ہے، جسے تقریباً 25 فٹ کی گہرائی میں کنکریٹ سے تعمیر کیا گیا ہے تاکہ وہ ہوائی حملوں سے محفوظ رہے۔

صورت حال کی نوعیت سنجیدہ تھی جس کی وجہ سے پلانٹ کے ترجمان کمالوندی اور نیوکلیئر چیف علی اکبر صالحی دونوں کو فوری طور پر موقع پر پہنچنا پڑا۔

نطنز قصبے کے گورنر رمضان علی فردوسی نے بعدازاں بتایا کہ یہ آتش زدگی کا واقعہ تھا جس پر قابو پانے کے لیے فائر فائیٹرز اور امدادی ٹیمیں فوراً روانہ کر دی گئیں تھیں۔ تاہم، انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آتشزدگی کتنی شدید تھی اور اس سے کیا نقصان ہوا۔

نطنز کو 'پائلٹ فیول انرچمنٹ پلانٹ' بھی کہا جاتا ہے۔ 2015 میں ہونے والے ایران کے عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے کے بعد سے یہ پلانٹ جوہری توانائی کے انسپکٹروں کی نگرانی میں ہے۔

نطنز کا پلانٹ ایران کے مرکزی صوبے اصفہان میں واقع ہے اور یہ ملک میں یورینیم کی افزودگی کی مرکزی تنصیب ہے۔ توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ پلانٹ میں اس وقت ساڑھے چار فی صد تک یورینیم افزودہ کی جا رہی ہے، جب کہ ہتھیار بنانے کے لیے اس کا 90 فی صد تک افزودہ ہونا ضروری ہے۔

ایران نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں کام کرنے والی اس کی جوہری تنصیبات میں سے ایک میں ایک حادثہ ہوا، لیکن اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG