رسائی کے لنکس

logo-print

ایران: یورینیم افزودگی کے نمونے ملنے کے دعوے مسترد


ایرانی وزاتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیل یورینیم افزودگی کے معاملے کو دوبارہ کھولنے کا خواہش مند ہے۔

ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی اُس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کے 'ایک مقام' سے انسپکشن کے دوران یورینیم کے نمونے ملے ہیں۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے اتوار کو سرکاری ٹی وی پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آئی اے ای اے کی رپورٹ 'ٹریپ' کرلی گئی ہے۔

آئی اے ای اے نے بدھ کو رکن ممالک کو بند کمرہ اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ انہوں نے ایران کے ایک مقام سے یورینیم کے ذرات برآمد کیے ہیں تاہم انہوں نے اس مقام کا نام نہیں لیا تھا۔

ایرانی وزاتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس معاملے کو دوبارہ کھولنے کا خواہش مند ہے اور ہم پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ آئی اے ای اے 'ٹریپ' ہوچکا ہے۔

عباس موسوی کا مزید کہنا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی اپنی اہمیت برقرار رکھے گی۔

اس سے قبل ایران کی 'اٹامک انرجی آرگنائزیشن' کے ترجمان بہروز کمال وندی نے ہفتے کو زیرِ زمین جوہری پلانٹ 'فردو' میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ایران یورینیم کی افزودگی کو بڑھا کر 60 فی صد تک لے گیا ہے، جو شہری مقاصد کے لیے افزودہ یورینیم کی سطح سے زیادہ لیکن جوہری ہتھیار بنانے کی 90 فی صد کی سطح سے ابھی کافی کم ہے۔

آئی اے ای اے نے گزشتہ ہفتے تنظیم کے رکن ممالک کو آگاہ کیا تھا کہ رواں سال فروری میں ایران کے دورے کے دوران اُنہیں جو نمونے ملے تھے وہ یورینیم کے تھے لیکن وہ کارآمد نہیں تھے۔

اُدھر اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو متعدد بار آئی اے ای اے سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ ایران کے جوہری افزدوگی کے مقام کا دورہ کریں جب کہ وہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 میں ہونے والے معاہدے کے بھی شدید نقاد ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG