رسائی کے لنکس

عرب ممالک میں احتجاج کیوں ہو رہے ہیں؟

فائل فوٹو
فائل فوٹو

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک رپورٹ کے مطابق بے روز گاری اور معاشی سست روی وہ وجوہات ہیں جس سے متعدد عرب ممالک میں معاشرتی تناو اور احتجاج کےسلسلے سامنے آ رہے ہیں۔

فرانسسیسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے علاقائی معاشی اشاریوں سے متعلق ریجنل اکنامک آؤٹ لوک رپورٹ کا اجرا کیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ کے ممالک میں ترقی کی سست روی کے باعث بدامنی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پیر کے روز جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں معاشی نمو میں کمی کے اشاریے سامنے آنے کی بڑی وجہ بین الاقوامی سطح پر ہونے والے اقدامات اور فیصلے ہیں۔

آئی ایم ایف کے مشرق وسطی اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد ازعور کا کہنا ہے کہ اس خطے میں وہ ممالک کی معاشی نمو کم ہے، ان کو بے روزگاری کے خاتمے کے حوالے سے اقدامات کی ضرورت ہے۔

لبنان میں کئی روز سے حکومت مخالف احتجاج جاری ہے — فائل فوٹو
لبنان میں کئی روز سے حکومت مخالف احتجاج جاری ہے — فائل فوٹو

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق جہاد ازعور نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ہم ایک ایسے خطے میں رہ رہے ہیں جہاں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 25 سے 30 فی صد تک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس خطے میں معاشی نمو کی ایک سے دو فی صد تک ضرورت ہے۔ جس سے کسی حد تک نوجوانوں میں نوکریاں نہ ہونے کی شکایت کم ہونے کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عرب ممالک میں بے روزگاری کی شرح زیادہ ہونے کی وجہ سے معاشرتی تناؤ بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس خطے میں مجموعی طور پر بے روزگاری کی شرح 11 فی صد ہے۔

آئی ایم ایف کی رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ خاص طور پر خواتین بھی روزگار کے حصول میں کامیاب نہیں ہو پاتیں۔

سوڈان میں بھی حالیہ دنوں میں کئی بڑے مظاہرے کیے گئے — فائل فوٹو
سوڈان میں بھی حالیہ دنوں میں کئی بڑے مظاہرے کیے گئے — فائل فوٹو

رپورٹ میں 2018 کا حوالے دے کر کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس 18 فی صد خواتین کے پاس نوکری نہیں تھی۔

خیال رہے کہ ایک دہائی قبل 2010 میں متعدد عرب ممالک میں احتجاج اور مظاہرے شروع ہوئے تھے بعد ازاں شام، یمن اور لیبیا میں یہ احتجاج خانہ جنگی میں تبدیل ہوتے چلے گئے۔

گزشتہ برس سے ایک بار پھر عرب ممالک میں احتجاج دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ 2018 کے بعد الجزائر، سوڈان، عراق اور لبنان میں بڑے مظاہرے دیکھنے میں آ رہے ہیں جبکہ ان تمام ممالک میں احتجاج کرنے والے مظاہرین معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بدعنوانی کے خلاف اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

آئی ایم ایف کے مشرق وسطی اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد ازعور کا کہنا ہے کہ لبنان میں اس وقت بھی احتجاج جاری ہے جہاں نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ جبکہ وہاں گزشتہ کئی برس سے معاشی نمو سست روی کا شکار ہے۔

دوسری جانب آئی ایم ایف کی رپورٹ میں ایران کا ذکر کرتے ہوئے امریکہ کی جانب سے عائد پابندیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

لبنان میں حکومت مخالف احتجاج جاری

<p dir="RTL">دارالحکومت بیروت کے مرکز میں مظاہرین نے جمع ہونے کی کوشش کی تاکہ بینکوں اور دیگر بڑے کاروباری مراکز کے سامنے احتجاج کیا جا سکے۔</p>
1/9

دارالحکومت بیروت کے مرکز میں مظاہرین نے جمع ہونے کی کوشش کی تاکہ بینکوں اور دیگر بڑے کاروباری مراکز کے سامنے احتجاج کیا جا سکے۔

یہ احتجاج ایک ایسے وقت شروع ہوئے جب حکومت کی جانب سے واٹس ایپ، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے استعمال ہونے والے وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول استعمال کرنے والے صارفین پر 20 فیصد ٹیکس عائد کیاگیا۔
2/9 یہ احتجاج ایک ایسے وقت شروع ہوئے جب حکومت کی جانب سے واٹس ایپ، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے استعمال ہونے والے وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول استعمال کرنے والے صارفین پر 20 فیصد ٹیکس عائد کیاگیا۔
حالیہ احتجاج کے دوران مظاہرین کی جانب سے سعد الحریری کی حکومت سے مستعفی ہونے کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
3/9 حالیہ احتجاج کے دوران مظاہرین کی جانب سے سعد الحریری کی حکومت سے مستعفی ہونے کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
<p dir="RTL">ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق لبنان میں ہر تیسرا شخص غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔</p>
4/9

ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق لبنان میں ہر تیسرا شخص غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق احتجاج کے دوران سعد الحریری کی اتحادی جماعتیں&nbsp; حکومت سے الگ ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
5/9 میڈیا رپورٹس کے مطابق احتجاج کے دوران سعد الحریری کی اتحادی جماعتیں  حکومت سے الگ ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
<p dir="RTL">حکومتی اتحادی حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے حکومت سے مستعفی ہونے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔</p>
6/9

حکومتی اتحادی حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے حکومت سے مستعفی ہونے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔

<p dir="RTL">حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ اگر حکومت مزید کوئی اور ٹیکس لگاتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ انہیں بھی مظاہرین کے ہمراہ سڑکوں پر آنا ہوگا۔</p>
7/9

حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ اگر حکومت مزید کوئی اور ٹیکس لگاتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ انہیں بھی مظاہرین کے ہمراہ سڑکوں پر آنا ہوگا۔

حکومت کی جانب سے مظاہرین کو مذاکرات کی پیش کش کی گئی جبکہ مظاہرین نے حکومت سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کرنے سے صاف انکار کیا ہے۔
8/9 حکومت کی جانب سے مظاہرین کو مذاکرات کی پیش کش کی گئی جبکہ مظاہرین نے حکومت سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کرنے سے صاف انکار کیا ہے۔
آٹھ روز سے جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران درجنوں افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔
9/9 آٹھ روز سے جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران درجنوں افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔
Previous slide
Next slide

رپورٹ کے مطابق امریکی پابندیوں سے ایران کی معیشت بھی تاثر ہو رہی ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق تہران یومیہ پانچ لاکھ بیرل تیل اس وقت برآمد کر رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے پابندیاں عائد کیے جانے سے قبل ایران 20 لاکھ بیرل تیل یومیہ برآمد کر رہا تھا۔

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ تیل کے ذخائر سے مالا مال ممالک جو گلف کووآپریشن کونسل (جی سی سی) میں شامل ہیں رواں برس ان کا شرح نمو 0.7 فی صدر رہنے کا امکان ہے جبکہ گزشتہ سال ان کا شرح نمو 0.2 تھا جس کی وجہ تیل کی کم قیمتیں بتائی جا رہی ہے۔

آئی ایم ایف کے مشرق وسطی اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد ازعور نے کہا ہے کہ جی سی سی میں شامل ممالک تیل کے علاوہ دیگر ذرائع سے معیشت کی ترقی کی کوشش کرنی چاہیے۔ جبکہ چار سے پانچ سال قبل اصلاحات کا جو سلسلہ شروع کیا گیا تھا اس کو بھی تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیے

XS
SM
MD
LG