رسائی کے لنکس

رواں سال 86 ہزار ایرانیوں نے فریضۂ حج ادا کیا


خانہ کعبہ کا ایک فضائی منظر۔ 2 ستبمر 2017

پچھلے سال سکیورٹی معاملات پر دونوں ملکوں کے درمیان تعطل پیدا ہونے سے ایرانی حج کی ادائیگی کے لیے نہیں جا سکے تھے۔

فریضہ حج کی ادئیگی کے لیے ایرانیوں کو اجازت دینے پر تہران نے سعودی عرب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے دونوں علاقائی حریفوں کے درمیان بات چیت کا دروازہ کھل گیا ہے۔

ایران کے حج أمور کے سربراہ علی گلزار عسکر نے کہا ہے کہ ایرانی عازمین حج کے لیے نیا طریقہ اختیار کرنے پر ہم سعودی عرب کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا ہے کہ اس سال تقریباً 86 ہزار ایرانیوں نے فریضہ حج ادا کیا ۔ پچھلے سال سیکیورٹی معاملات پر دونوں ملکوں کے درمیان تعطل پیدا ہونے سے ایرانی حج کی ادائیگی کے لیے نہیں جا سکے تھے۔

سعودی عرب میں سن 2015 میں حج کے موقع پر بھگڈر مچنے سے 2300 حاجی ہلاک ہوگئے تھے جن میں سینکڑوں ایرانی بھی تھے۔ اس سانحے پر تہران نے عازمین حج کے لیے سعودی عرب کے انتظامات پر کڑی نکتہ چینی کی تھی۔

اثنا نیو ز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عسکر نے کہا کہ ملکوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو تے رہتے ہیں لیکن فریقین کے لیے سب سے اہم چیز یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔

انہوں نے کہا کہ اس بار کامیابی سے حج کے انتظامات کرنے کے بعد، یہ دونوں ملکوں کے لیے ایک اچھا موقع ہے کہ وہ دوسرے معاملات میں اپنے دو طرفہ اختلافات حل کرنے کی کوشش کریں۔

سعودی عرب میں ایک معروف شیعہ مذہبی راہنما کو موت کی سزا دیے جانے کے بعد جنوری 2016 میں ایک مشتعل ہجوم نے تہران میں سعودی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا تھا جس سے دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات ختم ہو گئے تھے۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایک آن لائن اخبار خبر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تعلقات میں سعودی عرب کی جانب سے ایک واضح مثبت تبدیلی کے منتظر ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG