رسائی کے لنکس

ایران، سعودی عرب کے سفارتی تعلقات کی جلد بحالی کا امکان


ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف ۔ فائل فوٹو

پچھلے سال جنوری میں سعودی عرب میں ایک شیعہ دینی راہنما کی سزائے موت کے خلاف  احتجاج کرنے والے مظاہرین نے تہران میں واقع سعودی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا تھا جس کے فوری بعد سعودی حکومت نے ایران میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا۔

ایران اور سعودی عرب کے درمیان جلد ہی سفارتی وفود کی آمد ورفت ہونے والی ہے۔

تہران نے بدھ کے روز سفارتی عہدے داروں کے تبادلوں کی جانب اشارہ کیا جس کے بعد یہ قیاس آرائی کی جا رہی ہے دونوں علاقائی حریفوں کے درمیان پچھلے سال سے جاری کشیدہ تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے۔

ایران کے خبررساں ادارے اثنا کے مطابق وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ سفارتی وفود کے تبادلوں کے لیے حج کے بعد ویزے جاری کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم آخری مراحل کی تکمیل کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ دونوں ملکوں کے سفارت کار اپنے سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں جا سکیں اور ان کی دیکھ بھال کر سکیں۔

پچھلے سال جنوری میں سعودی عرب میں ایک شیعہ دینی راہنما کی سزائے موت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین نے تہران میں واقع سعودی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا تھا جس کے فوری بعد سعودی حکومت نے ایران میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا۔

اس سال کے دوران ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات سب سے زیادہ خراب رہے اور اس دوران دونوں ملک شام، عراق اور یمن میں جاری لڑائیوں کے حوالے سے ایک دوسرے پر إلزام لگاتے رہے۔

سعودی عرب اور کئی عرب ریاستوں نے قطر پر یہ إلزام لگاتے ہوئے اس سے اپنے رابطے منقطع کر دیے کہ وہ ایران کی حمایت کرتا ہے۔

ایران سعودی عرب پر یہ إلزام لگا چکا ہے کہ تہران میں 7 جون کو ہونے والے دوہرے حملوں میں اس کا ہاتھ تھا جب کہ داعش نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

تہران کے حملوں میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 40 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

ریاض نے تہران کا إلزام مسترد کرتے ہوئے ان حملوں میں کسی بھی طرح ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔

اس وقت ہزاروں ایرانی حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں موجود ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG