رسائی کے لنکس

logo-print

تعزیرات اٹھنے کے بعد، ایران سعودی تعلقات پر ناقدین کی نظریں


تجزیہ کار، کیفرو کے مطابق، ’سعودی قیادت ایران کے لیے اوباما انتظامیہ کے سفارتی جھکاؤ کو تقریباً بے وفائی کا درجہ دیتا ہے۔ اور یہ کہ وہ اِنہیں مشرق وسطیٰ کے خطے اور حکمتِ عملی کے حامل مفادات کے لحاظ سے ایک اہم رکاوٹ گردانتا ہے‘

اب جب کہ ایران کے خلاف تعزیرات اٹھا لی گئی ہیں، تجزیہ کار اسلامی جمہوریہ کے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات، خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ مراسم پر قریبی نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔

سعودی عرب خطے کا وہ ملک ہے جس کی اکثریت سنی آبادی پر مشتمل ہے، اُسے کئی اعتبار سے سبقت حاصل ہے، جب کہ شیعہ آبادی والا ایران عالمی معیشت میں دوبارہ قدم رکھنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ بات خلیجی ریاستوں کے تجزیاتی ادارے کے بانی، جورجیو کفیرو نے کہی ہے۔
پابندیاں اٹھنے کے بعد، اسلامی جمہوریہ کی بیمار معیشت میں جان پڑے گی، جسے متوقع طور پر 100 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے میسر آئیں گے۔

اب تک دسترس سے دور یہ خزانہ ہاتھ چڑھنے کو موجودہ اصلاح پرست حکومت کی ایک قابلِ بیان کامیابی خیال کیا جا رہا ہے۔

ایران کے مرکزی بینک نے منگل کے روز کہا ہے کہ پہلے ہی 32 ارب ڈالر مل چکے ہیں، اور تیل کی بین الاقوامی تجارت اور فضائی سفر کی صنعتیں دوبارہ فعال ہو چکی ہیں۔

جوہری مذاکرات کے ذریعے، جو تعزیرات اٹھائے جانے پر منتج ہوئے، ایران کو اپنے جوہری پروگرام کی سطح گھٹائے رکھنی ہے۔ کفیرو کے مطابق، امریکہ ایران تعلقات پر سعودی عرب کا شبہ بڑھتا جا رہا ہے۔ سعودی عرب امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کو امریکہ سعودی تعلقات کے لیے خطرہ خیال کرتا ہے۔
بقول اُن کے، ’سعودی قیادت ایران کے لیے اوباما انتظامیہ کے سفارتی جھکاؤ کو تقریباً بے وفائی کا درجہ دیتا ہے۔ اور یہ کہ وہ اِنہیں مشرق وسطیٰ کے خطے اور حکمتِ عملی کے حامل مفادات کے لحاظ سے ایک اہم رکاوٹ گردانتا ہے‘۔

کفیرو کے مطابق، حالیہ دِنوں، سعودی عرب کی جانب سے ایک معروف شیعہ عالم کو سزائے موت دینے کے عمل سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ بادشاہت اس کی اہمیت کو معمولی نہیں سمجھتی۔ سزائے موت کے نتیجے میں ایران میں سعودی سفارت خانے پر حملہ ہوا جب کہ خطے کے دونوں بڑے ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہوئے۔

بقول اُن کے، ’شیخ نمر النمر کی سزائے موت سے سعودی نہ صرف داخلی طور پر بلکہ امریکہ کو بھی یہی پیغام دینا چاہتے تھے۔ آسان زبان میں، سعودی عرب ایران کی جانب سے اپنے دائرہٴ اثر کو وسعت دینے کے ارادوں کو اپنے شرائط پر مانے گا‘۔

ایران اور سعودی عرب کو عام طور پر ایک دوسرے کے مخالف سمجھا جاتا ہے، کیونکہ دونوں ملک اپنے آپ کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ایک فریق کی جانب سے معاشی یا جغرافیائی طور پر برتری کو اُسی اعتبار سے مخالف کے لیے نقصان دہ خیال کرتے ہیں۔
تاہم، معیشت دانوں کے مطابق، ایران کو شدید کساد بازاری درپیش ہے جس کا سبب نہ صرف تعزیرات تھیں بلکہ جاری بدعنوانی اور بدانتظامی ہے۔ اور بتایا جاتا ہے کہ کئی سالوں کے بعد جا کر ایک عام ایرانی کو پابندیوں میں نرمی کے فوائد کا إحساس ہوگا۔
ایرانی صدر حسن روحانی نے منگل کے روز کہا کہ ایسے میں جب ایران عالمی مشیعت میں پھر سے قدم رکھ رہا ہے، اُن کے ملک کے لیے تعزیرات اٹھائے جانے کے بعد کا سفر ایک ’مشکل‘ مرحلہ ہے۔

بقول اُن کے، ’ایک بے گناہ فرد پھر سے چلنے کی کوشش کرے گا، جسے 12 برس تک ہاتھ پاؤں باندھ کر رکھا گیا۔ تعزیرات جا چکیں، لیکن تعزیرات اور ترقی کے مابین ایک طویل خلیج ہے‘۔

روحانی کے اِن کلمات سے دو ہی روز قبل، ایران کے بیلاسٹک میزائل پروگرام پر امریکہ نے نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔

XS
SM
MD
LG