رسائی کے لنکس

ترکی اور شام کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہیں: ایران


جواد ظریف (فائل)

ایران کی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ شام میں تقریباً نو سال سے جاری لڑائی کے معاملے پر ترکی اور شام کے اختلافات کے حل کے لیے ایران کردار ادا کرنے پر تیار ہے۔ ساتھ ہی، ایران نے کہا ہے کہ وہ شام کے اپنے کلیدی اتحادی کے اقتدار اعلیٰ کی حمایت کرتا ہے۔

ترکی باغیوں کا حامی ہے جو شامی صدر بشار الاسد کو ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں، جب کہ ایران اور روس لڑائی میں اسد کی فوج کی حمایت کرتے ہیں۔

ساتھ ہی، تینوں ملک اس تنازع کے سیاسی حل کے سلسلے میں تعاون بھی کرتے ہیں۔

ایرانی اہل کاروں اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام، گائر پدرسن کی ملاقات کے دوران، ایران نے سفارت کاری کے ذریعے شام کے معاملے کو حل کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ یہ بات ایران کی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر درج خبر میں کہی گئی ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق، ''ملاقات کے دوران ایران نے اس بات کا اعادہ کیا کہ شام میں شہری آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے؛ اور یہ کہ معاملے کو حل کرنے کے لیے ایران ترکی اور شام کے مابین ثالثی کا کردار ادا کرنے پر تیار ہے''۔

ایران کے سرکاری تحویل میں کام کرنے والے ٹیلی ویژن نے اطلاع دی ہے کہ تہران میں ایک علیحدہ ملاقات کے دوران، وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایران شام کے بحران میں کشیدگی کو کم کرنے میں مدد دینے پر تیار ہے، جس سے شام کی آزادی اور خودمختاری کو یقینی بنایا جا سکے۔

روسی پشت پناہی والی شامی افواج نے شام کے صوبہ ادلب کو فتح کرنے کی کوششیں کی ہیں، جو ملک میں باغیوں کا آخری مضبوط گڑھ ہے، اور دسمبر کے اوائل سے کی جانے والی اس کارروائی میں اب تک پانچ لاکھ سے زائد افراد بے دخل ہو چکے ہیں۔

ترکی کے صدر طیب اردوان نے دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر شامی فوجیں اس ماہ کے آخر تک ادلب سے نکل نہیں جاتیں، تو ترکی انھیں طاقت کے ذریعے باہر نکال دے گا۔

اس سے قبل پیر کو سرقب کے قصبے کے قریب شامی حکومت کی گولہ باری کے نتیجے میں آٹھ ترک فوجی ہلاک ہوئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG