رسائی کے لنکس

logo-print

روسی اور شامی فورسز کی کارروائیوں سے ادلب میں چار لاکھ افراد بے گھر


فائل

اقوام متحدہ نے جمعرات کو بتایا کہ دسمبر کے اوائل میں شام میں حزب مخالف کے زیر کنٹرول صوبہ ادلب میں روسی پشت پناہی میں کی جانے والی کارروائی کے دوران تقریباً ساڑھے تین لاکھ شامی افراد کو، جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، جان بچانے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر جانا پڑا۔

بے گھر ہونے والے زیادہ تر افراد نے ترکی کے قریب سرحدی علاقوں میں پناہ لی ہے۔

انسانی ہمدردی کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر نے بتایا ہے کہ بگڑتی ہوئی مخاصمانہ صورت حال کے نتیجے میں انسانی بہبود کی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
حالیہ ہفتوں کے دوران، روسی جیٹ طیاروں اور شامی گولہ باری کے نتیجے میں قصبہ جات اور دیہات زد میں آئے ہیں۔ یہ حملے اس وقت ہوئے جب ایران نواز میلشیاؤں کی حمایت سے ایک بھرپور حملہ کیا گیا، جس کا مقصد اپوزیشن کا صفایا کرنا تھا۔

عمان میں قائم اقوام متحدہ کے علاقائی دفتر کے ترجمان، ڈیوڈ سوانسن نے رائٹرز کو بتایا کہ ’’بے دخل ہونے والوں کی اس تازہ ترین کھیپ کے بعد ادلب میں انسانی ہمدردی کا کام مشکل تر ہو گیا ہے‘‘۔

ترکی اور روس نے اتوار کے روز باضابطہ جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ دو روز بعد، روسی اور شامی جیٹ طیاروں نے اپوزیشن کنٹرول کی شہری آبادی پر بمباری کا سلسلہ پھر سے شروع کیا۔

شام سے متعلق اقوام متحدہ کے جنگی جرائم کے تفتیش کار، کرن ابو زید نے جنیوا میں رائٹرز کو بتایا کہ مخالفین کے زیر کنٹرول علاقوں میں تباہ ہونے والے یا بند پڑے ہوئے اسکولوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے والے افراد کو پناہ دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

عالمی ادارے کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ بے دخل ہونے والے ان افراد کی اس نئی کھیپ کے بعد متاثرین کی کل تعداد چار لاکھ ہو چکی ہے، جو اس سے قبل پناہ لینے کے لیے ترکی کی سرحد کے قریب خیمہ بستی کی طرف چلے گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG