رسائی کے لنکس

logo-print

'امریکہ جنگی جنون چھوڑ کر ایران سے متعلق جارحانہ پالیسی ترک کرے'


ایران کے صدر حسن روحانی۔ (فائل فوٹو)

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکہ جنگی جنون رکھنے والوں کو ہٹا کر ایران سے متعلق اپنی جارحانہ پالیسی ترک کر دے۔

ایران کے صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

خیال رہے کہ جان بولٹن ایران کے حوالے سے سخت موقف رکھتے تھے۔ اور وہ صدر ٹرمپ پر زور دیتے آئے تھے کہ مذاکرات کی بجائے ایرانی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے شام میں فوج کی تعداد میں اضافہ کریں۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری کیے گئے بیان میں حکومتی ترجمان علی ربیعی نے کہا کہ جان بولٹن کو ہٹائے جانے سے امریکہ کے ایران سے متعلق عداوت پر مبنی رویے کی حوصلہ شکنی ہو گی۔

علی ربیعی کے مطابق جان بولٹن کو فارغ کرنا امریکہ کا اندرونی معاملہ ہے۔ تاہم وہ امریکہ کی ایران سے متعلق مخاصمانہ پالیسی کا استعارہ تھے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات گزشتہ سال سے کشیدہ ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ سال 2015 میں ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر الگ ہو گئے تھے۔

قومی سلامتی کے سابق مشیر جنہیں صدر ٹرمپ نے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ (فائل فوٹو)
قومی سلامتی کے سابق مشیر جنہیں صدر ٹرمپ نے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ (فائل فوٹو)

ایران 2015 میں امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کے بعد سالہا سال کی اقتصادی تنہائی سے باہر آیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے رواں سال ایران سے تیل درآمد کرنے والے آٹھ بڑے ممالک کو بھی ایرانی خام تیل درآمد کرنے سے روک دیا تھا۔ ایران نے بھی ردعمل کے طور پر جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کی دھمکی دی تھی۔

ایران نے گزشتہ دنوں جوہری معاہدے میں طے شدہ یورینیم افزودگی کی شرح سے زائد یورینیم افزودہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جب کہ ایران کے صدر نے بھی کہا تھا کہ یورینیم افزودگی کے لیے جدید سینٹری فیوجز بنانے کا عمل تیز کر دیں گے۔

ایران نے جون میں آبنائے ہرمز کے اوپر پرواز کرنے والا ڈرون طیارہ بھی مار گرایا تھا۔ جس کے جواب میں امریکہ کے صدر نے ایرانی تنصیبات پر حملے کا فیصلہ عین وقت پر واپس لے لیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG