رسائی کے لنکس

برٹش ایئر ویز اور ایئر فرانس کا تہران کے لیے پروازیں بند کرنے کا اعلان


برٹش ایئر ویز اور ایئر فرانس نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ وہ کاروباری وجوہات کی بنا پر ستمبر سے ایران کے لیے اپنی پروازیں بند کر رہے ہیں۔

کئی مہینے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ تہران پر دوبارہ پابندیاں نافذ کر رہے ہیں۔

برٹش ائیر ویز نے کہا ہے کہ وہ لندن سے تہران تک کے لیے اپنی پروازیں معطل کر رہا ہے کیونکہ اس وقت اس روٹ پر جہاز اڑانا کاروباری لحاظ سے فائدہ مند نہیں رہا۔

برٹش ائیر کا کہنا ہے کہ تہران کے لیے اس کی آخری فلائٹ 22 ستمبر کو جائے گی جب کہ وہاں سے لندن کے لیے اس کی آخری پرواز 23 ستمبر کو ہو گی۔

ایئر فرانس نے بھی کہا ہے کہ کاروباری نقصان کی وجہ سے وہ پیرس سے تہران کے لیے اپنی پروازیں بند کر رہا ہے اور پیرس سے اس کی آخری فلائٹ 18 ستمبر کو جائے گی۔

ایئر لائن کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم اپنی پروازیں اس لیے بند کر رہے ہیں کیونکہ اس روٹ پر سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد بہت گھٹ گئی ہے اور فلائٹ منافع بخش نہیں رہی۔

تاہم جرمنی کی ایئر لائن لفتھاسا نے کہا ہے کہ اس کا تہران کے لیے اپنی پروازیں بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

کمپنی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم صورت حال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں ۔ فی الحال ہمارا تہران کے لیے اپنی پروازوں میں تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے امریکہ کو نکال لینے کے باوجود یورپی یونین ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والے عالمی معاہدے پر قائم رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس مہینے ایران پر کچھ نئی امریکی پابندیاں عائد ہو گئی ہیں۔ جب کہ یورپی یونین تہران کے ساتھ اپنی تجارت برقرار رکھنے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے اور امریکی پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے یورپی یونین نے جمعرات کو ایران کو دو کروڑ چھ لاکھ ڈالر امداد دینے پر اتفاق کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG