رسائی کے لنکس

logo-print

تہران میں لڑکیوں کو گاڑی کے پینٹ اور پالش کا کام سکھانے والی ’مس ڈیٹیلر‘


مریم روحانی نے ترکی سے گاڑیوں کے پینٹ اور پالش کا کورس کیا ہے۔

تہران میں ’مردوں کے لیے مخصوص‘ گاڑیوں کی مرمت کی دکانوں کی مارکیٹ میں 34 برس کی مریم روحانی مٹی اور گریس لگے یونی فارم، کالی جینز اور بیس بال کیپ کے ساتھ گاڑیوں کی پالشنگ اور پینٹ کرتی نظر آتی ہیں۔

ایران اور ترکمانستان کی سرحد کے قریب آغ مزار کے گاؤں سے تعلق رکھنے والی مریم نے کئی دوسری لڑکیوں کی طرح گھر میں بیٹھنے کے بجائے گاڑیوں کی مرمت کا کام سیکھا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، مریم کا کہنا ہے کہ انہوں نے بہت سی سماجی روایتیں توڑی ہیں۔ ان کے بقول، انہوں نے اس کام کے لیے بہت مخالفت بھی دیکھی مگر انہوں نے یہ راستہ اپنے لیے خود چنا۔

دنیا بھر کی طرح ایران میں بھی گاڑیوں کی انڈسٹری میں مردوں کی اکثریت ہے۔ لیکن اب ایران کے کئی شہروں میں خواتین، مختلف شعبوں میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔ ایران میں کالج سے گریجویٹ ہونے والے طلبا و طالبات میں طالبات کی تعداد تقریباً نصف ہے۔

مریم روحانی کے والد کسان تھے۔ ان کے بہن بھائیوں کے برعکس، انہیں والد کے ٹریکٹر چلانے کا شوق تھا۔ جب وہ ہئیرڈریسر کے طور پر کام کرتے ہوئے میک اپ آرٹسٹ بننے کی تربیت کر رہی تھیں، تب بھی انہوں نے گاڑیوں کے پینٹ کی تربیت حاصل کی۔

خاندان والوں کی مخالفت کے باوجود انہوں نے کچھ پرانی گاڑیاں کم قیمت پر خریدیں تاکہ وہ گاڑیوں کی پالش اور پینٹ کر کے انہیں بہتر بنا سکیں۔ لیکن ان کے خاندان نے ان کے والد سے سماجی رابطے منقطع کرنے کی دھمکی دی۔ ان کے والد نے اس کے باوجود ان کی حوصلہ افزائی کی۔

اس کام کے لیے وہ ترکی گئیں اور وہاں سے گاڑیوں کے پینٹ اور پالش کا بین الاقوامی تربیتی کورس کیا۔

اپنا کورس ختم کرنے کے بعد انہوں نے تہران میں ایک گیراج کرائے پر لیا اور اپنا کام شروع کر دیا۔ اے پی کے مطابق ملک کی پہلی خاتون جو گاڑیوں کے پینٹ اور پالش کا کام کرتی تھیں۔ ان کی دوکان پر لوگوں کے ہجوم نے آنا شروع کر دیا۔ لوگ شوق سے ان سے کام کرواتے ہیں اور پھر اپنی تصاویر انسٹاگرام پر اپلوڈ کرتے ہیں۔

ان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر انہیں ’مس ڈیٹیلر‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔

مریم کا کہنا ہے کہ یہ سب اتنا آسان نہ تھا۔ ان کے مرد ساتھیوں نے ان کے کام میں رخنے ڈالے۔ کئی بار انہیں اپنی دوکان میں توڑ پھوڑ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ سب دیکھ کر ملک سے بھاگ جانا چاہتی تھیں مگر پھر انہیں تہران میں ایک بڑی آٹو شاپ نے نوکری دی۔ پچھلے کئی برس سے وہ وہاں ہی گاڑیوں کی پالشنگ، ڈیٹیلنگ اور واشنگ کا کام کر رہی ہیں۔

روحانی اب دوسری خواتین کو بھی تربیت دے رہی ہیں۔ ان کی آن لائن ویڈیوز میں انہیں ایک پرانی شورلیٹ شیویل کار یا سیاہ رنگ کی بی ایم ڈبلیو کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے جن کی انہوں نے دیدہ زیب ڈیٹیلنگ اور پالشنگ کر رکھی ہے۔

روحانی سے گاڑیوں کا کام سیکھنے والے شاگردوں میں سے ایک، فرح ناز دیراوی نے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب انہیں میں نے انہیں گاڑیاں ٹھیک کرتے ہوئے دیکھا تو میں بہت خوش ہوئی، کیونکہ تہران میں عورتوں پر بہت سی پابندیاں ہیں۔ کوئی ہم خواتین پر ایسے کاموں کے لیے اعتبار نہیں کرتا۔‘‘

ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں، امریکہ کے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد، ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں، جن کے تحت ایران کے بیرون ملک سے گاڑیوں کی درآمد پر بھی پابندی عائد ہو گئی، اور ایران میں گاڑیوں کی مرمت کا کام عروج پر پہنچ گیا۔ ایسو سی ایٹڈ پریس کے مطابق اس کی وجہ سے ایران میں گاڑیوں کی قیمتیں چار گنا سے زائد بڑھ چکی ہیں اور ایران کے امراٗ بھی پرانی گاڑیوں کی مرمت پر رقم خرچ کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

مریم روحانی اب بھی یورپ جا کر کام کرنا چاہتی ہیں اور وہاں اپنا گیراج کھولنا چاہتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG