رسائی کے لنکس

logo-print

عراق کی تعمیرِ نو کے لیے 100 ارب ڈالر درکار


بغداد

عراقی حکومت اور عالمی بینک کی جانب سے لگائے گئے تخمینے کے مطابق، داعش کے ہاتھوں متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا اندازہ 45.7 ارب ڈالر لگایا گیا ہے

ایسے میں جب کویت میں تعمیر نو کا بین الاقوامی اجلاس شروع ہوچکا ہے، پیر کے روز حکومتِ عراق کی توقعات مدھم پڑ گئیں جسے امید تھی کہ داعش کے دہشت گرد گروپ کے مسمار کردہ علاقوں کی تعمیر نو کے لیے 100 ارب ڈالر اکٹھے ہو جائیں گے۔

عراقی کابینہ کے وزرا کی کمیٹی کے سربراہ، مہدی العلیک نے کہا ہے کہ ’’حکومت نے اہم اور خطرناک چیلنجوں کا سامنا کیا ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ داعش کے دہشت گرد گروپ کو شکست دینے کے لیے ملک نے تین سے زیادہ برس تک طویل جدوجہد کی۔

ایک مرحلے پر داعش نے عراق کے ایک تہائی علاقے پر قبضہ جما رکھا تھا۔

علیک نے توجہ دلائی کہ ’’اس کے نتیجے میں معاشی اور ترقیاتی عمل تہ و بالا ہوچکا تھا، خاص طور پر ملک کو شدید دہشت گرد حملے لاحق تھے، جس کے باعث حکومت نے اپنی ترجیحات بدلیں، تاکہ ملک کی آزادی پر توجہ دی جاسکے۔‘‘

اُسی وقت، تیل کے عالمی نرخ تیزی سے گرے، جس کے نتیجے میں عراق کی معیشت کو شدید دھچکا لگا۔

عراقی حکومت اور عالمی بینک کی جانب سے لگائے گئے تخمینے کے مطابق، داعش کے ہاتھوں متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا اندازہ 45.7 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

وصولی اور تعمیرات نو کی ضروریات 88ارب ڈالر سے بھی زائد ہیں، جب کہ حکومت اس بات کی کوشاں ہے کہ اگلے ایک عشرے تک کام جاری رکھنے کے لیے 100ارب ڈالر اکٹھے کیے جائیں۔

بڑے عطیات کی توقعات معدوم ہو چکی ہے، ایسے میں جب گذشتہ ہفتے اِن رپورٹوں کی تصدیق ہوئی کہ امریکہ اضافی چندہ دینے کا کوئی وعدہ نہیں کرے گا۔ اسی طرح، خلیج کی دولت مند عرب ریاستوں کی جانب سے بھی کوئی خاص عطیات کی امید نہیں۔

توقع ہے کہ عراق میں سرمایہ کاری کے لیے منگل کو ہونے والے اجلاسوں میں 60 ملکوں سے تعلق رکھنے والی تقریباً 2000 کمپنیاں شریک ہوں گی۔

عراق، کویت، یورپی یونین، اقوام متحدہ اور عالمی بینک اجلاس میں شریک صدر کے طور پر شامل ہوں گے، جنھیں امید ہے کہ وہ رقوم جمع کر سکیں گے۔

کانفرنس کے اہل کاروں نے بتایا ہے کہ امریکہ کی 150سے زائد کمپنیاں اجلاسوں میں شریک ہوں گی، جو کہ کسی ملک کا سب سے بڑا وفد ہوگا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG