رسائی کے لنکس

logo-print

آئرلینڈ میں ہم جنس پرستوں کی شادی پر ریفرنڈم


آئرلینڈ میں رائے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ ایک ہی جنس سے تعلق رکھنے والے افراد کی شادی کو 53 سے 69 فیصد شہریوں کی حمایت حاصل ہے، جبکہ 24 سے فیصد26 کی رائے ’’نہیں‘‘ ہے۔

آئرلینڈ کے شہری جمعہ کو اس سوال پر ووٹ کے ذریعے اپنی رائے دیں گے کہ آیا ایک جنس سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان شادیوں کی اجازت دینے کے لیے آئین میں ترمیم کی جائے یا نہیں۔ آئرلینڈ سماجی طور پر ایک قدامت پسند ملک ہے۔

اگر ریفرنڈم کا اکثریتی جواب ’ہاں‘ ہو ا تو آئرلینڈ وہ پہلا ملک ہو گا جہاں ہم جنس شادیوں کی منظوری عام رائے شماری سے دے جائے گی۔

یورپ میں ایک درجن سے زائد ممالک میں ہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت ہے۔ ایسی شادیوں کو ارجنٹینا، برازیل، کینیڈا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ اور یوروگے میں بھی قانونی حیثیت دی جا چکی ہے۔

آئرلینڈ میں رائے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ ایک ہی جنس سے تعلق رکھنے والے افراد کی شادی کو 53 سے 69 فیصد شہریوں کی حمایت حاصل ہے، جبکہ 24 سے فیصد26 کی رائے ’’نہیں‘‘ ہے۔

قدامت پسند رومن کیتھولک چرچ آئرلینڈ میں خاصا اثر رسوخ رکھتا ہے۔ بہت سے پادریوں نے اس آئینی ترمیم کی مخالفت کی ہے۔ اس کے برعکس آئرلینڈ کی سیکولر حکومت اس کی حامی ہے۔

’’ہاں‘‘ کا جواب تبھی ممکن ہو گا جب لوگ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے آئیں گے، خصوصاً نوجوان افراد جو تاریخی طور پر بڑی تعداد میں ووٹ نہیں ڈالتے۔

آئرلینڈ میں 1993 تک ہم جنس پرستی جرم تھی۔ اس ریفرنڈم کے نتائج ہفتہ تک متوقع ہیں۔

XS
SM
MD
LG