رسائی کے لنکس

اسلام آباد ہائی کورٹ کا دھرنا 24 گھنٹوں میں ختم کرانے کا حکم


دھرنے کے باعث جڑواں شہروں کے رہائشیوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے

عدالت نے حکم دیا کہ ضلعی انتظامیہ اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین سے فیض آباد خالی کرائے،پرامن طریقہ یا طاقت کا استعمال جیسے بھی ہو فیض آباد کو خالی کرایا جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد کے ایک مرکزی داخلی راستے پر گزشتہ لگ بھگ دو ہفتوں سے جاری دھرنا ختم کرانے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو ہفتے کی صبح دس بجے تک کی مہلت دے دی ہے۔

دھرنا ختم کرنے کا حکم اسلام آباد کے ایک شہری عبدالقیوم کی جانب سے دائر درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی نے جمعے کی صبح سنایا۔

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کیپٹن( ر) مشتاق اور ڈی آئی جی آپریشن بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ دھرنے میں شریک افراد نے پتھر جمع کیے ہوئے ہیں، اسپیشل برانچ کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین کے پاس 10 سے 12 ہتھیار بھی ہیں، دھرنے میں 18 سو سے دو ہزار کے قریب افراد شامل ہیں اور نماز جمعہ کے بعد یہ تعداد بڑھنے کا اندیشہ ہے۔

ڈی سی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کو آپریشن کے لیے تین سے چار گھنٹوں کا وقت درکار ہے، نمازِ جمعہ کے بعد اندھیرا جلد پھیل جاتا ہے اور اندھیرے میں آپریشن سے نقصان ہو سکتا ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ ضلعی انتظامیہ اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین سے فیض آباد خالی کرائے، پرامن طریقہ یا طاقت کا استعمال جیسے بھی ہو فیض آباد خالی کرایا جائے۔

جج شوکت عزیز صدیقی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہمارے دین میں تو حکم ہے کہ جنگ کے دنوں میں بھی بوڑھوں، عورتوں، بچوں کو کچھ نہ کہیں، ضلعی انتظامیہ اپنے اختیارات کے استعمال میں ناکام رہی ہے، ضلعی انتظامیہ نے دھرنا ختم کرانے کے لیے اپنے اختیارات کا استعمال نہیں کیا۔

جسٹس صدیقی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں دھرنے اور مظاہروں کے لیے جگہ مختص کی جا چکی ہے،دھرنے اور مظاہرے کے لیے ڈیموکریسی اینڈ اسپیچ کارنر مختص کیا گیا ہے، کوئی بھی شہری اپنے آزادیٔ اظہارِ رائے کے استعمال میں یہ خیال رکھے کہ اس سے دوسرے شہری کو تکلیف نہ ہو۔

عدالت نے انتظامیہ کو حکم دیا کہ مذاکرات کے ذریعے کوشش کریں کہ دھرنا ختم ہو جائے، بات چیت ناکام ہونے پر رینجرز اور ایف سی کے ذریعے دھرنا دینے والوں کے خلاف آپریشن کریں۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ ناکام ہو گئی ہے اور 10 دن میں اس نے محض کرکٹ کے تماشائی کا کردار ادا کیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کو مذہبی جماعتوں کو فیض آباد انٹرچینج پر گزشتہ کئی روز سے جاری دھرنا ختم کرنے کا حکم دیا تھا تاہم عدالتی حکم کے باوجود مذہبی جماعتوں کا دھرنا جمعے کو بھی جاری ہے۔

فیض آباد انٹرچینج اوراطراف کی سڑکیں جمعے کو بھی ٹریفک کے لیے بند ہیں جس کے باعث عام شہریوں، سرکاری ملازمین اور طلبہ و طالبات کو شدید سفری مشکلات کا سامنا ہے جب کہ فیض آباد اور اطراف کے علاقے میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔

جڑواں شہروں کو ملانے والے متبادل راستوں پر ٹریفک کا شدید رش ہے، ٹریفک پولیس ٹریفک کو رواں دواں رکھنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔

دھرنا دینے والی جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ مطالبات کی منظوری تک دھرنا ختم نہیں کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG