رسائی کے لنکس

logo-print

چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے خلاف گیلانی کی درخواست مسترد، پیپلزپارٹی اب کیا کرے گی؟


اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئرمین سینیٹ کے انتخابی نتائج بدلنے کی درخواست خارج کرنے پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ پارلیمانی معاملات عدالتوں میں لانے کے بجائے پارلیمنٹ کو خود اس کا حل تلاش کرنا چاہیے۔

عدالت نے آئین کے آرٹیکل 69 کا حوالہ دیا تھا جس کے مطابق پارلیمان میں ہونے والی کسی بھی کارروائی کو آئین کا تحفظ حاصل ہے اور یہاں پر ہونے والی کسی کارروائی کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عدالت کے اس فیصلے کے بعد پارلیمان کو سوچنا ہو گا کہ وہ کوئی ایسا فورم تشکیل دے جو ان تنازعات کو حل کرے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں اس وقت تنازع کھڑا ہو گیا تھا جب اپوزیشن جماعتوں کے اُمیدوار یوسف رضا گیلانی کے سات ووٹ مسترد ہونے سے حکومتی اُمیدوار صادق سنجرانی کو غیر متوقع کامیابی ملی تھی۔

پریزائیڈنگ آفیسر نے کہا تھا کہ سات سینیٹرز نے انتخابی قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے غلط مقام پر مہر لگائی جب کہ پیپلزپارٹی نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ قانونی طور پر یہ ووٹ مسترد نہیں ہو سکتے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر وکیل حامد خان ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 69 پارلیمان میں ہونے والی بحث کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ لیکن چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کی کارروائی کو آئینی تحفظ حاصل نہیں ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کو تنازعات کے حل کے لیے فورم بنانا ہو گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کو تنازعات کے حل کے لیے فورم بنانا ہو گا۔

اُن کے بقول سپریم کورٹ اب بھی یہ الیکشن کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

پاکستان میں جمہوری اقدار اور قانون سازی کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم 'پلڈاٹ' کے سربراہ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ پارلیمان کو اس بات پر سوچنا ہو گا کہ کوئی ایسا فورم تشکیل دیا جائے جہاں عدالتوں میں جائے بغیر سیاسی تنازعات کو حل کیا جا سکے۔

حامد خان نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کو چیلنج کرنے کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کا فورم ابھی موجود ہے۔

اس سوال پر کہ پارلیمان کے مسائل عدالتوں میں کیوں آتے ہیں؟ حامد خان کا کہنا تھا کہ پارلیمان میں متاثرہ فریق کی شنوائی کے لیے کوئی فورم موجود نہیں ہے۔ لہذٰا اس صورت میں ان کے لیے عدالت کا فورم ہی موجود تھا۔

بنیادی انسانی حقوق اور کسی جگہ شنوائی نہ ہونے سے متعلق آرٹیکل 10 کے بارے میں انہوں نے کہا کہ آئین میں لکھا ہے کہ اگر کسی شخص کی کسی جگہ شنوائی نہ ہو رہی ہو تو اس آرٹیکل کے مطابق عدالتیں اس بات کی پابند ہیں کہ وہ کسی بھی متاثرہ شخص کی بات سنیں۔ اس بنیاد پر بھی سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔

احمد بلال محبوب نے اس حوالے سے کہا کہ پارلیمان میں اس حوالے سے کوئی فورم ہونا چاہیے جہاں اس قسم کے معاملات پر الگ سے بحث کرکے انہیں عدالتوں میں جانے سے پہلے ہی حل کر لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں سینیٹ الیکشن کے دوران پریزائیڈنگ افسر نے جو رویہ اختیار کیا اور ناموں پر مہر لگانے پر ووٹ مسترد کیے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پریزائیڈنگ افسر کا یہ فیصلہ درست نہیں تھا لیکن یہ فیصلہ ہوا اور اب اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی آرٹیکل 69 کا حوالہ دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی تھی۔

احمد بلال محبوب نے کہا کہ "میرے خیال میں پاکستان پیپلز پارٹی اس معاملے کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کرے گی کیوں کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں الیکشن کے عمل کو پارلیمان کی پروسیڈنگ قرار دیا ہے جب کہ بعض قانونی ماہرین کی نظر میں سینیٹ میں کسی بل یا قانون سازی پر بات نہیں ہو رہی تھی کہ انہیں آئینی تحفظ دیا جائے۔"

اُن کے بقول اس نکتے کو پیپلز پارٹی چیلنج کرے گی اور دوسرا عدالت نے عدمِ اعتماد کی تحریک لانے کا ذکر کیا ہے اور اگر پیپلز پارٹی کے ساتھ اپوزیشن جماعتیں متحد ہوں تو یہ عمل بھی ممکن ہے۔ لیکن اس کے لیے تمام اپوزیشن جماعتوں کو مل کر چلنا ہو گا۔ بظاہر موجودہ صورتِ حال میں عدالت اس قسم کے پارلیمانی مسائل سے احتراز کرنا چاہ رہی ہے۔

تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا تھا کہ درخواست گزار کے مطابق پی ڈی ایم کے پاس چیئرمین سینٹ کے لیے اکثریت موجود ہے، اگر اکثریت موجود ہے تو پی ڈی ایم نہ صرف چیئرمین سینیٹ کو ہٹا سکتی ہے بلکہ یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ بنا بھی سکتی ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ سینیٹ کے ارکان کا یہ طریقہ استعمال کرنے سے پارلیمان کی عزت اور خود مختاری میں اضافہ ہو گا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے تھے کہ عدالت مطمئن ہے کہ آئینی طریقۂ کار کے استعمال سے واضح ہوجائے گا کہ ان سات سینیٹرز نے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیا تھا۔ یہ عدالت پارلیمان کے استحقاق سے متعلق آئین کے آرٹیکل 69 کے تحت تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

چیئرمین سینیٹ الیکشن میں کیا ہوا تھا؟

بارہ مارچ کو ہونے والے چیئرمین سینیٹ الیکشن کے دوران حکومتی امیدوار صادق سنجرانی نے 48 ووٹ حاصل کر کے پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی کو شکست دی تھی۔

یوسف رضا گیلانی نے 42 ووٹ حاصل کیے لیکن پریزائیڈنگ آفیسر کے مطابق ناموں کے آگے موجود خانے کے بجائے نام پر مہر لگانے کی وجہ سے یوسف رضا گیلانی کے سات ووٹ مسترد ہوئے۔

پیپلز پارٹی نے اس پر بھرپور اجتجاج کیا لیکن پریزائیڈنگ افسر کی رولنگ کے بعد صادق سنجرانی نے بطور چیئرمین سینیٹ حلف اٹھایا اور اس کے بعد ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں بھی پی ڈی ایم کے امیدوار عبدالغفور حیدری کو شکست ہوئی اور حکومتی امیدوار مرزا آفریدی ڈپٹی چیئرمین منتخب ہو گئے۔

سیاسی جماعتوں کا ردعمل

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ردِعمل میں کہا کہ ہماری پارٹی آئین اور پارلیمان کی بالادستی میں یقین رکھتی ہے لیکن پولنگ اسٹیشن پر پولنگ عمل کو پارلیمانی کارروائی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملے پر ہر فورم سے رُجوع کرنے کا بھی عندیہ دیا تھا۔

حکومتی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے ارکان پارلیمان کو آئینہ دکھا دیا ہے کہ وہ ہر معاملہ میں عدلیہ کو ملوث کرنے کے بجائے کوئی ایسا میکنزم بنائیں جس کی مدد سے سیاسی تنازعات کو پارلیمان کے اندر حل کیا جاسکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG