رسائی کے لنکس

logo-print

سات سینیٹرز نے ووٹ خراب نہیں کیے تو ڈپٹی چیئرمین کو سات ووٹ زائد کیسے مل گئے؟


فائل فوٹو

سینیٹ انتخابات کے بعد چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ بھی منتخب ہوگئے لیکن سات سینیٹرز کا عدد حزبِ اختلاف کے لیے مشکل کا سبب بن گیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ ان کے کسی سینیٹر نے دھوکہ نہیں دیا۔ دوسری جانب مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر سات سینیٹرز نے ووٹ جان بوجھ کر خراب نہیں کیے تو ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں مرزا آفریدی کو سات ووٹ زائد کیسے مل گئے؟

سینیٹ انتخابات کے دوران یوسف رضا گیلانی کے سات ووٹ مسترد ہوئے۔ ان سات بیلٹ پیپرز پر یوسف رضا گیلانی کے نام پر مہر لگائی گئی اور پریذائیڈنگ افسر سید مظفر شاہ کی رولنگ کے مطابق ساتوں ووٹ مسترد قرار پائے جس کی وجہ سے عددی اکثریت اور 49 ووٹ اپنے نام کرنے کے باوجود یوسف رضا گیلانی صرف منظور ہونے والے 42 ووٹ لے سکے اور الیکشن ہار گئے۔

چیئرمین سینیٹ انتخاب کو چیلنج کیا جاسکتا ہے؟

اسمبلی رولز کے تحت ایوان کی کارروائی کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

اس بارے میں سپریم کورٹ بار کے سابق صدر امان اللہ کنرانی کہتے ہیں کہ اس الیکشن کی کوئی ریمیڈی نہیں ہے۔ لیکن اس کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ جہاں کوئی شنوائی نہ ہو وہاں آئین کہتا ہے کہ بنیادی حقوق کے تحت ہر شخص کو منصفانہ سماعت کا حق حاصل ہے۔ قانون کی شق 10-اے کے تحت ہائی کورٹ کو اسے سننے کا حق حاصل ہے کہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کا یہ اختیار ہے کہ وہ بنیادی انسانی حقوق سے متعلق کسی بھی کیس کو سن سکتی ہے۔

ووٹ مسترد ہونے کے بارے میں امان اللہ کنرانی کہتے ہیں کہ ووٹ کو مسترد کیا جانا ایک انتہائی قدم ہوتا ہے اور کسی بھی انتخاب کے دوران اس کو سب سے آخر میں رکھا جاتا ہے۔

ان کے مطابق اصل معاملہ ووٹر کی نیت کا ہوتا ہے کہ وہ کس امیدوار کو ووٹ دے رہا ہے۔ کوئی بھی قاعدہ ہو اس میں ووٹ کو منظور کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ ایسے میں نام پر یا خانے پر ووٹ کی مہر کا لگنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔

امان اللہ کنرانی کا کہنا تھا کہ اس الیکشن میں سات ووٹرز نے نام کے اوپر مہر لگا کر ایک طرح سے اپنے ووٹ کو باقی ووٹس سے الگ اور قابل شناخت بنایا ہے۔ لیکن اس بارے میں بھی سپریم کورٹ کا حالیہ ریفرنس میں فیصلہ سامنے آیا ہے کہ ووٹ کی شناخت حتمی نہیں ہے۔ لہذا یہ ووٹ قابل استعمال ہیں اور انہیں مسترد کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے جواز کی بنیاد پر اس کیس کو سن سکتی ہے۔

اسحٰق ڈار کا ووٹ بھی ضائع؟

اس انتخاب کے دوران مسلم لیگ (ن) کو دو ووٹ کا خسارہ ہوا۔ ان کے حامی ایک سینیٹر مرزا آفریدی حکومتی امیدوار بن کر ڈپٹی چیئرمین بن گئے۔

دوسرا ووٹ اسحٰق ڈار کے آج تک حلف نہ اٹھانے کی وجہ سے ضائع ہوا کیوں کہ وہ سینیٹ انتخاب سے دور رہے۔

'ہر وہ حربہ استعمال کیا جس سے یہ الیکشن شفاف ہو'

وفاقی وزیر شبلی فراز کہتے ہیں کہ ہم نے ہر وہ حربہ استعمال کیا جس سے یہ الیکشن شفاف ہو۔

حکومتی جماعت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی بنیاد اخلاقیات پر ہے۔ تاہم اخلاقیات کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہمیں تھپڑ ماریں اور ہم دوسرا گال آگے کر دیں، یہ نہیں ہو سکتا۔

شبلی فراز کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم میں شامل افراد کے متضاد مفادات ہیں اور انہوں نے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں ایک دوسرے پر وار کیا ہے۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ جو چور ہیں اور ووٹ خریدتے اور بیچتے ہیں. ان سب پر ہماری نظر تھی۔

انہوں نے اپوزیشن کے حوالے سے کہا کہ کوئی لانگ مارچ کرے یا شارٹ مارچ ہمیں پروا نہیں ہے، اپوزیشن اسلام آباد آنا چاہتی ہے تو شوق سے آئے لیکن اس مرتبہ انہیں ایک گملا بھی توڑنے نہیں دیں گے۔

'ہمیں کسی نے دھوکہ نہیں دیا'

پاکستان پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ ہمیں کسی نے دھوکہ نہیں دیا اور نہ ہی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کسی سینیٹر نے دھوکہ دیا ہے۔ ہمارے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں دھاندلی کی گئی اور پریذائیڈنگ افسر نے درست ووٹ بھی مسترد کر دیے جس پر ہم عدالت کا رخ کریں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

'ڈپٹی چیئرمین کے ووٹ میں ایک بھی ووٹ ضائع نہیں ہوا'

تحریکِ انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے بعد ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ خوشی کی بات ہے کہ ڈپٹی چیئرمین کے ووٹ میں ایک بھی ووٹ ضائع نہیں ہوا۔

ان کے بقول اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حزبِ اختلاف کے سینیٹرز کے سیکھنے کی صلاحیت کافی اچھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جتنی توجہ سینیٹ میں کیمرے ڈھونڈنے پر لگائی گئی تھی اس کا 25 سے 30 فی صد توجہ اپنے سینیٹرز پر دی جاتی اور ووٹ ڈالنے کا طریقہ بتا دیا جاتا تو حزبِ اختلاف کے ارکان رو نہ رہے ہوتے۔

'پیپلز پارٹی کے سینیٹرز نے دیانت داری سے ووٹ دیا ہے'

پیپلز پارٹی کے سندھ میں صوبائی وزیر سعید غنی کہتے ہیں کہ ہمارے ووٹرز نے دیانت داری سے پارٹی ہدایت کے مطابق ووٹ دیا ہے۔ ہمارے ووٹرز نے جان بوجھ کر ووٹ خراب نہیں کیے۔ اگر ووٹرز کو ووٹ ضائع کرنا ہوتا وہ دونوں امیدواروں کو ووٹ ڈالتے۔ اگر ووٹر کو ووٹ مسترد کرانا ہوتا تو وہ بیلٹ پیپر کو خالی چھوڑ آتا۔

انہوں نے کہا کہ سیکریٹری سینیٹ کو برطرف کر کے جیل میں ڈالا جائے۔ سیکریٹری سینیٹ نے ووٹرز اور امیدوار کو مس گائیڈ کیا ہے۔ ہمیں یقین تھا کہ یہ کیمرے کے بعد کوئی حربہ استعمال کریں گے۔ ہم نے سیکریٹری سینیٹ سے کہا کہ بیلٹ پیپر پر کوئی اور نشان نہیں ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق ایک ممبر نے شیری رحمٰن سے کہا کہ نام پر مہر لگا دی ہے یہ ٹھیک ہے۔ شیری رحمٰن نے سیکریٹری سینیٹ سے پوچھا تو انہوں نے نام پر مہر لگانا ٹھیک قرار دیا تھا۔ لیکن پریذائیڈنگ افسر نے بدنیتی سے ہمارے ووٹ مسترد کیے۔

سعید غنی نے کہا کہ مظفر شاہ کا لہجہ رعونت والا تھا۔ مظفر شاہ کو فون کے علاوہ بھی بہت کچھ آیا ہو گا۔ فون پر اتنی تابعداری نہیں ہوسکتی۔

'جو کھیل کھیلا جا رہا ہے سب آگاہ ہیں'

دوسری جانب پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ سینٹ الیکشن میں کیمرے کس نے لگائے کس لیے لگائے؟ سات ووٹ کس طرح مسترد ہوئے وجہ کیا تھی؟ ووٹ بدنیتی کی بنا پر مسترد کئے گئے؟ جو کھیل کھیلا جا رہا ہے سب آگاہ ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ وہ عدالت سے رجوع کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سینیٹ الیکشن سے کوئی دلچسپی نہیں تھی تاہم اس میں حصہ لینا پی ڈی ایم کا متفقہ فیصلہ تھا۔

'یہ ووٹ بدنیتی کی بنیاد پر مسترد کیے گئے ہیں'

مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ ووٹ پر نشان لگانے کی ہدایات سینیٹ کی ہے جہاں بھی مہر لگائی جائے ووٹ درست ہوتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ ووٹ بدنیتی کی بنیاد پر مسترد کیے گئے ہیں۔

سینیٹ الیکشن: حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی ایک دوسرے پر تنقید
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:07 0:00

ووٹ دانستہ طور پر ضائع کیے گئے؟

اس بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی اب تک اس مؤقف پر قائم ہے کہ کسی ووٹر نے دھوکہ نہیں دیا۔

چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں تو سات ووٹ ضائع ہوئے لیکن ڈپٹی چیئرمین مرزا آفریدی کو 54 ووٹ کیسے مل گئے؟ اس بارے میں یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں شکست کے بعد پی ڈی ایم کے ارکان کے حوصلے پست ہو گئے تھے۔ ان کی ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں دلچسپی کم ہو گئی تھی جس کی وجہ سے ڈپٹی چیئرمین کی نشست بھی حزبِ اخلاف ہار گئی۔

اس بارے میں بلاول بھٹو زرداری نے کسی بھی جماعت ​کی جانب سے دھوکہ دیے جانے کی افواہوں کو مکمل طور پر رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کا اتحاد بالکل قائم ہے اور ہم کسی پر بھی شک نہیں کر رہے، ہمیں کسی نے دھوکہ نہیں دیا۔

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG