رسائی کے لنکس

logo-print

وفاقی اسکولوں میں بچوں کو جسمانی سزا دینے پر پابندی


(فائل فوٹو)

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام اسکولوں میں بچوں کو جسمانی سزا دینے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ عدالت نے اس ضمن میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 89 کو بھی معطل کر دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں بچوں پر تشدد اور جسمانی سزا پر پابندی کے حوالے سے گلوکار اور زندگی ٹرسٹ کے صدر شہزاد رائے کی درخواست پر جمعرات کو سماعت ہوئی۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری قانون، سیکرٹری تعلیم، سیکرٹری انسانی حقوق، اور انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد کو فریق بنایا گیا۔

شہزاد رائے کے وکیل نے دلائل دیے کہ شہزاد رائے زندگی ٹرسٹ کے زیر اہتمام دو اسکول چلا رہے ہیں۔ بچوں پر آج بھی تشدد ہوتا ہے اور جسمانی سزا دی جاتی ہے۔ چند روز قبل لاہور کے ایک نجی اسکول میں ایک طالب علم حنین بلال پر بھی اسی طرح تشدد کیا گیا۔

اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ قومی اسمبلی نے کوئی بل بھی پاس کیا تھا۔ جس پر شہزاد رائے کے وکیل نے کہا سیاسی معاملات کی وجہ سے قانون سازی نہیں ہو پا رہی۔ آج بھی اسکولوں میں بچوں کو جسمانی سزا دی جاتی ہے اور ان پر تشدد کیا جاتا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں بچوں پر تشدد فوری روکنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ وزارتِ داخلہ آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت بچوں پر تشدد کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے۔

عدالت نےاس بارے میں فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب طلب کر لیا۔ بعد ازاں کیس کی مزید سماعت پانچ مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔

شہزاد رائے کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ تعلیمی اداروں میں بچوں کو سزا دینا معمول بن چکا ہے۔ بچوں پر تشدد اور سزا کی خبریں آئے روز میڈیا میں آ رہی ہیں۔ جبکہ پڑھائی میں بہتری کے لیے بچوں کی سزا کو ضروری تصور کیا جاتا ہے۔

عدالت کے باہر ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے شہزاد رائے نے کہا کہ جب بچے پر تشدد ہوتا ہے تو دماغ کا وہی حصہ متاثر ہوتا ہے جو جنسی ہراسانی سے متاثر ہوتا ہے۔ اگر ہم صحت مند معاشرہ چاہتے ہیں تو تشدد کے اس سلسلے کو لازمی طور پر روکنا ہو گا۔

اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں 81 فی صد بچے کسی نہ کسی طرح ذہنی تشدد کا شکار ہیں جس سے ایک بیمار معاشرہ جنم لے رہا ہے۔ گھروں میں والدین اور اسکولوں میں اساتذہ بچوں کی پٹائی کرتے ہیں۔ ایسے میں وہ کس طرح ملک کے مفید شہری بن سکتے ہیں؟

انسانی حقوق کی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ وزارتِ انسانی حقوق نے اس ضمن میں قانون سازی کی کوشش کی ہے۔ کابینہ بھی اس کی منظوری دے چکی ہے۔ لیکن بعض اعتراضات کے باعث یہ معاملہ وزارتِ داخلہ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

شیریں مزاری کے بقول وزارتِ داخلہ نے یہ معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کے حوالے کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے قانون سازی میں تاخیر ہو رہی ہے۔ البتہ اُمید ہے کہ بہت جلد اسے پارلیمان سے منظور کرا لیا جائے گا۔

آرٹیکل 89 کے حوالے سے شیریں مزاری نے کہا کہ آج عدالت نے اسے معطل کیا ہے لیکن اس بارے میں وزارتِ قانون بہتر جواب دے سکتی ہے۔ عدالت نے اسے قانون سے متصادم قرار دیا ہے تو وزارت قانون کو اس پر غور کرنا ہو گا۔

تعزیزات پاکستان کی دفعہ 89 کے تحت والدین، قانونی سرپرست یا اساتذہ نیک نیتی سے بچے یا فاترالعقل شخص کے فائدے کے لیے اُسے سزا دے سکتے ہیں۔ جس میں جسمانی سزا بھی شامل تھی۔ لیکن اب اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس دفعہ کو معطل کر دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG