رسائی کے لنکس

logo-print

اسلام آباد میں ہندو مندر، کمیونٹی سینٹر اور شمشان گھاٹ کی تعمیر کی مشروط اجازت


اسلام آباد میں ہندو مندر کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب

پاکستان کی ہندو برادری کے رہنماؤں نے وفاقی دارالحکومت حکومت اسلام آباد میں شمشان گھاٹ اور مندر کی تعمیر کے لیے مختص اراضی پر چار دیواری کی تعمیر کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

ہندو رہنماؤں نے فیصلے کو اچھی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام وفاقی دارالحکومت میں پہلے ہندو مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کرے گا۔ رہنماؤں نے کہا کہ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے مندر کی تعمیر کے حوالے سے فیصلے کو مکمل تسلیم کرتے ہیں۔

وفاقی ترقیاتی ادارے نے اسلام آباد ہندو پنچائت کے صدر پریم داس کو لکھے گئے خط میں آگاہ کیا ہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن ٹو میں ہندو برادری کے لیے مندر، کمیونٹی سینٹر اور شمشان گھاٹ کے لیے چاردیواری کی مشروط اجازت دی جاتی ہے۔

کونسل نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ ہندو برادری کو اپنی رسومات کی ادائیگی کا آئینی حق حاصل ہے۔

اس سے قبل حکومت کی جانب سے مندر کی تعمیر کے لئے فنڈز دیے جانے کے اعلان پر بعض مذہبی رہنماؤں نے اعتراضات اٹھائے تھے۔

مذہبی رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کے بعد سی ڈی اے نے مندر کی تعمیر روک دی تھی اور حکومت نے اس معاملے پر اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی طلب کی تھی۔

کونسل نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ ہندو برادری کو اپنی رسومات کی ادائیگی کا آئینی حق حاصل ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے مندر کی تعمیر کے حق میں فیصلہ دیے جانے کے بعد سی ڈی اے نے پیر کو اس کے لئے مختص جگہ پر چار دیواری کے لئے این او سی جاری کر دیا۔

ہندو برادری کے ارکان اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے لیے مظاہرہ کر رہے ہیں۔ 8 جولائی 2020
ہندو برادری کے ارکان اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے لیے مظاہرہ کر رہے ہیں۔ 8 جولائی 2020

یہ پلاٹ 2017 میں سابق دور حکومت میں قومی کمشن برائے انسانی حقوق کی سفارش پر ہندو برادری کی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے مختص کیا گیا تھا۔

مندر کی تعمیر کے لئے سرگرم حکومتی رکن اسمبلی لال ملہی کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ خوش آئند ہے اور وہ توقع رکھتے ہیں کہ حکومت مندر کی تعمیر کے لئے جلد فنڈز مہیا کرے گیا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت بوجوہ فنڈز کا اجراء نہیں کرتی تو ہندو برادری اپنی مدد آپ کے تحت مندر کی تعمیر کرے گی۔

وزارت انسانی حقوق کے پارلیمانی سیکرٹری کہتے ہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے فیصلے کے مطابق حکومت غیر سرکاری نئی عبادت گاہوں کے لئے فنڈز مختص نہیں کر سکتی تاہم متروکہ وقف املاک کے فنڈز سے مندر کی تعمیر ہو سکتی ہے۔

ہندو رہنما نے امید ظاہر کی کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں اسلام آباد میں پہلے سے قائم قدیم مندروں کو ہندو برادری کے حوالے کرے گی۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے مندر کی تعمیر کے حوالے سے اپنے فیصلے میں حکومت کو تجویز دی تھی کہ سید پور گاؤں میں واقع مندر کو ہندو برادری کے حوالے کیا جائے۔

لال ملہی کہتے ہیں کہ ہندو برادری کافی عرصہ سے مطالبہ کرتی رہی ہے کہ اسلام آباد کے اطراف میں واقعہ تمام مندروں کا انتظام ہندو پنچایت کے حوالے کیا جائے۔

ہندو رہنما کرشن شرما کہتے ہیں کہ ہمارا منصوبہ تھا کہ اسلام آباد کے رہنے والے ہندوؤں کو اپنی عبادات و رسومات کے لئے ایک جگہ میسر ہونی چاہیے مگر مندر کی تعمیر پر اعتراضات کے بعد اس کی تعمیر روک دی گئی تھی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بہت کشادہ دلی سے فیصلہ دیا کہ اسلامی ملک میں مندر کی تعمیر ہو سکتی ہے اور اس حوالے سے متروکہ وقف املاک اور سی ڈی اے کو لکھا گیا۔

کرشن شرما کہتے ہیں کہ ہندو پنچایت مندر کی تعمیر پر جلد فیصلہ لے گی اور قائداعظم محمد علی جناح کے پاکستان کی تصویر پیش کی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG