رسائی کے لنکس

logo-print

پشاور زلمی نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 12 رنز سے ہرا دیا


پشاور زلمی کے پاس اسلام آباد کی جانب سے دیا جانے والا 159 رنز کا ہدف حاصل کرنے سے پہلے ہی بیٹسمین کم پڑ گئے جو پشاور زلمی کی ہار کا بنیادی سبب بنا۔

ڈیرن سیمی کے بعد وہاب ریاض، حسن علی، عمید اور ثمین گل بچے تھے جو ہدف حاصل کرنے کی کوشش کے باوجود میچ بچانے میں کامیاب نہیں ہوسکے اور یوں اسلام آباد یونائٹیڈ یہ میچ جیت گیا۔

پشاور زلمی کی پوری ٹیم 19.4 اوورز میں 146 رنز بناسکی۔ عمید اور ثمین گل کوئی رن نہیں بناسکے جبکہ اسلام آباد کی جانب سے محمد سمیع اور موسیٰ نے تین تین ، فہیم اشرف نے دو اور پٹیل اور شاداب نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

پشاور کی اننگز کی ابتدا کامران اکمل اور امام الحق نے کی لیکن دونوں کھلاڑی آج خاظر خواہ رنز نہ بناسکے۔

کامران اکمل محمد موسیٰ کی بال پر سات رنز پر آؤٹ ہوگئے جبکہ دوسری وکٹ میلان کی گری۔

میلان نے 1 رن اسکور کیا تھا کہ محمد موسی ان کی بھی وکٹ لے اڑے۔

تیسری وکٹ امام الحق کی گری۔ انہیں فہیم اشرف نے 18 رنز کے انفرادی اسکور پر آؤٹ کردیا۔

اس طرح پہلی وکٹ 18رنز پر اور دوسری اور تیسری وکٹس 26رنز پر گر گئیں۔

آٹھ اوور کے اختتام تک مجموعی اسکور 45 رنز تھا عمر امین نو اور ڈاؤسن دس رنز پر کھیل رہے تھے۔

گیارہ اعشاریہ ایک اوورز کا کھیل مکمل ہونے تک پشاور کا اسکور چار کھلاڑیوں کے نقصان پر 59 رنز تھا۔ امین 14 رنز بناکر پٹیل کی بال پر آؤٹ ہوئے۔ ان کی جگہ پولاڈ کھیلنے آئے جبکہ ڈاؤسن 19 رنز پر کھیل رہے تھے۔

پشاور کو میچ جیتنے کے لئے تیزی سے اسکور بنانا ہوگا۔ 12 اوور کے بعد اسے 47 بالز پر 97رنز بنانا تھے لیکن اگلے ہی اوور میں داؤسن 21 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔ ان کی وکٹ شاداب خان نے لی۔ اسکور تھا 65 رنز۔

ڈاؤسن کے بعد پولاڈ کا ساتھ دینے کے لئے ڈیرن سیمی کریز پر آئے۔ انہی دیکھ کر پولاڈ میں تیزی آئی۔ انہوں نے مسلسل کئی باؤنڈریز لگائیں۔ ان کے لگاتا چھکوں اور چوکوں کی بدولت پشاور 101 رنز کا اسکور کرنے میں کامیاب رہا جبکہ 15واں اوور اپنے اختتام کو پہنچا تو پولاڈ کا اسکور 38 رنز تھا جبکہ سیمی نے دو رنز بنائے تھے۔

16 ویں اوور کے اختتام پر پشاور زلمی کو جیتنے کے لئے 24 بالز پر 51 رنز درکار تھے۔ پولاڈ 44 اور ڈیرن سیمی 3 رنز پر کھیل رہے تھے۔ مجموعی اسکور 5 کھلاڑیوں کے نقصان پر 108 رنز تھا۔

اگلے اوور میں پولاڈ ایک اونچا شارٹ کھیلتے ہوئے 51رنز پر آؤٹ ہوگئے جبکہ ٹیم کا اسکور 120 رنز تھا۔ سیمی آٹھ رنز پر کھیل رہے تھے ۔ پولاڈ کی وکٹ فہیم اشرف نے لی۔

پولاڈ کی جگہ وہاب ریاض کھیلنے آئے۔ انہوں نے رنز کی رفتار کم نہیں ہونے دی اور دو ہی بالز پر ایک چھکا اور ایک چوکا جڑ دیا۔

اس دوران 18ویں اوور میں ڈیرن سیمی گیارہ رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔ ان کی وکٹ محمد موسیٰ نے لی۔ وہاب ریاض کا ساتھ دینے کے لئے حسن علی آئے ۔

انیسویں اوور تک پشاور کا اسکور 140 رنز تھا۔ وہاب 14 اور حسن علی 2 رنز پر کھیل رہے تھے ْ

اسلام آباد 9 وکٹ پر 158 رنز بناکر آؤٹ
اسلام آباد یونائٹیڈ اور پشاور زلمی کے دوران آج کے دوسرے اور ایونٹ کے گیارہویں میچ میں اسلام آباد یونائٹیڈ کی ٹیم نو کھلاڑیوں کے نقصان پر 158 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔ اس طرح پشاور کو یہ میچ جیتنے کے لئے 159 رنز کا ہدف ملا ہے۔

پشاور کی جانب سے ٹمین گل نے تین ، حسن علی نے دو جبکہ عمید آصف، وہاب ریاض اور پولاڈ نے ایک ایک وکٹ لی۔

میچ کے آغاز پر پشاور زلمی نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا جس کے بعد اسلام آباد یونائٹیڈ کے اوپنرز لیوک رونکی اور صاحبزادہ فرحان نے کی۔

پشاور کو پہلا وکٹ لینے کے لئے طویل انتظار نہیں کرنا پڑا کیوں کہ چوتھے اوور میں ہی رونکی 21 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔ ان کی وکٹ ثمین گل نے لی اور کیچ ڈاؤن سن نے لیا۔

دوسری وکٹ بھی انہی دونوں کے آپسی تعاون کے نتجے میں گری ۔ صاحبزادہ فرحان پندرہ رنز بناکر آؤٹ ہوئے،

تیسری وکٹ 39 رنز پر حسین طلعت کی گری۔ انہیں پولاڈ نے وکٹ کیپر کامران اکمل کے ہاتھوں کیچ کرایا۔

پہلی وکٹ 32 دوسری 47 اور تیسری 39 رنز کے مجموعی اسکور پر گری۔

دس اوور کے اختتام کے بعد اسلام آباد کا اسکور 67 رنز تھا بیل سترہ اور ڈلپورٹ 11 رنز پر کھیل رہے تھے۔

12ویں اوور کے ختم ہونے تک ای این بیل24 اور ڈلپورٹ 18 رنز بناچکے تھے جبکہ ٹیم کا مجموعی اسکور تین کھلاڑیوں کے نقصان پر 82 رنز تھا۔

14 ویں اوور میں اسلام آباد 100 کا ہندسہ عبور کرگیا۔ بیل 32 اور ڈلپورٹ کے 31 رنز ایک سو چار رنز میں شامل تھے۔

لیکن اگلے ہی اوور میں حسن علی بولنگ کرنے آئے تو ڈلپورٹ آؤٹ ہوگئے اور یوں اسلام آباد کی 105 رنز پر چوتھی وکٹ گر گئی۔

15 اوورز میں اسکور 113 رنز تک پہنچا۔ اس میں بیل کے 36 اور آصف علی کے سات رنز شامل تھے۔

آصف علی نے تیزی سے رنز بنانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکے اور ایک سو بیس رنز کے مجموعی اسکور پر اسلام آباد کی پانچ وکٹیں گر گئیں۔ انہیں ثمین گل نے وہاب ریاض کے ہاتھوں کیچ کرایا۔

نئے بیٹسمین تھے فہیم اشرف۔ اس دوران بیل 45 رنز بنانے میں کامیاب ہوگئے جبکہ 16 اوورز کا کھیل مکمل ہوچکا تھا۔ تاہم فہیم اشرف دو رنز پر ہی ڈھیر ہوگئے۔ انہیں عمید آصف نے اپنی بال پر عمر امین کے ہاتھوں کیچ کرایا۔

ان کی جگہ شاداب خان کھیلنے آئے۔ اٹھارہ اوورز میں وہ چھ رنز بناسکے وہاب ریاض نے انہیں بولڈ کردیا جبکہ بیل نے 48 رنز بنائے تھے۔

مجموعی اسکور 144 رنز تھا کہ سمیت پٹیل کھیلنے آئے لیکن پانچ رنز پر ہی انہیں حسن علی نے بولڈ کردیا۔ اس وقت مجموعی اسکور 148 رنز تھا۔ بیل 48 رنز بناچکے تھے ۔

19 ویں اوور تک اسکور 151 رنز آتھ کھلاڑی آؤٹ تھا۔ بیل 49 اور محمد سمیع ایک رن پر کھیل رہے تھے۔

آخری اوور وہاب ریاض نے کرایا جس کے دوران اسلام آباد کی نویں وکٹ بھی گر گئی۔ بیل 54 رنز بناکر رن آؤٹ ہوگئے۔

آخر کھلاڑی کے طور پر محمد موسیٰ کھیلنے آئے لیکن کوئی رنز نہیں بناسکے جبکہ ان کے ساتھ ساتھ محمد سمیع بھی دو رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔ یوں اسلام آباد کا آخری اسکور 9 کھلاڑیوں کے نقصان پر 158 رنز رہا۔

اسلام آباد یونائٹیڈ کی ٹیم لیوک رونکی، صاحبزادہ فرحان، این بیل، کیمرون ڈلپورٹ، حسین طلعت ، آصف علی، سمت پاٹل، شاداب خان، فہیم اشرف ، محمد سمیع اور محمد موسیٰ پر مشتمل ہے ۔

پشاور زلمی کی جانب سے کامران اکمل، امام الحق، عمر امین ، ڈیوڈ میلان، یرون پولاڈ، لیام ڈاؤسن، ڈیرن سیمی ، وہاب ریاض، حسن علی ، عمید آصف اور طلعت کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG