رسائی کے لنکس

logo-print

’کنگز‘ کے بیٹسمین ناکام، پشاور 44 رنز سے جیت گیا


کراچی کنگز کی ٹیم پشاور زلمی کے دیئے گئے 154 رنز کے ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی اور یوں پشاور 44 رنز سے یہ میچ جیت گیا۔

کنگز کی ٹیم کے کھلاڑی یا تو جلد از جلد آؤٹ ہوتے چلے گئے اور جوآؤٹ نہیں ہوسکے وہ کوئی بھی قابل ذکر اسکور کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ کنگز کے نو کھلاڑیوں نے تمام کوششوں کے باوجود 109رنز بنائے۔

پشاور زلمی کی جانب سے ملنے والے 154 رنز کے ہدف کے تعاقب میں کراچی کنگز کا آغاز ہی غلط انداز سے ہوا۔ اس کا ایک کھلاڑی حسن علی نے بغیر کوئی رن بنانے کا موقع دیئے آؤٹ کردیا۔

آؤٹ ہونے والے کھلاڑی تھے لیونگ اسٹون جو پہلی ہی بال پر ایل بی دبلیو آؤٹ ہوگئے۔ ان کی جگہ بین ڈنگ نے لی جو اس ایونٹ کا پہلا میچ کھیلنے میں کامیاب ہوئے۔ دوسرے اینڈ پر بابر اعظم موجود تھے۔

لیکن بابر اعظم کو رنز لینے کی کوشش میں کامیاب ہونے سے پہلے ہی رن آؤٹ کردیا اور یوں کراچی کنگز کی صرف 13 رنز پر دو وکٹیں آؤٹ ہوگئیں۔

کراچی کنگز کے لئے بابر اعظم کی وکٹ بہت بڑا نقصان تھی۔ وہ میچ وننگ پلئیر تھے ۔

کراچی کنگز ابھی بابر اعظم کی وکٹ کھونے کے غم سے باہر بھی نہیں نکلا تھا کہ وہاب ریاض نے ڈنک کو 12 رنز پر آؤٹ کردیا جبکہ کراچی کنگز کا مجموعی اسکور صرف 15 رنز تھا۔

چوتھے اوور کے اختتام پر انگرام اور سکندر رضا ایک ایک رنز کے انفرادی اسکور پر کھیل رہے تھے۔ مجموعی اسکور 20 رنز تھا۔

چھٹے اوور کے اختتام پر کراچی کنگز کا اسکور صرف 32 رنز تھا رضا اور انگرام بالترتیب 5اور 13 رنز پر کھیل رہے تھے۔

پولاڈ بالنگ اینڈ پر آئے تو کراچی کنگز کو مزید ایک وکٹ کا نقصان اٹھانا پڑ گیا۔ کولن انگرام 21 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔ یہ کراچی کنگز کی چوتھی وکٹ تھی جو صرف 43 رنز پر آؤٹ ہوگئ جبکہ آٹھواں اوور جاری تھا۔ سکندر رضا ایک رنز بناکر کھیل رہے تھے جبکہ عماد وسیم نئے کھلاڑی کے طور پر کریز پر آئے۔

نو اوورز میں 48 رنز پر چار وکٹیں گر جانا کراچی کنگز کے لئے خطرے کی گھنٹی تھا۔ رضا بارہ اور عماد وسیم تین رنز پر کھیل رہے تھے۔

لیکن عمید نے 12 ویں اوور میں سکندر کو 14 رنز پر بولڈ کردیا۔ اور یوں 56رنز پر 5 وکٹس گر گئیں۔

تیرہ اوورز تک کراچی نے صرف 68 رنز بنائے تھے اس طرح اسے میچ جیتنے کے لئے کم بالز پر زیادہ رنز بنانا تھے۔ 42 بالز پر 85 رنز جو بظاہر مشکل نظر آرہے تھے۔

رضوان 14 اور عماد وسیم 13 رنز پر کھیل رہے تھے۔ اسکور تھا 76 رنز۔ 15 اوورز پر 80 رنز بنے جبکہ رضوان 16 اور عماد وسیم 14 رنز پر کھیل رہے تھے۔ میچ جیتنے کے لئے کم و بیش اتنے ہی رنز ابھی درکار تھے جبکہ بالز نصف بھی نہیں بچی تھیں۔

سولہ اوورز کے اختتام پر اسکور 88 رنز تھا۔ عماد نے 20 اور رضوان نے 18 رنز بنائے تھے۔

سترہواں اوور ختم ہوا تو کراچی کنگز کو میچ جیتنے کے لئے 17 بالز پر 57 رننز بناتا تھے جو کسی طور ممکن نہیں تھا۔ عماد وسیم اور رضوان ہی ایسے کھلاڑی تھے جو سب باقی کھلاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ رنز بنانے میں کامیاب رہے۔ انہی کی کوشش کے عوض کراچی کنگز اٹھارہ اوورز میں پانچ کھلاڑیوں کے نقصان پر 104 رنز بناسکا۔ رضوان نے 28 اور عماد نے 26 رنز بنالئے تھے۔

انیسویں اوور میں ایک مرتبہ پھر بالنگ حسن علی کو دی گئی جنہوں نے کپتان کے فیصلے کا مان رکھتے ہوئے عماد وسیم کو کیچ کرادیا۔ ان کی جگہ عامر یامین آئے لیکن حسن علی نے انہیں بھی نہیں چھوڑا اور یوں کنگز کی سات وکٹیں گر گئیں۔

ادھر آٹھویں وکٹ گرنے میں بھی دیر نہیں لگی اور عامر صفر پر ہی آؤٹ ہوگئے۔ 107رنز کے اسکور پر نویں وکٹ بھی گر گئی عمر کوئی رن بنائے بغیر پویلین لوٹ گئے۔ اس بار بولر تھے پولاڈ۔

شنواری آخری وکٹ کے طور پر میدان میں اترے جبکہ رضوان ابھی بھی کریز پر موجود تھے۔

پشاور زلمی نے چھ بالرز استعمال کئے جن میں سے حسن علی، عمید اور ریاض وہاب ایک ایک وکٹ لے پائے۔

پشاور زلمی 153 رنز بناکر آؤٹ

امام الحق کے 56، ڈاؤسن کے 43، اور کپتان ڈیرن سیمی کے 24 رنز کے ساتھ پشاور زلمی کی ٹیم 8 وکٹس کے نقصان پر 153 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔ کراچی کنگز کو یہ میچ جیتنے کے لئے ایک رن زیادہ بنانا ہوگا۔

پشاور کی ٹیم کے باقی کھلاڑی کچھ زیادہ اسکور کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔ انہی تین کھلاڑیوں نے باقی کے مقابلے میں زیادہ رنز بنائے۔

میچ کے آغاز پر پاکستان سپر لیگ کے تحت شارجہ میں کھیلے جانے والے ایونٹ کے نویں میچ میں کراچی کنگز نے ٹاس جیت کر پشاور زلمی کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی ہے ۔

دونوں ٹیمیں اب تک دو، دو میچ کھیل چکی ہیں جن میں سے دونوں نے ہی ایک، ایک میچ جیتا اور ایک، ایک ہارا ہے۔ اس لئے دونوں ٹیموں کے پوائنٹس بھی برابر ہیں۔ یعنی 2،2 ۔

لیکن پشاور زلمی کا رن ریٹ زیادہ ہے ۔ وہ پوائنٹس ٹیبل پر دوسری جبکہ کراچی پانچویں پوزیشن پر ہے۔

پشاور زلمی کو دوسرے ہی اوور میں اپنی ایک قیمتی وکٹ سے ہاتھ دھونا پڑا۔ ٹیم کا اسکور ابھی تین ہی رنز تھا کہ کامران اکمل بغیر رنز بنائے آؤٹ ہوگئے۔ ان کی وکٹ عامر یاسین نے لی۔

دوسرے اینڈ پر امام الحق تھے جن کا ساتھ دینے کے لئے کامران اکمل کی جگہ عمر امین آئے۔

چار اوورز کے اختتام پر پشاور کا مجموعی اسکور 21 رنز تھا۔ امام 15 اور عمر امین 3 رنز پر کھیل رہے تھے۔

کامران کے جلد آؤٹ ہوجانے کے بعد رنز بنانے کی ذمے داری امام الحق کے کاندھوں پر تھی جسے انہوں نے اچھے انداز میں ادا کیا۔ انہوں نے خود پر قابو رکھتے ہوئے اچھے شارٹس لگائے۔ کئی باؤنڈیز بھی ان کے حصے میں آئیں۔

چھ اوورز کے اختتام پر اسکور ایک وکٹ کے نقصان پر 38 رنز ہوگیا۔ امام الحق 23 اور عمر امین 11 رنز پر کھیل رہے تھے۔

52 رنز کے اسکور پر پہنچنے تک پشاور کو چار کھلاڑیوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ 47 رنز پر عمر امین 15 رنز کے انفرادی اسکور پر اسٹمپ ہوگئے۔

ان کی جگہ میڈسین آئے جو بغیر کھاتا کھولے ہی سکندر رضا کی بال پر بولڈ ہوگئے۔ ان کی جگہ پولاڈ نے لی لیکن پولاڈ کو بھی عماد وسیم نے صفر پر ہی بولڈ کردیا۔

دس اوورز کا کھیل ہوچکا ہے جس میں پشاور نے چار وکٹ کے نقصان پر صرف 56 رنز بنائے ہیں ۔ امام الحق 34 اور ڈاؤسن دو رنز پر کھیل رہے ہیں۔

13 ویں اوور کے اختتام پر پشاور کا اسکور چار کھلاڑیوں کے نقصان پر 73 رنز تھا۔ ڈاؤسن 13 اور امام 40 رنز پر کھیل رہے تھے۔

15 اوورز تک بھی پشاور کی ٹیم 100 رنز بنانے میں ناکام رہی تھی۔ ٹیم کا اسکور 96 رنز تھا تاہم مزید کوئی وکٹ بھی نہیں گری تھی۔

اگلے اوور میں ایک سو رنز کا مجموعی اسکور ہوا تو امام الحق بھی نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہوگئے جبکہ ڈاؤسن 32 رنز پر کھیل رہے تھے۔

امام الحق اور ڈاوسن دونوں نے کھل کر شارٹس لگائے اور کراچی کنگز کے بالرز کی جم کر پٹائی کی۔ پے در پے چوکے لگے جس کی بدولت پشاور زلمی کا سترہویں اووور تک اسکور چار کھلاڑیوں کے نقصان پر 124 رنز تھا ۔ ڈاؤسن 43 اور امام الحق 55 رنز پر کھیل رہے تھے۔

اٹھارویں اوور کی پہلی گیند پر اونچا شارٹ کھیلنے کی کوشش میں ڈاؤسن شنواری کے ہاتھوں کیچ ہوگئے جبکہ بالر بھی وہ خود ہی تھے۔

ان کی جگہ کپتان ڈیرن سیمی کھیلنے آئے۔ یہ ایونٹ میں ان کی پہلی بیٹنگ ٹرن تھی۔ اس سے پہلے وہ بیٹنگ کرنے نہیں آئے تھے اور ان کی پرفارمنس کے بغیر ہی میچ ختم ہوتا رہا ہے۔

چھٹی وکٹ پشاور زلمی کی اننگز ختم ہونے سے دو اوور پہلے گری جب امام الحق کو عثمان شنواری نے 56 رنز کے انفرادی اور 131 رنز کے مجموعی اسکور پر بولڈ کردیا۔

امام کی جگہ وہاب ریاض کھیلنے آئے جبکہ ڈیرن سیمی اس دوران پانچ رنز بناچکے تھے۔

ساتویں وکٹ وہاب ریاض کی گری انہوں نے کوئی رن نہیں بنایا تھا کہ محمد عامر کی بال پر سکندر رضا نے انہیں کیچ کرلیا۔ اس وقت تک 19 اوورز کا میچ ختم ہوچکا تھا جبکہ اسکور 137 رنز تھا۔

ڈیرن سیمی اور حسن علی نے آٹھویں وکٹ کے طور پر کھیل کو اگے بڑھانا چاہا لیکن رنز لینے کی غلط کوشش میں حسن علی دو رنز پر آؤٹ ہوگئے۔

سیمی اور عمید نے نویں وکٹ کے طور پر گیم کھیلا۔ ڈیرن اس دوران ایک چوکا اور ایک چھکا لگانے میں بھی کامیاب ہوگئے، ان کا اسکور 24 رنز رہا جبکہ عمید نے آخر تک کوئی رنز نہیں بنایا۔ دونوں کھلاڑی ناٹ آؤٹ رہے۔

کراچی کنگز کی جانب سے محمد عامر، عامر یامین، عثمان شنواری، عماد وسیم اور سکندر رضا نے بالنگ کرائی۔ عثمان شنواری اور سکندر رضا دو، دو جبکہ باقی تینوں بالرز ایک ایک وکٹ لینے میں کامیاب رہے۔

میچ کی کچھ خاص باتیں
کراچی کنگز کا آج بنایا جانے والا 109رنز کا اسکور پی ایس ایل کی تاریخ میں دوسرا کم ترین اسکور ہے۔ اس سے قبل 2016میں کراچی نے اسلام آباد کے خلاف نو وکٹوں کے نقصان پر 111 رنز بنائے تھے۔

کراچی کنگز کے آج چار کھلاڑی بغیر کسی اسکور کے آؤٹ ہوئے یعنی ’گولڈن ڈک ‘۔ اتفاق سے پشاور زلمی کے بھی آج ہی چار کھلاڑی بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔

آج کراچی کنگز کی پوری اننگز میں ان کا کوئی بھی کھلاڑی ایک بھی چھکا نہیں مار سکا۔ ایسا پی ایس ایل کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے ۔

کراچی کنگز:

کراچی کنگز نے ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئیں۔ سہیل خان کی جگہ عامر یامین جبکہ روی بوپارا کی جگہ بین ڈنک کو کھیلنے کا موقع دیا گیا۔

بابر اعظم، لیام لیونگ اسٹون، کولن انگرام، بین ڈنک، محمد رضوان، عامر یاسین، سکندر رضا، عماد وسیم، محمد عامر ، عمر خان اور عثمان شنواری۔

پشاور زلمی کی ٹیم :
کامران اکمل، امام الحق، عمر امین ، وائن میدسین، کائرن پولاڈ، لیام ڈاؤسن، ڈیرن سیمی، وہاب ریاض، حسن علی، عمید آصف اور ابتسام شیخ ۔

XS
SM
MD
LG