رسائی کے لنکس

logo-print

لندن برج پر چاقو بردار شخص کا حملہ، داعش نے ذمہ داری قبول کر لی


فائل فوٹو

برطانیہ میں لندن برج پر چاقو بردار شخص کے حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کا بیان شدت پسند تنظیم کے خبر رساں ادارے 'عماق' پر جاری کیا ہے۔

عماق پر جاری بیان میں شدت پسند تنظیم کا کہنا تھا کہ داعش ان تمام ممالک کو نشانہ بنائے گی جس نے اس کے خلاف فوجی کارروائیوں میں شمولیت اختیار کی۔

داعش کے بیان کے مطابق لندن برج پر ہونے والا حملہ اس کے ایک جنگجو نے کیا۔

شدت پسند تنظیم نے یہ واضح نہیں کیا کہ حملہ آور کس طرح ان سے منسلک تھا۔ نہ ہی اس حوالے سے کسی قسم کے شواہد پیش کیے گیے ہیں کہ وہ داعش کا جنگجو تھا۔ عمومی طور پر داعش حملہ آوروں کی ویڈیوز یا تصاویر بھی پُرتشدد کارروائیوں کے بعد جاری کرتی رہی ہے۔

خیال رہے کہ جمعے کو لندن برج کے قریب ایک شخص نے چاقو سے لوگوں پر حملہ کا تھا اس شخص کے حملے میں دو افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک اور زخمیوں میں خواتین بھی شامل تھی۔ بعد ازاں اس شخص کو قابو کرنے کی کوشش کی گئی۔ پولیس کی فائرنگ سے حملہ آور ہلاک ہوا۔

حملہ آور کی شناخت بعد ازں عثمان خان کے نام سے ہوئی۔ جس کو پہلے ہی 2012 میں دہشت گردی کا جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی گئی تھی اور اسے ضمانت کے بعد گزشتہ سال رہا کیا گیا تھا۔

برطانیہ کے پارلیمان کے ایوان زیریں ہاؤس آف کامنز میں حزب اختلاف کے رہنما جرمی کوربائن نے پورے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہے کیونکہ اس سے بہت نقصان ہوا ہے۔

ان کے مطابق لوگوں کے پے رول پر رہائی دینے والے بورڈ کے حوالے سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔

دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے معاملے پر سزا یافتہ افراد کی وقت سے پہلی رہائی نہیں ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ لندن برج پر حملہ کرنے والے شخص کو گزشتہ برس رہا کیا گیا تھا جبکہ ابھی ان کی سزا کا دورانیہ مکمل نہیں ہوا تھا۔

بورس جانسن کے مطابق پر تشدد حملوں میں ملوث افراد کی جلد رہائی سے مثبت نتائج سامنے نہیں آ رہے اب تو اس کے شواہد بھی موجود ہیں۔

واضح رہے کہ لندن کے مصروف علاقے میں فائرنگ کے بعد لندن برج کی گزرگاہ پر تمام ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی تھی جبکہ اس سے ملحقہ سڑکوں پر کاروں، بسوں اور ٹرکوں کی قطاریں لگ گئی تھیں۔

برطانوی اخبار 'دی ٹیلیگراف' کے مطابق عثمان خان نے اپنی عمر کا ابتدائی حصہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی گزارا۔ عثمان خان کا تعلق برطانیہ کے علاقے سٹیفر شائر سے تھا اور وہ برطانیہ میں ہی پیدا ہوا۔

مبینہ حملہ آور عثمان خان — فائل فوٹو
مبینہ حملہ آور عثمان خان — فائل فوٹو

اخبار کے مطابق عثمان خان کشمیر میں اپنی والدہ کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ جہاں انہوں نے اپنی آبائی اراضی پر دہشت گردی کے لیے ٹریننگ کیمپ قائم کرنے کا منصوبہ بنایا۔

اخبار میں کہا گیا ہے کہ والدہ کے بیمار ہونے پر عثمان خان برطانیہ آئے اور یہاں 2012 میں القاعدہ کے حامی گروپ میں شامل ہو کر اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی سازش میں ملوث پائے گئے۔

اخبار کے مطابق عثمان انٹرنیٹ اور دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ذریعے مذہبی انتہا پسندی کے فروغ میں بھی ملوث رہے ہیں۔

لندن برج پر اس سے پہلے جون 2017 میں بھی حملہ ہو چکا ہے۔ اس واقعہ میں تین عسکریت پسندوں نے پیدل چلنے والوں پر اپنی ویگن چڑھا دی تھی اور اس کے بعد اس علاقے میں موجود لوگوں پر حملہ کر دیا تھا۔ اس واقعہ میں 8 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس مہینے کے شروع میں برطانیہ نے دہشت گردی سے متعلق خطرے کی سطح اونچے درجے سے کم کر کے درمیانے درجے پر کر دی تھی۔ یہ 2014 کے بعد سے خطرے کی کم ترین سطح ہے۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں امریکہ نے عراق میں ایک فوجی کارروائی کرکے داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو ہلاک کر دیا تھا۔ شدت پسند تنظیم نے اس کے چند روز بعد ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کو نیا سربراہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔

مبصرین کے مطابق ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کے سربراہ بننے کے بعد ممکنہ طور پر یہ داعش کی وہ کارروائی ہو سکتی ہے جس سے وہ توجہ حاصل کر سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG