رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل: غیر مسلح فلسطینی کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر وزیرِ دفاع کی معافی


'آٹزم' میں مبتلا ایاد الحاق کو دو روز قبل یروشلم میں پولیس نے اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا جب وہ آٹزم سے متاثرہ افراد کے لیے مخصوص اسکول جا رہے تھے۔

اسرائیل کے وزیر دفاع نے پولیس اہلکار کے ہاتھوں ایک غیر مسلح فلسطینی شخص کی ہلاکت پر معافی مانگی ہے۔

'آٹزم' میں مبتلا ایاد الحاق کو دو روز قبل یروشلم میں پولیس نے اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا جب وہ آٹزم سے متاثرہ افراد کے لیے مخصوص اسکول جا رہے تھے۔

پولیس کا دعویٰ تھا کہ مذکورہ شخص کے مسلح ہونے کا شبہ تھا اور تنبیہ کے باوجود نہ رُکنے پر فائرنگ کی گئی۔

امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق یروشلم میں پُرانے شہر میں 32 سالہ فلسطینی کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر بڑے پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے جب کہ سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو حاصل بے پناہ اختیارات پر بھی سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں۔

اسرائیل کے 'متبادل' وزیرِ اعظم کہلانے والے بینی گینز نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں یہ معاملہ اٹھایا۔ بینی گینز کو متبادل وزیرِ اعظم اس لیے کہا جاتا ہے کیوں کہ ان کا وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو سے شراکت اقتدار کا معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت ڈیڑھ سال بن یامین نیتن یاہو وزیرِ اعظم رہیں گے جب کہ اکتوبر 2021 میں بینی گینز وزارتِ عظمی کا عہدہ سنبھال لیں گے۔

بینی گینز کابینہ کے اجلاس وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے ہمراہ بیٹھے تھے تاہم نیتن یاہو نے اجلاس کے آغاز میں ابتدائی کلمات میں اس واقعے کا ذکر نہیں کیا تھا۔

بینی گینز کا کہنا تھا کہ ایاد الحاق کی ہلاکت کے واقعے پر ہم بہت معذرت خواہ ہیں جب کہ ان کے خاندان سے غم کا اظہار کرتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امید ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات تیزی سے کی جائیں گی اور جلد کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔

دوسری جانب ہلاک ہونے والے شخص کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ ایاد الحاق آٹزم میں مبتلا تھے۔ وہ اس اسکول جا رہے تھے جو کہ مخصوص افراد کے لیے ہے۔ وہ وہاں روزانہ تعلیم کے حصول کے لیے جاتے تھے۔

پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے ایک مشتبہ شخص کو روکنے کی کوشش کی جس کے ہاتھ میں پستول سے مشابہہ مشکوک چیز تھی۔ جب اس شخص نے رُکنے کے احکامات پر عمل نہیں کیا تو پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کی۔

بعد ازاں پولیس کے ترجمان نے ایک اور بیان میں کہا کہ مشتبہ شخص کے پاس کسی بھی قسم کا کوئی ہتھیار نہیں تھا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق وہ پولیس اہلکار جو اس واقعے میں ملوث تھے ان سے معاملے کی تفتیش کی گئی ہے۔

دوسری جانب واقعے میں ملوث اہلکاروں کے وکیل نے اسرائیلی آرمی کے ریڈیو کو انٹرویو میں ہلاک شخص کے اہل خانہ کے لیے تعزیتی پیغام بھی جاری کیا۔

فلسطین اور اسرائیل کے انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اسرائیل کے سیکیورٹی اداروں پر بعض واقعات میں طاقت کے بے جا استعمال کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔

انسانی حقوق کے بعض کارکنوں کی جانب سے اسرائیل میں پولیس کے ہاتھوں فلسطینی شخص کی ہلاکت کا امریکہ میں سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں سیاہ فام شخص کی ہلاکت سے بھی موازنہ کیا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG