رسائی کے لنکس

logo-print

غزہ میں جنگ بندی ایک بار پھر ناکام، کارروائی میں مزید 27 ہلاک


جمعہ کی صبح مقامی وقت کے مطابق آٹھ بجے 72 گھنٹوں کی غیر مشروط جنگ بندی کا آغاز ہوا تھا لیکن یہ جنگ بندی کچھ دیر ہی برقرار رہ سکی۔

غزہ کی پٹی میں عہدیداروں نے بتایا کہ اسرائیل کی گولہ باری سے جمعہ کو مزید 27 فلسطینی ہلاک ہو گئے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جمعہ کی صبح مقامی وقت کے مطابق آٹھ بجے 72 گھنٹوں کی غیر مشروط جنگ بندی کا آغاز ہوا تھا لیکن یہ جنگ بندی کچھ دیر ہی برقرار رہ سکی۔

عہدیداروں کے مطابق جمعہ کو رفاہ شہر کے قریب اسرائیلی ٹینکوں سے گولے داغے گئے۔

جب کہ اسرائیل کے جنوبی شہر کریم شالو میں سائرن کی آواز سنی گئی جو ممکنہ طور پر حماس کے جنگجوؤں کی طرف سے راکٹ داغنے کے بعد بجائے گئے۔

اسرائیلی وزیراعظم بیجمن نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام غزہ کے جنگجوؤں پر عائد کیا گیا، تاہم اس کی مزید وضاحت یا تفصیل نہیں بتائی گئی۔

حماس کی طرف سے اس تازہ واقعہ پر کسی طرح کا ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اسرائیل اور حماس نے جمعرات کو انسانی ہمدری کی بنیاد پر 72 گھنٹوں کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس پر جمعہ کی صبح عمل درآمد شروع ہوا تھا۔

غزہ کی پولیس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی شروع ہونے سے کئی گھنٹے پہلے اسرائیلی ٹینکوں نے شمالی اور مشرقی غزہ میں شدید گولہ باری کی جس سے کئی گھروں اور دوکانوں میں آگ لگ گئی۔

غزہ کی پولیس کا مزید کہنا ہے کہ حماس کے جنگجوؤں نے ٹینک شکن میزائل کی مدد سے اسرائیلی ٹینک کو نشانہ بنایا اور متاثرہ ٹینک کے عملے کو وہاں سے نکالنے کے لیے آنے والے اسرائیلوں فوجیوں پر بھی حملہ کیا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ جنگ بندی شروع ہونے سے پہلے ہونے والی جھڑپوں میں اس کے پانچ فوجی ہلاک ہوئے، جس کے بعد اب تک ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 61 ہو گئی ہے جب کہ اسرائیل کے تین شہری بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

دوسری طرف 8 جولائی سے شروع ہونے والے لڑائی میں اب تک 1400 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

فلسطینی عہیدیداروں کا کہنا ہے کہ تین روز ہ جنگ بندی طے ہونے سے پہلے 17 فلسطینی ہلاک ہوئے، جن میں ایک ہی خاندان کے دس افراد بھی شامل ہیں۔

جمعرات کو ہونے والے جنگ بندی کے اعلان میں کسی بھی فریق کی طرف سے فوجی پیش قدمی کی ممانعت تھی۔

XS
SM
MD
LG