رسائی کے لنکس

logo-print

فلسطینی لڑکی کی اسرائیلی فوجیوں سے ہاتھاپائی کے مقدمے کی سماعت


فائل

تمیمی پر ہاتھاپائی اور اشتعال انگیزی کے الزامات ہیں، اور سزا کی صورت میں اُنھیں کئی سال قید کی سزا ہوسکتی ہے

ایک اسرائیلی عدالت نے منگل کے روز نوجوان فلسطینی لڑکی کی جانب سےدو اسرائیلی فوجیوں سے ہاتھاپائی کے مقدمے کی سماعت شروع کی۔ تاہم، جج نے مقدمے کی کارروائی کو بند کمرے میں رکھنے کے احکامات جاری کیے۔

احد تمیمی، جو گذشتہ ماہ 17 برس کی ہوگئیں، ہشاش بشاش اور پُراعتماد نظر آئیں، جب وہ پیشی پر کمرہٴ عدالت میں داخل ہوئیں، جو صحافیوں اور غیرملکی سفارت کاروں سے بھرا ہوا تھا۔ اُنھوں نے ہاتھ ہلا کر تھوڑی دیر اپنے رشتہ داروں کی توجہ مبذول کرائی جو سماعت کے دوران موجود تھے، جس کے بعد جج نے اُن کے اہل خانہ کے علاوہ باقی سب کو کمرہٴ عدالت سے باہر نکال دیا۔

استغاثے کی جانب سے 12 نکاتی فرد جرم پڑھنے کے بعد، مقدمے کی سماعت کو آئندہ ماہ تک ملتوی کر دیا گیا۔

تمیمی کو دسمبر میں گرفتار کیا گیا جس سے قبل وہ مغربی کنارے میں اپنے گھر کے باہر اسرائیلی فوجیوں سے الجھ پڑی تھیں، جس کی فلم منظر عام پر آ چکی ہے۔ وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تمیمی ایک فوجی کو ٹانگ پر لات اور منہ پر تھپڑ مار رہی ہیں، جس کے بعد وہ دوسرے فوجی کے منہ پر مکہ رسید کرتی ہیں۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی بستیوں کے خلاف فلسطینی احتجاج کے دوران علاقے میں فوج تعینات کی گئی تھی۔

تمیمی پر ہاتھاپائی اور اشتعال انگیزی کے الزامات ہیں، اور سزا کی صورت میں اُنھیں کئی سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

یہ فلسطینی لڑکی اسرائیلی اور فلسطینیوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری لڑائی کی ایک علامت بن چکی ہیں، جس کا عالمی سطح پر ذکر کیا جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG