رسائی کے لنکس

غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالوں کی رہائی سے متعلق مذاکرات، وفود مصر پہنچنا شروع

فائل فوٹو
فائل فوٹو

۔ غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالوں کی رہائی سے متعلق بات چیت کے لیے مذاکرات کار مصر پہنچ چکے ہیں۔

- امریکی اینجسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر اور قطری وفدبھی مذاکرات میں شرکت کے لیے قاہرہ پہنچ چکے ہیں۔

- اسرائیل اور حماس کے وفود کی شرکت کی بھی اطلاعات ہیں۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کو چھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔ جنگ بندی اور یرغمالوں کی رہائی سے متعلق بات چیت کرنے کے لیے مذاکرات کار مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچ رہے ہیں۔

مصر کی 'القاہرہ نیوز' کے مطابق امریکہ کے خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جینس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر بل برنس بھی ہفتے کو مذاکرات میں شرکت کے لیے قاہرہ پہنچے جب کہ قطری اعلی حکام اور اسرائیلی وفد بھی ممکنہ طور پر مذاکرات میں حصہ لیں گے۔

حماس کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ وہ غزہ میں اپنے نائب چیف خلیل الحیا کو بات چیت کے لیے بھیج رہا ہے جب کہ حماس کی طرف سے اپنے بنیادی مطالبات کو بھی دہرایا گیا ہے جس میں غزہ میں مکمل جنگ بندی اور اسرائیلی فورسز کے مکمل انخلا کے مطالبات شامل ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور امیرِ قطر کے شیخ تمیم بن حماد الثانی کو یرغمالوں کی صورتِ حال سے متعلق خطوط لکھے ہیں۔

امریکی صدر نے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حماس سے وعدوں اور معاہدے پر عمل کرائیں۔

جو بائیڈن نے اسرائیل وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے بھی کہا ہے کہ وہ اپنے مذاکرات کاروں کو با اختیار بنائیں تا کہ جلد از جلد ایک معاہدہ طے پا سکے جس کے تحت غزہ میں انسانی امداد پہنچ سکے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کو اکیسویں صدی کے سب سے ہلاکت خیز تنازعات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

'غزہ کی جنگ انسانیت کے ساتھ غداری ہے'

اقوامِ متحدہ کے انسانی معاملات، ایمر جنسی اور ریلیف کے انڈر سیکریٹری جنرل مارٹن گرفتھس کا کہنا ہے کہ چھ ماہ گزر جانے کے بعد غزہ کی جنگ انسانیت کے ساتھ غداری ہے۔

ہفتے کو جاری کردہ بیان میں گرفتھس نے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درد اور تکلیف کا اعتراف کیا جس کا سلسلہ پچھلے سال سات اکتوبر کو حماس کے جنوبی اسرائیل پر کیے جانے والے حملوں کے بعد شروع ہوا جس میں بارہ سو سے زائد افراد ہلاک اور ڈھائی سو افراد کو یرغمال بنایا گیا۔

ان کے بقول غزہ کے لوگوں کے لیے پچھلے چھ ماہ کی جنگ اموات، تباہی اور ایک شرمناک انسانی قحط لے کر آئی ہے اور لوگ اب تک حملوں سے خوف زدہ ہیں۔

گرفتھس کا جنگ بندی کی درخواست کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہر ایک سیکنڈ قیمتی ہے اور جنگ میں ہر لمحہ انسانی جانیں جا رہی ہیں اور مستقبل میں بھی اس کے اثرات دیکھے جائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگ میں شدت اور اضافہ غیر انسانی بات ہو گی

تینتیس ہزار سے زائد ہلاکتیں

اقوامِ متحدہ، غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام محکمۂ صحت اور ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق گزشتہ برس سات اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ میں اب تک 33 ہزار 137 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 13 ہزار سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔

غزہ کا محکمۂ صحت عام شہریوں اور جنگجوؤں کی ہلاکت میں فرق نہیں کرتا تاہم اس کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں لگ بھگ دو تہائی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فورسز کم کرنےکا اعلان

اسرائیل نے جنوبی غزہ سے افواج کا انخلا شروع کر دیا ہے۔

اتوار کو اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ اس کی ایک بریگیڈ فوج وہاں موجود ہوگی۔

اسرائیل نے بین الاقوامی دباؤ کے سبب رواں برس کے آغاز میں غزہ کی پٹی میں افواج کم کرنے کا عمل شروع کیا تھا۔ اس عمل کے دوران ریزرو فوجیوں کو واپس جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

غزہ جنگ کے چھ ماہ مکمل

حماس نے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کیا تھا جس میں 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد اسرائیل نے غزہ کا اسی دن محاصرہ کرکے حملے شروع کر دہے تھے۔
1/35 حماس نے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کیا تھا جس میں 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد اسرائیل نے غزہ کا اسی دن محاصرہ کرکے حملے شروع کر دہے تھے۔
حماس اور غزہ کی ایک اور عسکری تنظیم اسلامی جہاد نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر سیکڑوں میزائل بھی داغے تھے۔ 
2/35 حماس اور غزہ کی ایک اور عسکری تنظیم اسلامی جہاد نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر سیکڑوں میزائل بھی داغے تھے۔ 
اسرائیل کے مطابق حماس نے اسرائیلی علاقوں پر حملوں کے دوران یرغمال بنائے گئے افراد کو غزہ میں سرنگوں میں قیدی بنا کر رہا ہے۔ البتہ اب تک ان سرنگوں سے اسرائیلی فورسز قیدیوں کی بازیابی میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔
3/35 اسرائیل کے مطابق حماس نے اسرائیلی علاقوں پر حملوں کے دوران یرغمال بنائے گئے افراد کو غزہ میں سرنگوں میں قیدی بنا کر رہا ہے۔ البتہ اب تک ان سرنگوں سے اسرائیلی فورسز قیدیوں کی بازیابی میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔
اسرائیل نے غزہ پر سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد ہی فضائی حملے شروع کر دیے تھے جب کہ لگ بھگ تین ہفتوں کے بعد زمینی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔
4/35 اسرائیل نے غزہ پر سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد ہی فضائی حملے شروع کر دیے تھے جب کہ لگ بھگ تین ہفتوں کے بعد زمینی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔
اسرائیل کے مطابق سات اکتوبر کو حماس کے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں عام شہریوں کی اکثریت تھی۔ حماس نے اسرائیل کے جنوبی علاقوں پر زمین، فضا اور بحری راستے سے ایک ساتھ حملہ کیا تھا۔
5/35 اسرائیل کے مطابق سات اکتوبر کو حماس کے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں عام شہریوں کی اکثریت تھی۔ حماس نے اسرائیل کے جنوبی علاقوں پر زمین، فضا اور بحری راستے سے ایک ساتھ حملہ کیا تھا۔
اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کرکے فلسطینیوں کو شمالی غزہ خالی کرنے کے احکامات دیے تھے جس کے بعد ایک ایک کرکے بیشتر علاقوں کو شہریوں نے انخلا کیا اور اب رفح کے قریب پناہ گزین کیمپ میں ان کی اکثریت موجود ہے۔
6/35 اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کرکے فلسطینیوں کو شمالی غزہ خالی کرنے کے احکامات دیے تھے جس کے بعد ایک ایک کرکے بیشتر علاقوں کو شہریوں نے انخلا کیا اور اب رفح کے قریب پناہ گزین کیمپ میں ان کی اکثریت موجود ہے۔
اسرائیل کے غزہ پر حملے کے بعد بھی حماس نے میزائل حملوں میں  اسرائیلی علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
7/35 اسرائیل کے غزہ پر حملے کے بعد بھی حماس نے میزائل حملوں میں  اسرائیلی علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
غزہ میں اسرائیل کے حملوں کے سبب بیشتر عمارتین تباہ ہو چکی ہیں۔ امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تباہ حال عمارتیں اب رہنے کے قابل نہیں ہیں۔
8/35 غزہ میں اسرائیل کے حملوں کے سبب بیشتر عمارتین تباہ ہو چکی ہیں۔ امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تباہ حال عمارتیں اب رہنے کے قابل نہیں ہیں۔
حماس نے ساتھ اکتوبر 2023 کے حملے میں ڈھائی سو سے زائد افراد کو یرغمال بنایا تھا جن میں سے 100 سے زائد کو نومبر میں چند دن کی جنگ بندی میں رہا کر دیا گیا تھا جب کہ 100 اسرائیلی اب بھی حماس کی تحویل میں ہیں۔
9/35 حماس نے ساتھ اکتوبر 2023 کے حملے میں ڈھائی سو سے زائد افراد کو یرغمال بنایا تھا جن میں سے 100 سے زائد کو نومبر میں چند دن کی جنگ بندی میں رہا کر دیا گیا تھا جب کہ 100 اسرائیلی اب بھی حماس کی تحویل میں ہیں۔
اسرائیل اور حماس میں نومبر 2023 میں چند دن کی جنگ بندی کے دوران حماس نے 100 سے زائد یرغمالوں کو رہا کیا تھا جب کہ اس دوران اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کو رہائی ملی تھی۔
10/35 اسرائیل اور حماس میں نومبر 2023 میں چند دن کی جنگ بندی کے دوران حماس نے 100 سے زائد یرغمالوں کو رہا کیا تھا جب کہ اس دوران اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کو رہائی ملی تھی۔
اسرائیل نے غزہ میں کئی اسپتالوں میں بھی کارروائی کی ہے۔ اسرائیلی فورسز کا الزام ہے کہ حماس ان اسپتالوں کے نیچے سرنگوں کو اپنی عسکری کارروائیوں کے لیے استعمال کرتی ہے جب کہ حماس ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔
11/35 اسرائیل نے غزہ میں کئی اسپتالوں میں بھی کارروائی کی ہے۔ اسرائیلی فورسز کا الزام ہے کہ حماس ان اسپتالوں کے نیچے سرنگوں کو اپنی عسکری کارروائیوں کے لیے استعمال کرتی ہے جب کہ حماس ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔
حماس کی تحویل میں موجود 100 سے زائد یرغمالوں کی رہائی کے لیے اسرائیل میں مسلسل احتجاج ہو رہا ہے۔
12/35 حماس کی تحویل میں موجود 100 سے زائد یرغمالوں کی رہائی کے لیے اسرائیل میں مسلسل احتجاج ہو رہا ہے۔
اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ وہ حماس کے خاتمے اور یرغمالوں کی رہائی تک جنگ جاری رکھے گا البتہ آدھا سال گزرنے کے باوجود اسرائیل یرغمالوں کو بازیاب کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔
13/35 اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ وہ حماس کے خاتمے اور یرغمالوں کی رہائی تک جنگ جاری رکھے گا البتہ آدھا سال گزرنے کے باوجود اسرائیل یرغمالوں کو بازیاب کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔
عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں چھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران فلسطینیوں کو امداد کی فراہمی ناکافی ہے۔ ان کو خوراک، ادویات اور دیگر ضروریات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
14/35 عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں چھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران فلسطینیوں کو امداد کی فراہمی ناکافی ہے۔ ان کو خوراک، ادویات اور دیگر ضروریات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
اسرائیل کے حملوں میں فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے امدادی رضاکار بھی ہلاک ہوئے ہیں جس کے سبب اسرائیل پر جنگ بندی کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
15/35 اسرائیل کے حملوں میں فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کے امدادی رضاکار بھی ہلاک ہوئے ہیں جس کے سبب اسرائیل پر جنگ بندی کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے جنگ میں ڈھائی سو سے زائد اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
16/35 اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے جنگ میں ڈھائی سو سے زائد اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
غزہ کی آبادی لگ بھگ 23 لاکھ ہے جس میں سے 90 فی صد سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان بے گھر فلسطینیوں کی اکثریت رفح میں عارضی کمیپوں میں منتقل ہو چکی ہے۔
17/35 غزہ کی آبادی لگ بھگ 23 لاکھ ہے جس میں سے 90 فی صد سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان بے گھر فلسطینیوں کی اکثریت رفح میں عارضی کمیپوں میں منتقل ہو چکی ہے۔
اسرائیل کا فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم گزشتہ چھ ماہ میں حماس کے میزائل حملوں کو ناکام بناتا رہا ہے۔
18/35 اسرائیل کا فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم گزشتہ چھ ماہ میں حماس کے میزائل حملوں کو ناکام بناتا رہا ہے۔
غزہ میں جنگ کے دوران ہلاک ہونے والوں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔
19/35 غزہ میں جنگ کے دوران ہلاک ہونے والوں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔
اسرائیل کے جنوبی علاقوں پر حماس کے حملوں اور لبنان سے عسکری تنظیم حزب اللہ کے میزائل حملوں کے سبب شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
20/35 اسرائیل کے جنوبی علاقوں پر حماس کے حملوں اور لبنان سے عسکری تنظیم حزب اللہ کے میزائل حملوں کے سبب شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
غزہ کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی کارروائیوں میں چار سو سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔
21/35 غزہ کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی کارروائیوں میں چار سو سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔
غزہ میں بیشتر اسپتال بند ہو چکے ہیں اور جو چند اسپتال فعال ہیں ان میں بھی پوری استعداد کے ساتھ زخمیوں کا علاج کرنے کی سہولیات موجود نہیں ہیں جس کے سبب رضاکار زیادہ اموات کا اندیشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
22/35 غزہ میں بیشتر اسپتال بند ہو چکے ہیں اور جو چند اسپتال فعال ہیں ان میں بھی پوری استعداد کے ساتھ زخمیوں کا علاج کرنے کی سہولیات موجود نہیں ہیں جس کے سبب رضاکار زیادہ اموات کا اندیشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
23/35 عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
غزہ میں مسلسل اموات کے سبب ہلاک ہونے والوں کو اب اجتماعی قبروں میں دفنایا جا رہا ہے۔
24/35 غزہ میں مسلسل اموات کے سبب ہلاک ہونے والوں کو اب اجتماعی قبروں میں دفنایا جا رہا ہے۔
اسرائیل میں شہریوں کی جانب سے یرغمالوں کی بازیابی اور حکومت سے مستعفی ہونے کے لیے احتجاج میں بھی شدت آتی جا رہی ہے۔
25/35 اسرائیل میں شہریوں کی جانب سے یرغمالوں کی بازیابی اور حکومت سے مستعفی ہونے کے لیے احتجاج میں بھی شدت آتی جا رہی ہے۔
پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں جنگ بندی اور غزہ میں امداد کی فراہمی کے لیے احتجاج کیا جا رہا ہے۔
26/35 پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں جنگ بندی اور غزہ میں امداد کی فراہمی کے لیے احتجاج کیا جا رہا ہے۔
امریکہ سمیت بعض ممالک غزہ میں شہریوں کو فضا سے امداد پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
27/35 امریکہ سمیت بعض ممالک غزہ میں شہریوں کو فضا سے امداد پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسرائیلی فورسز حماس کی کئی سرنگیں تباہ کر چکی ہے جب کہ فورسز کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے حماس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو تباہ کر دیا ہے۔
28/35 اسرائیلی فورسز حماس کی کئی سرنگیں تباہ کر چکی ہے جب کہ فورسز کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے حماس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو تباہ کر دیا ہے۔
اسرائیل میں وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے استعفے کے لیے مسلسل احتجاج ہو رہا ہے۔
29/35 اسرائیل میں وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے استعفے کے لیے مسلسل احتجاج ہو رہا ہے۔
حماس کے زیرِ انتظام غزہ کے محکمۂ صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کی کارروائیوں میں 33 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 75 ہزار زخمی ہوئے ہیں۔
30/35 حماس کے زیرِ انتظام غزہ کے محکمۂ صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کی کارروائیوں میں 33 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 75 ہزار زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیل پر حماس کے حملوں کے بعد اسرائیلی شہریوں میں اپنے دفاع کے لیے ہتھیار چلانا سیکھنا اور اپنے پاس رکھنے کی شرح بڑھ رہی ہے۔
31/35 اسرائیل پر حماس کے حملوں کے بعد اسرائیلی شہریوں میں اپنے دفاع کے لیے ہتھیار چلانا سیکھنا اور اپنے پاس رکھنے کی شرح بڑھ رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کی قرار داد کثرت رائے سے منظور ہو چکی ہے البتہ اب بھی غزہ میں لڑائی جاری ہے۔
32/35 اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کی قرار داد کثرت رائے سے منظور ہو چکی ہے البتہ اب بھی غزہ میں لڑائی جاری ہے۔
رفح میں قائم عارضی کمیپوں میں فلسطینیوں کو بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں ہیں۔
33/35 رفح میں قائم عارضی کمیپوں میں فلسطینیوں کو بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں ہیں۔
غزہ کے شمالی اور وسطی علاقوں سے فلسطینی نقل مکانی کرکے مصر کی سرحد کے قریب عارضی کمیپوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔
34/35 غزہ کے شمالی اور وسطی علاقوں سے فلسطینی نقل مکانی کرکے مصر کی سرحد کے قریب عارضی کمیپوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔
اسرائیل اور حزب اللہ میں بھی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور دونوں جانب سے عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
35/35 اسرائیل اور حزب اللہ میں بھی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور دونوں جانب سے عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
Previous slide
Next slide

یہ واضح نہیں ہے کہ یہ صورت حال اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے رفح میں ممکنہ زمینی کارروائی کے اعلان پر اثر انداز ہو گی یا نہیں۔ کیوں کہ نیتن یاہو مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ حماس کے خاتمے کے لیے رفح میں زمینی کارروائی ضروری ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق جنوبی غزہ کے مرکزی شہر خان یونس کے مکینوں کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فورسز کے اہلکار شہر کے مرکز سے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج اب مشرقی علاقوں کی جانب بڑھ رہی ہے۔

یرغمالوں کی رہائی تک جنگ بندی سے انکار

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی تک جنگ بندی قبول نہیں کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے اتوار کو جنگ کے چھ ماہ مکمل ہونے کے موقع پر ایک بیان میں کہا کہ بین الاقوامی دباؤ کے باوجود اسرائیل غزہ کی انتہا پسند تنظیم کے مطالبات تسلیم نہیں کرے گا۔

دوسری جانب اسرائیلی فورسز نے کہا ہے کہ اس کو ایک یرغمال کی لاش ملی ہے۔

ہفتے کو ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کو یرغمال کی لاش خان یونس سے ملی ہے جس کا نام ایلاد ہے اور وہ اسرائیل میں کسان تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی عسکری تنظیم اسلامی جہاد نےایلاد کو جنوری میں قتل کرکے دفن کر دیا تھا۔

اسلامی جہاد یا غزہ کی حکمراں تنظیم حماس نے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

اس رپورٹ میں خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ اور ’اے پی‘ سے حاصل کردہ معلومات شامل کی گئی ہیں۔

This item is part of
XS
SM
MD
LG