رسائی کے لنکس

عمران خان پاکستان کو بدل نہ سکے تو بہت بڑی ناکامی ہوگی، جہانگیر ترین


جہانگیر ترین اور عمران خان

پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر خان ترین نے کہا ہے کہ عمران خان اور ان کے ساتھی پاکستان کو تھوڑا سا بہتر کرنے نہیں، ٹرانسفارم کرنے آئے تھے، مکمل طور پر بدلنے آئے تھے۔ اگر بدل نہیں سکیں گے تو یہ بہت بڑی ناکامی ہوگی۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار وائس آف امریکہ کے لیے سہیل وڑائچ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کیا۔ سینئر اینکرپرسن سہیل وڑائچ آئندہ بھی وائس آف امریکہ کے لیے خصوصی انٹرویوز کریں گے۔

ملک میں حال میں آٹے اور چینی کا بحران آیا اور بعض لوگوں نے الزام لگایا کہ اس بحران میں جہانگیر ترین نے اربوں کا منافع کما لیا۔ سہیل وڑائچ نے انٹرویو کا آغاز اسی سوال سے کیا۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ پاکستان میں آٹے کا بحران سندھ حکومت کی وجہ سے پیدا ہوا جس نے گوداموں سے بروقت گندم نہیں اٹھائی۔ وفاقی حکومت نے وقت سے پہلے سندھ حکومت کو اس بارے میں مشورہ دیا تھا اور بعد میں گندم بھی فراہم کی۔

اتفاق سے ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال کردی اور پنجاب حکومت نے لاعلمی کی بنیاد پر بارڈر سیل کر دیا۔ اچانک سپلائی ختم ہونے سے قیمتیں بڑھ گئیں۔ یہ معاملہ وزیراعظم کی مداخلت سے حل ہوا۔

اس وقت پنجاب میں آٹا چالیس روپے کلو مل رہا ہے, لیکن سندھ میں اٹھاون ساٹھ روپے ہے۔ صوبائی حکومت سے پوچھنا چاہیے کہ سبسڈی پر گندم مل رہی ہے تو قیمت زیادہ کیوں ہے۔

پی ٹی آئی رہنما کے مطابق، چینی کی قیمت بڑھنے کا سبب یہ ہے کہ اس سال گنا کم کاشت کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گنا بیس فیصد کم ہے اس لیے چینی تیس فیصد کم بنے گی۔ اس سال چینی درآمد کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ میں نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اگر آپ چینی کی قیمتیں نیچے لانا چاہتے ہیں تو درآمد پر ساری ڈیوٹیز ہٹادیں۔ چینی کو درآمد ہونے دیں۔ مسابقت ہوگی تو نرخ مستحکم ہوجائے گا۔ لیکن، کابینہ میں لوگ شاید رسک لینے سے ڈر رہے ہیں۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ مجھ پر منافع کمانے کا الزام غلط ہے۔ میری ہر چیز کاغذوں پر ہے، کوئی بھی دیکھ سکتا ہے۔ میں نے سب سے زیادہ منافع اس دور میں کمایا تھا جب اپوزیشن میں تھا۔ اس بار اتنا منافع نہیں ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ نقصان ہی ہوجائے۔

حکومت نے کمپٹی شن کمیشن آف پاکستان کو چینی کے معاملے کا جائزہ لینے کا کہا گیا تھا۔ انھوں نے اپنی رپورٹ پیش کی کہ اس میں کارٹیل نہیں ہے۔ لیکن آٹے کا کارٹیل ہے اس لیے کچھ چھاپے بھی مارے گئے ہیں۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ انھیں سیاست میں حصہ لینے پر پابندی کے فیصلے پر دکھ ہے۔ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔ زندگی بھر کی پابندی کا فیصلہ کرنے والی سپریم کورٹ پر حیرت ہے۔ لیکن میں صابر آدمی ہوں۔ اسی میں اللہ تعالیٰ کی بہتری ہوگی۔ اس لیے چپ کرکے بیٹھا ہوں۔

سہیل وڑائچ نے سوال کیا کہ کیا کبھی وزیراعظم سے بات کی کہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کی جائے اور نااہلی کو ختم کیا جائے، تاکہ آپ تحریک انصاف کے فیصلوں میں شریک ہوں۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ میری عادت نہیں ہے کہ میں اپنے لیے اس طرح کی کوئی چیز مانگوں۔ جس نے کرنا ہوگا، وہ خود کرے گا۔ لیکن میں کبھی مانگوں گا نہیں۔ شاید مسئلہ یہ ہے کہ میرے ساتھ کچھ اچھا ہوگا تو شاید نواز شریف کے ساتھ بھی اچھا ہوجائے۔ یہ وجہ ہے کہ یہ کام رکا ہوا ہے۔

جہانگیر ترین نے کہا کہ میں پی ٹی آئی کا موقف شدت سے پیش نہ کرتا تو یہ حکومت نہ بنتی۔ جب حکومت بنانی تھی تو وہ اپنے جہاز پر ہر جگہ وقت پر پہنچا اور مختلف جماعتوں سے مذاکرات کرکے انھیں حمایت پر راضی کیا۔ سب سے اچھے تعلقات تھے اس لیے مذاکرات سے سب معاملات طے ہوگئے۔ لیکن پھر میں ایک ہفتے کے لیے ملک سے باہر گیا اور پیچھے مجھے مذاکراتی کمیٹی سے نکال دیا گیا۔ پرائم منسٹر کپتان ہیں۔ ان کی مرضی ہے، جو ٹیم بنائیں۔ یہ ان کی صوابدید ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کو جو حالات ملے، وہ اس قدر گمبھیر تھے کہ معیشت کو ٹھیک کرنے کے لیے ایک ڈیڑھ سال کافی نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ ہم نے ریفارم پروگرام ذرا تاخیر سے شروع کیا۔ تھوڑا پہلے شروع کرلیتے تو آج کافی چیزوں سے گزر کے آگے نکل جاتے۔ ملک اسی طرح ٹھیک ہوگا کہ معیشت مستحکم ہو۔ ملک میں سرمایہ کاری نہیں آئے گی تو ملک نہیں چل سکتا۔

شاہ محمود قریشی سے اختلافات کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ان کے ساتھ مسئلے مسائل کئی مہینے پہلے دور کرلیے تھے۔ اسد عمر سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ میں حکومت میں نہیں ہوں۔ یہ سب لوگ کابینہ میں بیٹھے ہیں۔ میں نہ تو کسی کا کمپیٹیٹر ہوں، نہ میں الیکشن لڑ سکتا ہوں، نہ میں پوزیشن لے سکتا ہوں۔ ہماری نئی پارٹی ہے۔ دوسری پارٹیوں سے لوگ اس میں آئے ہیں۔ وہ ابھی پوری طرح سے پارٹی میں جیل نہیں ہوئے۔ لوگ عام طور پر یہی کہتے ہیں کہ ہمیں کسی اور پارٹی سے خطرہ نہیں ہے۔ خطرہ ہے تو پارٹی کے اندر سے ہے۔

جہانگیر ترین نے کہا انھوں نے حال میں ایک عوامی سروے کروایا ہے۔ دسمبر میں اس کا ڈیٹا کلیکٹ کیا گیا ہے۔ لوگ اب بھی عمران خان سے اتنی ہی امید رکھ کے بیٹھے ہیں۔ پریشان ضرور ہیں اور مہنگائی ان کی سب سے بڑی پریشانی ہے۔ لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ نون لیگ کی مقبولیت زیادہ گری ہے۔ نواز شریف کے بغیر نون لیگ کی کوئی حیثیت نہیں۔ نواز شریف باہر چلے گئے اور لوگوں کو یہ بات پسند نہیں آئی۔ اس وقت ہماری کوئی اپوزیشن نہیں ہے۔ ہم اگر اپنے کام صحیح کریں، اچھی طرح گورن کریں، لوگوں کو ڈلیور کرکے دیں تو اگلے الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوسکتے ہیں۔

مسئلہ سارا مہنگائی کا ہے۔ اور یہ مسئلہ دو تین وجہ سے ہے۔ ایک، کھانے پینے کی چیزیں مہنگی ہوئی ہیں۔ دوسرے ہمیں بجلی اور گیس کے بل بڑھانا پڑے، کیونکہ الیکشن سے دو سال پہلے سے لاگت بڑھتی گئی۔ لیکن، سابق حکومت نے بل نہیں بڑھائے اور سرکولر ڈیٹ میں ڈالتے گئے۔ ہر ماہ اڑتیس ارب روپے کا گردشی قرضہ بڑھ رہا تھا۔ سو ارب روپے کا گیس میں مسئلہ تھا۔

سہیل وڑائچ نے سوال کیا کہ انھوں نے بیٹے کو ایک الیکشن لڑوایا لیکن اب وہ سیاست میں نظر نہیں آ رہا۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ میرا ایک بیٹا ہے اور کاروبار بہت بڑا ہے۔ بیٹے کو سیاست میں ڈال دوں تو کاروبار پھر کون سنبھالے گا؟ میں نے اسے کاروبار کی طرف لگا دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG