رسائی کے لنکس

logo-print

16 بار الیکشن جیتنے والے کو پرائمری میں استاد سے شکست


نیویارک سے 16 بار ایوان نمائندگان کا الیکشن جیتنے والے کانگریس مین ایلیٹ اینگل ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخاب میں ناکام ہوگئے ہیں۔ انھیں مڈل اسکول کے سابق پرنسپل جمال بومین نے اپ سیٹ شکست سے دوچار کیا ہے۔

چوالیس سالہ بومین سیاسی طور پر نوآموز ہیں اور انھوں نے کبھی عوامی عہدہ حاصل نہیں کیا۔ نیویارک کے نسلی طور پر متنوع حلقے کے سیاہ فام ترقی پسند چیلنجر کا کہنا تھا کہ 73 سالہ ایلیٹ اینگل اب پہلے کی طرح عوام کی نمائندگی کے قابل نہیں۔

جمال بومین نے پرائمری الیکشن کے اگلے دن 24 جون کو اپنی کامیابی کا اعلان کردیا تھا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسے جمعے کو ڈاک سے بھیجے گئے ووٹوں کا نتیجہ ملا جس میں اینگل کو معمولی برتری حاصل تھی۔ لیکن اتنی نہیں کہ اس سے مجموعی نتائج بدل سکتے۔

اینگل نے کہا کہ نتیجہ واضح ہے اور میں موسم خزاں کے انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کا نامزد امیدوار نہیں بنوں گا۔ کانگریس میں برونکس اور ویسٹ چیسٹر کے عوام کی خدمت کرنا عظیم ترین اعزاز تھا اور یہ میری زندگی کے بہترین 32 سال تھے۔

بومین کو ان کی غیر معمولی کامیابی ایسی انتخابی مہم کے بعد ملی جو پہلے کرونا وائرس کی وبا اور پھر جارج فلائیڈ کی موت کے بعد احتجاج سے متاثر ہوئی۔

جمال بومین نے ایک بیان میں کہا کہ میں ایک سیاہ فام شخص ہوں جس کی پرورش ایک تنہا ماں نے کی ہے۔ یہ کہانی عام طور پر کانگریس پہنچ کر ختم نہیں ہوجاتی۔ لیکن وہ لڑکا، جسے 11 سال کی عمر میں پولیس تشدد سہنا پڑا تھا، اب آپ کا اگلا نمائندہ بننے والا ہے۔

سماجی فاصلے کی پابندیوں کی وجہ سے دونوں امیدوار روایتی انتخابی مہم نہیں چلا سکے تھے۔ لیکن بومین نے اینگل کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ جب ان کا حلقہ وبا سے بدترین متاثر تھا تو وہ میری لینڈ میں اپنے گھر میں بیٹھے رہے۔

اینگل کا کہنا تھا کہ وہ دارالحکومت واشنگٹن سے اپنے حلقے کے لیے کام کر رہے تھے۔

اس کے بعد منی سوٹا میں جارج فلائیڈ کی موت کے بعد دو راتوں تک لوٹ مار ہوئی تو اینگل مقامی رہنماؤں کے ساتھ برونکس کی ایک تقریب میں امن کی اپیل کرنے آئے لیکن وہاں ان سے مہلک غلطی سرزد ہوئی۔

انھوں نے جلسے کے منتظم سے تقریر کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اگر مجھے پرائمری درپیش نہ ہوتی تو کوئی پرواہ نہ کرتا۔ ان کا یہ جملہ سب نے سن لیا کیونکہ اس وقت مائیک کھلا ہوا تھا۔

سفید فام اینگل نے بعد میں کہا کہ وہ بلیک لائیوز میٹر کے نعرے پر یقین رکھتے ہیں اور ان کی بات کو غلط معنوں میں لیا گیا۔ لیکن بومین نے کہا کہ اس جملے سے واضح ہوتا ہے کہ حلقے کو نئی قیادت کی ضرورت ہے۔

دو سال پہلے صیموکریٹک سوشلسٹ الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے پڑوسی حلقے سے اسی جیسی کامیابی حاصل کی تھی جب انھوں نے سیایس طور پر مضبوط ڈیموکریٹ رہنما جو کرولی کو ہرا کر اپ سیٹ کردیا تھا۔

بومین نیویارک شہر کے سرکاری رہائشی علاقے میں پلے بڑھے۔ حکومت ایسے علاقوں کے گھر ان خاندانوں کو دیتی ہے جو انتہائی غریب ہوتے ہیں۔ وہ کئی سال تک اسکول میں پڑھاتے رہے اور اس کے بعد برونکس کے ایک مڈل اسکول کے بانی پرنسپل بن گئے۔

اس حلقے میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹر بڑی تعداد میں رہتے ہیں اور پرائمری جیتنے والے رہنما کی نومبر کے انتخابات میں کامیابی تقریباً یقینی ہوجاتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG