رسائی کے لنکس

logo-print

ڈیموکریٹس کے مباحثے کا دوسرا روز، جو بائیڈن پر کڑی تنقید


امریکہ میں صدارتی انتخاب 2020 کے لیے ڈیموکریٹ پارٹی کے ٹکٹ کے امیدواروں کے مابین بدھ کو مسلسل دوسرے روز جاری رہا جس کے دوران حریف امیدواروں نے سابق نائب صدر جو بائیڈن کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

ریاست مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ میں ہونے والے مباحثے میں امیدواروں کے درمیان صحتِ عامہ، امیگریشن اور نظامِ انصاف میں مجوزہ اصلاحات کے موضوعات پر زبردست بحث ہوئی۔

امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' کے تحت ہونے والے دو روزہ مباحثے کے دوران ڈیمو کریٹ امیدواروں نے جہاں مختلف معاملات پر اپنی پالیسیوں کی وضاحت کی، وہیں انہوں نے اپنے حریفوں پر تنقید کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔

صدارتی انتخاب 2020 میں ڈیمو کریٹ پارٹی کے ٹکٹ کے 25 امیدوار میدان میں ہیں جن میں سے 20 کو مباحثے میں شرکت کا اہل قرار دیا گیا تھا۔

امیدواروں کی بڑی تعداد کے پیشِ نظر مباحثے کو دو روز میں تقسیم کیا گیا تھا جس کے دوران ہر روز 10، 10 امیدواروں نے اپنی اپنی پالیسیوں اور ایجنڈے کی وضاحت کی۔

اب تک کے جائزوں کے مطابق سابق نائب صدر جو بائیڈن ڈیموکریٹ پارٹی کے ٹکٹ کے سب سے مضبوط امیدوار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بدھ کو مباحثے کے دوران وہ بیشتر حریف امیدواروں کے نشانے پر رہے۔​

لیکن جون میں میامی میں ہونے والے ڈیموکریٹ امیدواروں کے پہلے مباحثے کے برعکس اس بار جو بائیڈن زیادہ تیاری کے ساتھ میدان میں اترے تھے اور انہوں نے اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا بھرپور جواب دیا۔

بدھ کو مباحثے کےدوران جو بائیڈن کے علاوہ زیادہ تر نظریں کیلی فورنیا سے منتخب سینیٹر کاملا ہیرس پر مرکوز رہیں جنہیں پارٹی ٹکٹ کا ایک اور مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔

بائیڈن اور ہیرس نے دورانِ مباحثہ ایک دوسرے پر بھی تابڑ توڑ حملے کیے۔ جو بائیڈن نے سینیٹر ہیرس کے تجویز کردہ ہیلتھ کیئر منصوبے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں خزانے پر 30 کھرب ڈالر کا بوجھ پڑے گا اور اس کی وجہ سے متوسط طبقے پر ٹیکس بڑھانے پڑیں گے۔

سینیٹر ہیرس نے بائیڈن کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی حکومت نے ہیلتھ کیئر سے متعلق کچھ نہ کیا تو اسے کہیں زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔

ہیلتھ کیئر نظام امریکہ میں ایک اہم سیاسی اور سماجی مسئلہ رہا ہے اور ہر بار انتخابات میں سرِ فہرست موضوع ہوتا ہے۔

جو بائیڈن کا مؤقف ہے کہ ہیلتھ کیئر کے کسی نئے نظام کے بجائے صدر براک اوباما کے دور میں متعارف کرائے جانے والے ہیلتھ کیئر نظام میں بعض اصلاحات کے بعد اسے دوبارہ نافذ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن مباحثے کے دوران مخالف امیدواروں کا کہنا تھا کہ اس نظام کے دوبارہ نفاذ کے باوجود کئی لاکھ افراد ہیلتھ انشورنس سے محروم رہیں گے۔

مباحثے کے دوران جو بائیڈن کو ایک اور امیدوار سینیٹر کیری بکر کی جانب سے بھی حملوں کا سامنا رہا۔ اس کے جواب میں سابق نائب صدر نے سینیٹر بکر کی نیو جرسی کے شہر نیوورک کے میئر کے طور پر کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

سینیٹر کاملا ہیرس اور سینیٹر کیری بکر ڈیموکریٹ کے ٹکٹ کے دو اہم ترین غیر سفید فام امیدوار ہیں۔ افریقن امریکن کمیونٹی ڈیموکریٹس کا اہم حلقۂ انتخاب رہی ہے اور کسی بھی امیدوار کے لیے ان کی حمایت کا حصول اہم سمجھا جاتا ہے۔

بدھ کو مباحثے کا دوسرا روز منگل کو ہونے والی بحث سے اس لحاظ سے مختلف تھا کہ اس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی پالیسیوں پر نسبتاً زیادہ بات ہوئی۔

منگل کو بحث کے پہلے روز ڈیموکریٹ امیدواروں کا زیادہ تر زور ایک دوسرے کی پالیسیوں پر تنقید اور انہیں رد کرنے میں صرف ہوا تھا۔

مباحثے کا زیادہ تر مرکز دو آزاد خیال امیدوار سینیٹر برنی سینڈرز اور سینیٹر الزبتھ وارن رہے تھے جنہیں مباحثے میں شریک دیگر معتدل خیالات کے حامل ڈیموکریٹ امیدواروں نےتنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

ڈیموکریٹ امیدواروں کے مابین مزید دو مباحثے ستمبر اور اکتوبر میں منعقد ہوں گے۔ لیکن ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی نے ان مباحثوں میں شرکت کا معیار مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد امکان ہے کہ مباحثے میں شرکت کے اہل امیدواروں کی تعداد کم ہوجائے گی۔

ان مباحثوں کے بعد فروری 2020 میں ڈیموکریٹک پارٹی کی پرائمریز اور 'کاکس' ووٹنگ کا سلسلہ شروع ہوگا جس کے اختتام پر حتمی امیدوار کا اعلان کیا جائے گا۔

منتخب امیدوار نومبر 2020 میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ کرے گا جو مسلسل دوسری مدت کے لیے ری پبلکن پارٹی کی طرف سے انتخاب لڑنے کا اعلان کرچکے ہیں۔

سیاسی ماہرین کے مطابق ڈیمو کریٹ ووٹرز ایسے امیدوار کے حق میں اپنا ووٹ دیں گے جو خارجہ پالیسی، صحت، امیگریشن اور ٹیکس اصلاحات کے معاملے پر ان کے جذبات کی ترجمانی کے علاوہ صدر ٹرمپ کو شکست دینے کی بھی اہلیت رکھتا ہو۔

اس وقت تک سامنے آنے والے جائزوں کے مطابق سابق نائب صدر جو بائیڈن کے علاوہ سینیٹر کاملا ہیرس، سینیٹر برنی سینڈرز اور سینیٹر الزبتھ وارن ڈیموکریٹس کی نامزدگی کی مضبوط ترین امیدوار ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG