رسائی کے لنکس

logo-print

چچا کی ثالثی، اردن کے شاہ عبداللہ اور شہزادہ حمزہ میں صلح


فائل فوٹو

اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور ان کے سوتیلے بھائی شہزادہ حمزہ کے درمیان کشیدگی سے پیدا ہونے والا سیاسی بحران ثالثی کے ذریعے حل کر لیا گیا ہے۔

شاہی خاندان کے عوامی سطح پر نمایاں جھگڑے کے دوران شاہ عبداللہ نے شہزادہ حمزہ کو بیرونی مدد سے اردن کو غیر مستحکم کرنے کے الزام میں نظر بند کر دیا تھا جب کہ شہزادہ حمزہ نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ گھر پر رہنے اور اختلافی بیانات دینے سے گریز نہیں کریں گے۔

اس تنازع کے خاتمے کا اعلان شاہ عبداللہ کے چچا حسن کی شہزادہ حمزہ سے ملاقات کے بعد کیا گیا ہے۔ یہ ملاقات رائل ہاشمی کورٹ میں ہوئی جہاں شہزادہ حمزہ کے بھائی ہاشم اور ان کے تین کزنز بھی شریک تھے۔

شاہ عبداللہ کے چچا حسن نے فریقین میں ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔

مصالحت کے بعد جاری کیے گئے ایک بیان میں شہزادہ حمزہ نے کہا کہ وہ اردن کے شاہ اور ملک کے آئین کے وفادار رہیں گے۔ اس بیان پر شہزادے کے دستخط بھی موجود ہیں۔

شہزادہ حمزہ (فائل فوٹو)
شہزادہ حمزہ (فائل فوٹو)

اس سے قبل شاہی کشیدگی کے دوران شہزادہ حمزہ نے پیر کو اپنے ایک ریکارڈڈ بیان میں کہا تھا کہ وہ گھر پر رہنے اور بیانات سے باز رہنے جیسی حکومتی دھمکیوں کی پرواہ نہیں کریں گے۔

شہزادہ حمزہ پر الزام ہے کہ وہ اپنے سوتیلے بھائی شاہ عبداللہ کی حکومت میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازش کر رہے تھے۔اردن کے حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ شہزادہ حمزہ نے غیر ملکی مدد سے ایک سازش کی، جسے ناکام بنا دیا گیا۔ تاہم اس سازش کی تفصیلات نہیں بتائی گئی تھیں۔

حمزہ نے ایسی کسی بھی سازش میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُنہیں کرپشن اور کمزور حکمرانی کے خلاف بولنے پر نشانہ بنایا گیا۔

ریکارڈڈ بیان میں حمزہ کا کہنا تھا کہ فوج کے چیف آف اسٹاف ان کے پاس آئے اور اُنہیں سیکیورٹی ایجنسیوں کے سربراہان کی جانب سے دھمکیاں دیں۔

شہزادہ حمزہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے چیف آف اسٹاف کی باتیں بھی ریکارڈ کر لی ہیں اور اگر انہیں کچھ ہوا تو وہ اس ریکارڈنگ کو بیرونِ ملک بسنے والے اپنے عزیز اور رشتے داروں کو بھیج دیں گے۔

شہزادہ حمزہ نے ایسے کسی حکم کی تعمیل کرنے ساے انکار کر دیا تھا جس میں انہیں گھر سے باہر نکلنے سے منع کیا گیا ہو یا انہیں لوگوں سے ٹوئٹر پر بات کرنے یا اپنے اہلِ خانہ سے ملنے سے روکا جائے۔

شہزادہ حمزہ کا کہنا تھا جب فوج کا چیف آف اسٹاف انہیں دھمکی دے گا تو پھر یہ سب ناقابلِ قبول ہے۔

اردن کی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل یوسف ہونیتی نے پیر کو کہا تھا کہ ملک کی مسلح افواج اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے پاس یہ طاقت اور تجربہ ہے کہ وہ اندرونِ ملک یا خطے میں پیدا ہونے والی کسی پیش رفت سے نمٹ سکیں۔

کنگ عبداللہ دوم (فائل فوٹو)
کنگ عبداللہ دوم (فائل فوٹو)

اردن کی سرکاری نیوز ایجنسی 'پیٹرا' کے مطابق جنرل یوسف نے یہ بیان ملک کے مشرقی علاقے میں 'شیلڈ آف دی نیشن' نامی فوجی مشق کے موقع پر دیا تھا۔ جس میں بری فوج کی متعدد بریگیڈ، اسپیشل فورسز، باڈی گاررڈز اور رائیل ایئر فورس شامل تھیں۔

خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق مذکورہ مشق بظاہر ہفتے کے آخر میں ہونے والے واقعات سے تعلق نہیں رکھتی کیوں کہ ایسی مشقوں کا منصوبہ بہت پہلے بنا لیا جاتا ہے۔

جنرل یوسف کا کہنا تھا کہ فوج کسی بھی ایسے عناصر کا سامنا کرے گی جو ملک کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈالے، شہریوں کو خوف زدہ کرے یا ریاست کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہو۔

ملک کے وزیرِ خارجہ ایمان صفادی کا اتوار کو کہنا تھا کہ شہزادہ حمزہ نے گفتگو کو ریکارڈ کر کے بیرونِ ملک اپنے ذرائع کو بھیج دیا ہے۔ تاہم انہوں نے مبینہ سازش کی تفصیلات یا اس بارے میں نہیں بتایا کہ دوسرے کون سے ملک اس میں مبینہ طور پر ملوث ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ شہزادہ حمزہ کے 14 سے 16 ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن میں شاہی خاندان کے رکن، شریف حسن بن زید، کابینہ کے سابق رکن اور ایک وقت میں شاہی عدالت کے سربراہ باسیم اودھ اللہ شامل ہیں۔

امریکہ اور دیگر عرب ملکوں کی فوری طور پر شاہ عبداللہ کے ساتھ کھڑے ہونے سے اردن کی اسٹریٹیجک اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ عبداللہ اور حمزہ دونوں شاہ حسین کے بیٹے ہیں۔ شاہ حسین کی وفات کے 20 برس بعد بھی ان کا بے حد احترام کیا جاتا ہے۔ سن 1999 میں تخت سنبھالتے ہوئے شاہ عبداللہ نے شہزادہ حمزہ کو اپنا ولی عہد مقرر کیا تھا۔ تاہم پانچ برس بعد ان سے یہ عہدہ واپس لے لیا گیا تھا۔

بظاہر دونوں میں اچھے تعلقات رہے ہیں، تاہم حمزہ نے بعض اوقات حکومتی پالسیوں پر تنقید کی۔ حال ہی میں انہوں نے ملک کے طاقتور قبائلی سرداروں کے ساتھ اپنے تعلقات بڑھائے ۔ اس اقدام کو شاہ عبداللہ کے لیے ایک خطرے کے طور پر دیکھاگیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG