رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی کشمیر: کرونا کے مشتبہ مریض کو قرنطینہ نہ کرنے کی خبر دینے پر صحافی گرفتار


فائل فوٹو

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس نے ایک مقامی صحافی کو کرونا وائرس کے مشتبہ مریض کو قرنطینہ نہ کرنے کے بارے میں خبر شائع کرنے پر گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔

جنوبی ضلع راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے اردو اخبار اور ایک نجی ٹی وی چینل سے منسلک صحافی خورشید بیگ کو مقامی پولیس نے اس ڈاکٹر کی شکایت پر گرفتار کیا جس نے کرونا وائرس میں مبتلا ایک مریض کا اپنے پرائیویٹ کلینک میں طبی معائنہ کیا تھا۔

خورشید بیگ نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ تراڑ دیوان نامی گاؤں کے ایک شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد ضلعی انتظامیہ نے گاؤں کو مکمل طور پر سیل کرتے ہوئے 30 سے زائد افراد کو قرنطینہ کر دیا گیا تھا۔

مذکورہ مریض رپورٹ آنے سے قبل ایک نجی کلینک میں اپنا معائنہ کرا کر گیا تھا اور اس اسپتال کے تین ملازمین کو بھی آئسولیٹ کیا گیا۔ مگر ڈاکٹر کو آئسولیٹ نہیں کیا گیا اور نہ ہی اسپتال کو سیل کیا گیا ہے۔

پولس نے صحافی خورشید بیگ کے خلاف مذکورہ ڈاکٹر کی درخواست پر مقدمہ درج کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا تھا۔

خورشید بیگ کی گرفتاری کے خلاف صحافیوں نے احتجاج کیا تو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے پولیس حکام کو فوری طور پر انہیں رہا کرنے کی ہدایت دی جس کے بعد صحافی کے خلاف مقدمہ ختم کرتے ہوئے انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔

تاہم خورشید بیگ کو ایک دن اور ایک رات تھانے میں گزارنا پڑی جس پر پاکستانی کشمیر کی صحافتی تنظیموں نے شدید مذمت کی ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیر اطلاعات مشتاق منہاس نے واقعے کے بارے میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے صحافی کی گرفتاری کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو رہائی کی ہدایت دی۔

مشتاق مہناس نے بتایا کہ انہوں نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم راجہ فاروق حیدر سے واقعے کا نوٹس لینے کا کہا اور صحافی کے خلاف مقدمہ بھی واپس کرایا۔

انہوں نے کہا کہ اعلٰی پولس حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ واقعے کی مکمل انکوائری کریں اور ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG