رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں صحافیوں کے لیے خطرات میں مسلسل اضافہ: رپورٹ


صحافیوں کی مقامی اور بین الاقوامی تنظمیں گزشتہ دو سال سے پاکستان کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے لیے مہلک ترین سال قرار دیتی آئی ہیں اور مختلف سطحوں پر صحافیوں سے مذاکرات کے بعد اب علاقائی تنظیموں نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حالات بدستور جوں کے توں ہیں۔

صحافیوں کے تحفظ اور ان کے حقوق کے لیے کام کرنے والی علاقائی تنظیموں نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں شعبہ صحافت سے وابستہ افراد کے لیے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

میڈیا کمیشن آف پاکستان نامی تنظیم نے جنوبی ایشیا کے صحافیوں کی نمائندہ تنظیم ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن یا ’سیفما‘ کی معاونت سے تیار کی گئی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک میں شعبہ صحافت سے وابستہ افراد کے لیے پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھانے کے لیے حالات ساز گار نہیں ہیں بلکہ یہ بتدریج خراب ہو رہے ہیں۔

جمعہ کو اسلام آباد میں رپورٹ کے اجراء کے موقع پر سیفما کے سیکرٹری جنرل امتیاز عالم نے کہا کہ شورش زدہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کی مناسب تربیت نا ہونے کے باعث ان کے لیے خطرات میں خاص طور پر اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ان کی ذاتی سلامتی بن چکا ہے جب کہ حکومت اور میڈیا مالکان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس خطرے کے سدباب کے لیے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے تحفظ کے لیے اقدامات اور انھیں بیمہ تحفظ فراہم کریں۔

امتیاز عالم نے بلوچستان اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں صحافیوں کو درپیش حالات کو انتہائی پریشان کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں طالبان شدت پسندوں سمیت مختلف انتہا پسند گروہوں کی جانب سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

’’کافی صحافی اپنے اضلاع چھوڑ گئے ہیں وہ اپنے علاقوں میں کام نہیں کر سکتے، کیوں کہ ان کو مختلف حلقوں بشمول مقامی جنگجو کمانڈروں کی جانب سے دھمکیاں ملتی ہیں‘‘۔

پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے باعث صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا رہا اور2011ء میں 12 صحافی ہلاک ہوئے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق بلوچستان اورافغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں سے تھا۔

صحافیوں کی مقامی اور بین الاقوامی تنظمیں گزشتہ دو سال سے پاکستان کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے لیے مہلک ترین سال قرار دیتی آئی ہیں اور مختلف سطحوں پر صحافیوں سے مذاکرات کے بعد اب علاقائی تنظیموں نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حالات بدستور جوں کے توں ہیں۔

جائزہ رپورٹ میں پاکستانی صحافیوں کے قتل کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچا کر ذمہ داران کو کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ بھی دہرایا گیا ہے۔

تقریب کے شرکا نے جہاں سیاسی جماعتوں بالخصوص ایم کیو ایم پر صحافیوں کو دھمکانے کے الزام لگائے وہیں اس ضمن میں سکیورٹی سے متعلق اداروں کے کردار پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا۔

رپورٹ میں ریاست کی نمائندگی کرنے والے افراد کے لیے طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ وہ اظہار رائے کی آزادی اور میڈیا سے اپنے تعلقات کے بارے میں جان سکیں۔ جب کہ شورش زدہ علاقوں سے رپورٹنگ کے بارے میں میڈیا کو بھی ایک ضابطہ اخلاق وضع کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

پاکستان میں حکام بشمول وزیر داخلہ یہ کہہ چکے ہیں کہ مارے جانے والے تمام صحافیوں کے قتل کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور حکومت نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے تحفظ کے لیے کئی اقدامات بھی کیے ہیں جن میں شدت پسندی سے متاثرہ علاقوں میں رپورٹنگ کے دوران احتیاطی تدابیر کے بارے میں تربیت فراہم کرنا بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG