رسائی کے لنکس

افغانستان میں درجنوں ہلاکتوں کا ذمے دار کون؟

  • بہجت جیلانی

ہرات دھماکہ (فائل)

میر واعظ افغان کا کہنا تھا کہ طالبان اس سلسلے میں سرکاری دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے، اس قتل و غارتگری کی ذمہ داری لینے سے انکار کرتے ہیں

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ شمالی افغانستان میں درجنوں ہلاکتوں کی اطلاعات کی چھان بین کر رہی ہے۔

خبروں کے مطابق، ہفتے اور اتوار کی رات اس کارروائی میں ہلاک ہونے والوں میں بچے اور عورتیں بھی شامل تھے۔ پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں تجزیہ کاروں نے اپنے آرا کا اظہار خیال کیا۔

میر واعظ افغان کا کہنا تھا کہ طالبان اس سلسلے میں سرکاری دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے، اس قتل و غارتگری کی ذمہ داری لینے سے انکار کرتے ہیں۔ اس واقعے کے بارے میں سامنے آنے والی خبروں میں اسے داعش اور طالبان کی مشترکہ کارروائی کے امکان کے طور پر بھی پیش کیا جا رہا ہے اور طالبان داعش کو اپنا دشمن قرار دیتے ہوئے اس امکان کو بھی مسترد کرتے ہیں۔

پاکستان سے دفاعی تجزیہ کار بریگیڈئر (ر) نظیر سعد اسے ایک پچیدہ صورتحال قرار دیتے ہوئے داعش سے منسوب کرتے ہیں۔ بریگیڈئر سعید نے کہا کہ کچھ اطلاعات کے مطابق، افغانستان میں نئے عوامل بھی داخل ہو رہے ہیں۔ اور امریکہ میں مقیم ڈاکٹر عاصم یوسف زئی توجہ دلاتے ہیں کہ پہلے داعش ملک کے مشرقی حصے تک محدود تھے۔

لیکن، اب ان کی موجودگی شمال مغربی حصے میں بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ افغانستان کے لئے نئی حکمتِ عملی تیار کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس، پینٹاگون اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں اتفاق رائے ضروری ہے۔

تفصیل سننے کے لیے منسلک آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG