رسائی کے لنکس

logo-print

افغان جنرل کا قاتل ان تک کیسے پہنچا؟


مرحوم جنرل عبدالرازق (فائل)

میڈیا رپورٹوں کے مطابق، این ڈ ی ایس کے سربراہ محمد معصوم سٹانکزئی کا کہنا ہے کہ ''جنرل عبدالرازق کے قتل کا منصوبہ افغانستان کے باہر تیار ہوا اور یہ طالبان کی صلاحیت سے کہیں باہر ہے''۔ میڈیا رپورٹوں میں اس حوالے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ممکن ہے امریکہ پر بھی اس کی کچھ ذمے داری آتی ہو، جس نے پاکستان کے ایما پر کوئی قدم اٹھایا ہو۔

اس معاملے پر بات کرتے ہوئے افغان تجزیہ کار اور افغان ریڈیو اور ٹی وی کے ڈائریکٹر (نیوز) انیس الرحمٰن کا کہنا ہے کہ ''یہ ایک کمزور بیان ہے''، اور بطور ایک صحافی وہ یہ بتا سکتے ہیں کہ ''نہ تو افغان عوام اور نہ ہی افغان حکومت اس بیان سے اتفاق کرتی ہے''۔

انہوں نے کہا کہ ''افغان عوام اب یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی صورتحال پر پاکستان یا ایران کو مورد الزام ٹھہرانا بے سود ہے، کیونکہ انہیں اپنے اختلافات خود دور کرنے کی ضرورت ہے''۔

پاکستان سے دفاعی اور سیاسی تجزیہ کار بریگیڈئر (ر) صید نظیر کہتے ہیں کہ جنرل رازق کے قتل کے محرکات جاننے کے لئے ان کی شخصیت کا تجزیہ کرنا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ حملہ آور کی 'کلیرنس' کا ذمے دار کون تھا۔

تفصیلات منسلک آڈیو رپورٹ میں سنئے:

افغان جنرل کا قاتل ان تک کیسے پہنچا؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:06:25 0:00

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG