رسائی کے لنکس

logo-print

'دفعہ 144 کی پرواہ نہیں ہر صورت ڈی چوک پر دھرنا ہو گا'


مولانا فضل الرحمن۔ فائل فوٹو

پاکستان کی دینی و سیاسی جماعت جمعیت علماء اسلام (ف) نے 27 اکتوبر کو دارالحکومت اسلام آباد میں حکومت مخالف احتجاج کے لیے مقامی انتظامیہ کو باضابطہ درخواست دے دی ہے۔

جے یو آئی (ف) کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کی جانب سے چیف کمشنر اسلام آباد کو ایک درخواست دی گئی ہے جس میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک پر احتجاج اور جلسے کی اجازت طلب کی گئی ہے۔

درخواست میں انتظامیہ سے ضروری انتظامات اور شرکا کی سیکیورٹی یقینی بنانے کا کہا گیا ہے۔

وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ واضح کر چکے ہیں کہ اسلام آباد کے بلیو ایریا اور ریڈ زون میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ لہذٰا یہاں کسی کو جمع ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیر داخلہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ مولانا فضل الرحمٰن 27 اکتوبر کو اسلام آباد آئیں گے۔

ماضی میں 126 دن تک ڈی چوک پر دھرنا دینے والی حکومتی جماعت تحریک انصاف کے مختلف رہنما بھی 'آزادی مارچ' کو روکنے کے بیانات دے رہے ہیں۔ جب کہ اپوزیشن کی دیگر جماعتیں مولانا فضل الرحمٰن کے احتجاج میں شرکت کی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کی کور کمیٹی کا اجلاس طلب کر رکھا ہے۔ جب کہ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن نے بھی لاہور میں مشاورتی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

اپوزیشن کے بعض رہنماؤں نے آزادی مارچ کی تاریخ کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ جب کہ پاکستان پیپلزپارٹی اس احتجاج میں 'مذہب کارڈ' استعمال کرنے کی مخالفت کر رہی ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے فضل الرحمن کے مارچ کی حمایت کی ہے تاہم بعض معاملات پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے فضل الرحمن کے مارچ کی حمایت کی ہے تاہم بعض معاملات پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ حکمت عملی کے لیے قائم رہبر کمیٹی کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے بغیر مشاورت کے آزادی مارچ کی تاریخ کا اعلان کیا۔

ان کے بقول ان کی جماعت اسلام آباد مارچ اور دھرنے کو آخری حربے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ اگر یہ مارچ ناکام ہوا تو حکومت مضبوط ہو گی اور اپوزیشن کو اس سے نقصان پہنچے گا۔

رہبر کمیٹی کے رکن کے مطابق ملک کے معروضی حالات کے تناظر میں سیاسی جماعتوں پر حکومت مخالف احتجاج کا حصہ بننے کے لیے دباؤ ہے۔ لہذٰا جمعیت علماء اسلام کے ساتھ مل کر احتجاج کے طریقہ کار پر غور جاری ہے۔

دیگر جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے منگل کو اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا۔ اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم درانی نے بتایا کہ اپوزیشن جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ وزیر اعظم کو مستعفی اور ملک میں نئے انتخابات ہونے چاہئیں۔ جب کہ ان انتخابات میں پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر فوج کا کوئی کردار نہ ہو۔

بلاول بھٹو زرداری بھی اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ وہ اس احتجاج کی حمایت کرتے ہیں لیکن ان کی جماعت دھرنے کے حق میں نہیں ہے۔

جے یو آئی کے سیکریٹری جنرل عبدالغفور حیدری کہتے ہیں کہ آزادی مارچ کو کوئی نہیں روک سکتا اور ان کے کارکن 27 اکتوبر کو ہر صورت اسلام آباد پہنچیں گے۔

وزیر داخلہ کے بیان پر ان کا کہنا تھا کہ دو روز قبل ڈی چوک پر کشمیر ریلی نکالی گئی، کیا دفعہ 144 صرف ان کے لیے ہے؟

غفور حیدری نے مزید بتایا کہ آزادی مارچ میں شرکت کے لیے ان کی جماعت نے عمر کی حد کا تعین کر دیا ہے اور 18 سال سے کم عمر افراد دھرنے میں شامل نہیں ہو سکیں گے۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی احتجاجی مارچ روکنے کی درخواست کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے ایک ہفتے تک مؤخر کر دیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ احتجاج ہر کسی کا جمہوری حق ہے لیکن اس سے معمولات زندگی متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG