رسائی کے لنکس

logo-print

جسٹس (ر) ناصر الملک نگران وزیرِ اعظم نامزد


فائل فوٹو

جسٹس (ر) ناصر الملک کا تعلق خیبر پختونخوا کے علاقے سوات سے ہے اور وہ سپریم کورٹ کا جج بنائے جانے سے قبل پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہ چکے ہیں۔

حکومت اور حزبِ اختلاف نے نگران وزیرِ اعظم کے لیے سابق چیف جسٹس ناصر الملک کے نام پر اتفاق کر لیا ہے۔

نگران وزیرِ اعظم کے نام کا اعلان وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

پریس کانفرنس میں قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق بھی موجود تھے۔

تینوں رہنماؤں نے اتفاقِ رائے سے نگران وزیرِ اعظم کی نامزدگی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ ملک میں شفاف انتخابات کرانے میں کامیاب ہوں گے۔

نگران وزیرِ اعظم کے نام پر وزیرِ اعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف نے گزشتہ ہفتے تعطل پیدا ہو گیا تھا جس کے بعد خورشید شاہ نے کہا تھا کہ اب نگران وزیرِ اعظم کے نام کا فیصلہ پارلیمانی کمیٹی کرے گی۔

لیکن پیر کو برف پگھلی اور وزیرِ اعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف کے درمیان رابطہ بحال ہوا جس کے بعد دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں نگران وزیرِ اعظم کے لیے جسٹس (ر) ناصر الملک کے نام پر اتفاق کرلیا گیا۔

پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نگران وزیرِ اعظم کے نام پر لگ بھگ چھ ہفتے سے مشاورت کا سلسلہ جاری تھا اور اُن کے بقول یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔

"ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا گیا جن کا ماضی بڑا واضح ہے اور اُن کردار بطور نگران وزیرِ اعظم بھی ملک اور جمہوری عمل کے حق میں ہو گا۔"

اس موقع پر خورشید شاہ نے کہا کہ یہ چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں کہ سیاست دان خود فیصلہ نہیں کرتے اور فیصلے باہر ہوتے ہیں۔

"یہ ہم سب کے لیے بڑا چیلنج تھا۔ کوشش یہ تھی کہ ایسا فیصلہ ہو کہ پاکستان کے عوام کو بھی اور پارلیمنٹ میں جتنی بھی سیاسی جماعتیں ہیں اُن کو قابل قبول ہو۔"

اُنھوں نے کہا کہ سب کو نگران وزیرِ اعظم سے یہ اُمید ہے کہ وہ ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے میں کامیاب ہوں گے۔

جسٹس (ر) ناصر الملک کا تعلق خیبر پختونخوا کے علاقے سوات سے ہے اور وہ سپریم کورٹ کا جج بنائے جانے سے قبل پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہ چکے ہیں۔

جسٹس (ر) ناصر الملک کے والد پاکستان میں انضمام سے قبل سوات کی آزاد ریاست میں سینئر وزیر تھے۔

پاکستان کے آئین کے تحت منتخب اسمبلی کی مدت مکمل ہونے پر اس کی تحلیل سے تین دن قبل وزیرِ اعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف کو نگران وزیرِ اعظم کے نام پر اتفاق کرنا ہوتا ہے۔

بصورت دیگر یہ معاملہ آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دیا جاتا ہے جس میں حزبِ اقتدار اور حزبِ مخالف دونوں کی یکساں نمائندگی ہوتی ہے۔

حکومت اور اپوزیشن لیڈر کی طرف سے بھیجے گئے ناموں میں سے اگر پارلیمانی کمیٹی نگران وزیرِ اعظم کے لیے کسی ایک نام پر اتفاق نہ کر سکے تو یہ معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیج دیا جاتا ہے جسے آئین کے تحت حتمی اختیار ہوتا ہے کہ وہ مجوزہ ناموں سے کسی ایک کو بطور نگران وزیرِ اعظم نامزد کر دے۔

لیکن ان مراحل سے قبل ہی وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی اور خورشید شاہ نے نگران وزیرِ اعظم کے نام پر اتفاق کر لیا۔

پاکستان کی موجودہ حکومت 31 مئی کو اپنی مدت مکمل کر رہی ہے۔

گزشتہ ہفتے ہی صدرِ پاکستان نے آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کے لیے 25 جولائی کی تاریخ کی منظوری دی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG