رسائی کے لنکس

logo-print

نگران وزیرِ اعظم پارلیمانی کمیٹی طے کرے گی: خورشید شاہ


قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ (فائل فوٹو)

خورشید شاہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ نگراں وزیرِ اعظم کی تقرری کے لیے اب شاہد خاقان عباسی سے کوئی ملاقات نہیں ہوگی۔ پیر، منگل تک اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور وزیرِ اعظم کو خطوط لکھ دوں گا۔

حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے نگران وزیرِ اعظم کی تقرری کا معاملہ کھٹائی میں پڑنے کا ذمہ دار حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نگران وزیرِ اعظم کا فیصلہ پارلیمانی کمیٹی کرے گی۔

قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے واضح کیا ہے کہ نگراں وزیر اعظم کے لیے اب وہ وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی سے کوئی ملاقات نہیں کریں گے اور اسپیکر قومی اسمبلی کو پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے لیے خط لکھیں گے۔

جمعے کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ نگراں وزیرِ اعظم کے انتخاب کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اس معاملے پر اپنی بات سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ وزیراعظم کو ہمارے نام مسترد کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ اپوزیشن کے نام مسترد نہیں ہو سکتے بلکہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے جائیں گے۔

خورشید شاہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ نگراں وزیرِ اعظم کی تقرری کے لیے اب شاہد خاقان عباسی سے کوئی ملاقات نہیں ہوگی۔ پیر، منگل تک اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور وزیرِ اعظم کو خطوط لکھ دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اسپیکر کو پارلیمانی کمیٹی کے لیے دو ارکان کے نام بھیجیں گے جب کہ وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کو نگراں وزیرِ اعظم کے لیے ذکا اشرف اور جلیل عباس جیلانی کے نام بھیجیں گے۔

سینیٹ میں قائدِ حزب اختلاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمن نے نگران وزیرِ اعظم کی تقرری کا معاملہ کھٹائی میں پڑنے کا ذمہ دار ن لیگ کو قرار دیا ہے۔

جمعے کو صحافیوں سے گفتگو میں شیری رحمان نے کہا کہ حکمران جماعت اب نئے نویلے نام لا رہی ہے۔ جو نام لائے جا رہے ہیں، پتہ نہیں یہ نام ان کے ہیں یا کسی اور کے ہیں۔ ن لیگ کی رکاوٹ کے باعث معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو جائے گا۔

شیری رحمن نے الزام لگایا کہ ن لیگ اپنی کی ہوئی بات سے پیچھے ہٹ رہی ہے کیونکہ ان کے بقول حکمران جماعت اس وقت بٹوارے کا شکار ہے۔

دریں اثنا اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیرِ داخلہ اور ن لیگ کے ناراض رہنما چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ نگراں وزیرِ اعظم کی تقرری کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بظاہر نگراں وزیرِ اعظم کے لیے پہلی ترجیح سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نظر آرہے ہیں۔

وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے درمیان نگراں وزیرِ اعظم کے نام پر اتفاقِ رائے کے لیے جمعرات کو پانچویں ملاقات ہوئی تھی تاہم اس ملاقات میں بھی کسی نام پر اتفاق نہیں ہوسکا تھا۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے نگراں وزیرِ اعظم کے لیے سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ ذکا اشرف اور سابق سیکریٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی کے نام تجویز کیے گئے ہیں جب کہ تحریکِ انصاف کی جانب سے سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی، معروف کاروباری شخصیت عبدالرزاق داؤد اور سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین کے نام تجویز کیے گئے ہیں۔

آئینِ پاکستان کے تحت نگران وزیرِ اعظم کی تقرری کے لیے حکمران اور حزب اختلاف کی جماعتیں نام تجویز کرتی ہیں جس کے بعد قومی اسمبلی میں قائدِ ایوان (وزیرِ اعظم) اور قائدِ حزبِ اختلاف باہمی مشاورت سے ایک نام پر اتفاق کرتے ہیں۔

اگر دونوں میں اتفاقِ رائے نہ ہو تو اسپیکر قومی اسمبلی ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہیں جو آٹھ ارکان پارلیمان پر مشتمل ہوتی ہے ۔اگر کمیٹی بھی نگران وزیرِ اعظم کے نام پر فیصلہ کرنے میں ناکام رہے تو پھر تمام نام الیکشن کمیشن کو ارسال کیے جاتے ہیں جو ان میں سے کسی ایک کو نگران وزیرِ اعظم مقرر کرتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG