رسائی کے لنکس

ایک ٹھیکیدار نے اب سے کچھ سال پہلے اس مرکز کو سنیما ہال میں تبدیل کر دیا تھا، جبکہ اس کی دیواروں اور مرکزی دروازے پر لکھی قرآنی آیات اور کلمہ بھی لکڑی کے فریم، پوسٹر، بینر اور پینا فلیکس سے چھپا دیا گیا تھا

کراچی میں سنیما ہال اور دینی مرکز کی بحالی کا معاملہ ایک طویل مدت کے بعد آخر کار اپنے اختتام کو پہنچا، جس کے بعد سنیما ہال بند ہوگیا اور اس کی جگہ دینی مرکز بحال کردیا گیا۔

ساتھ ہی، عدالت نے دینی مرکز کو سنیما ہال میں تبدیل کرنے والے ٹھیکدار کے خلاف سخت کارروائی کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔

​سنیما ہال کا نام تھا ’سینے پیکس‘ جو ایف بی ایریا میں شاہراہ پاکستان پر واقع ہے۔

ڈائریکٹر محکمہ ثقافت، طارق نفیس نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم پر سنیما ہال کو بند کرکے’المرکز اسلامی‘ کی بحالی کے کام کی نگرانی کر رہے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’ایک ٹھیکیدار نے اب سے کچھ سال پہلے اس مرکز کو سنیما ہال میں تبدیل کردیا تھا، جبکہ اس کی دیواروں اور مرکزی دروازے پر لکھی قرآنی آیات اور کلمہ بھی لکڑی کے فریم، پوسٹر، بینر اور پینا فلیکس سے چھپا دیا تھا۔‘‘

سنیما کا اندرونی منظر
سنیما کا اندرونی منظر

اس اقدام کے خلاف ایک دینی و سیاسی تنظیم، جماعت اسلامی نے نہ صرف عدالت کو ایک خط لکھ کر عدالت سےاس معاملے پر نوٹس لینے کی درخواست بلکہ کیس کے فیصلے پر عمل درآمد میں سنیما انتظامیہ کی جانب سے تاخیر پر احتجاجی مظاہرے بھی کئے اور جمعرات کو دھرنے کا پروگرام بھی ترتیب دیا گیا۔

تاہم، بدھ کو کراچی میونسپل کارپوریشن کے اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے سینما کے اطراف میں لگے پوسٹر، بینر اور پینا فلیکس ہٹا دیئے۔ لکڑی اور دھات کے بنے بورڈز اکھاڑ دیئے اور سنیما ہال کو بند کر دیا گیا۔

سینما ہال ’فن راما، اکیڈمی آف آرٹ اینڈ کلچر‘ کے بینر تلے چلایا جا رہا تھا۔ ’سنیما پیکس‘ اس علاقے کا واحد جدید اسٹائل کا سنیما تھا، جہاں بالی ووڈ، ہالی ووڈ اور پاکستانی فلمیں دکھائی جاتی تھیں۔

’فن راما‘ اکیڈمی کےسربراہ، عمران علی نے صحافیوں کو بتایا کہ ’’سپریم کورٹ میں 28 جولائی کو اس کیس کی سماعت ہونا ہے، ایسی صورت میں جو کارروائی آج ہوئی اس کی ضرورت نہیں تھی۔ ہم عدالت میں کے ایم سی کے اس اقدام کو چیلنج کریں گے۔ ساتھ ہی، ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارا سرمایہ واپس اور متبادل جگہ فراہم کی جائے‘‘۔

سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس انور ظہیر جمالی نے دینی مرکز کی جگہ سنیما ہال بنانے کے معاملے کا از خود نوٹس لیا تھا، جبکہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کراچی رجسٹری میں جسٹس گلزار احمد سمیت تین رکنی بنچ نے اس کیس کی سماعت جاری رکھی۔

کیس کی سماعت کے دوران، کے ایم سی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ’المرکز اسلامی‘ ثقافتی سرگرمیوں کیلئے ٹھیکیدار کو دیا گیا تھا۔ لیکن، اس نے کےایم سی کی کارروائی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے حکم امتناع حاصل کر لیا۔

اس پر سپریم کورٹ نے حکم امتناع ختم کرتے ہوئے ٹھیکیدار کے خلاف سخت کارروائی کا حکم جاری کیا، جبکہ سنیما کو بند کرکے مرکز بحالی کی ہدایات جاری کیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG