رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی میں بچی سے زیادتی اور قتل کے خلاف مظاہروں میں ایک شخص ہلاک


جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کی جائے والی منگھو پیر کراچی کی بچی رابعہ۔

کراچی میں 6 سالہ بچی کے قتل اور زیادتی کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے۔ مظاہروں کے دوران پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے۔

کراچی کے علاقے منگھوپیر ایم پی آر کالونی میں 6 سالہ رابعہ اتوار کے روز سے لاپتا تھی۔ پیر کے روز اس کی لاش کچرا کنڈی سے ملی۔ ابتدائی میڈیکل لیگل رپورٹ میں بچی سے زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے۔

علاقہ مکینوں نے بچی کی لاش سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا۔ لواحقین نے ملزمان کی گرفتاری اور انصاف کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے کٹی پہاڑی جانے والی سڑک ٹریفک کے لیے بند کردی۔ احتجاج کرنے والوں کے پولیس سے مذاكرات ناکام ہونے پر احتجاج ہنگامے میں تبدیل ہوگیا۔

اس دوران مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس سے صورت حال کشیدہ ہوگئی۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے ہوائی فائرنگ بھی کی جس سے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ علاقہ کافی دیر تک میدان جنگ بنا رہا۔

زخمیوں کو فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ نے بتایا ہے کہ ان کے پاس 5 افراد کو لایا گیا تھا جو فائرنگ اور پتھراؤ سے زخمی ہوئے تھے۔ انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔ تاہم ایک شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا۔

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ بچی کے قتل کیس میں نامزد 2ملزموں کو پکڑ لیا گیا ہے۔ ڈی ائی جی عامر فاروقی کے مطابق قتل ہونے والی بچی اورنگی ٹاؤن بلوچ پاڑہ کی رہائشی تھی، جو اتوار کو گھر سے کھیلنے کے لیے نکلنے کے بعد لاپتا ہوگئی تھی۔

پولیس نے بچی کے ڈی این اے کے نمونے حاصل کر لیے ہیں اور رپورٹ آنے کے بعد ہی تحقیقات میں مزید پیش رفت ہو سکے گی۔

ہنگامہ آرائی کے بعد پولیس اور رينجرز کی بھاری نفری علاقے میں طلب کرلیا گیا۔ پولیس نے متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے۔ ا اطلاعات کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے آنسو گیس کے گولے بھی پھینکے۔ قتل ہونے والی بچی کو پولیس کی سخت نگرانی میں نماز جنازہ کی ادائیگی کے قریبی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

علاقے میں دن بھر کاروبار زندگی مکمل طور پر معطل رہا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG