رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی میں بارشوں کے بعد ریلیف کا کام فوج کے سپرد کرنا مسئلے کا حل ہے؟


(فائل فوٹو)

کراچی میں رواں ہفتے ہونے والی موسلا دھار بارش سے نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔ تیز بارش کے باعث شہر کے کئی علاقوں میں 'اربن فلڈنگ' نے تباہی مچادی تھی۔

پیر اور منگل کو شہر میں ہونے والی تیز بارش کے اثرات اب بھی واضح ہیں۔ کئی علاقوں میں گندگی کے ڈھیر اور بارش کا پانی تاحال موجود ہے۔

کراچی کے ضلع غربی اور وسطی میں ہونے والی شدید بارش کی وجہ سے نالے بپھر گئے، اور سیوریج کا پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوا جب کہ نالوں میں پڑا ہوا کچرا سڑکوں، چوراہوں اور گلیوں میں پھیل گیا۔

اورنگی ٹاؤن، ناظم آباد، لیاقت آباد، بنارس، نارتھ ناظم آباد، نارتھ کراچی، سرجانی ٹاؤن کے نشیبی علاقوں میں اب بھی پانی اور کیچڑ جمع ہے جس سے مون سون کے موسم میں وبائی امراض پھوٹنے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو فوری طور پر صفائی کا کام شروع کرنے کا حکم دیا ہے جب کہ اس کام میں فوج کو بھی اتھارٹی کا ہاتھ بٹانے کا کہا گیا ہے۔

خیال رہے کہ بارش کے بعد کراچی شہر کی صورتِ حال پر گورنر سندھ اور میئر کراچی وسیم اختر نے وزیر اعظم عمران خان سے مداخلت کی درخواست کی تھی۔

چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل سمیت دیگر اعلیٰ فوجی حکام بھی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے کراچی پہنچ گئے ہیں۔

سندھ حکومت کا اعتراض

وفاقی حکومت کی جانب سے قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور فوج کی مدد سے صوبائی دارالحکومت کراچی میں صفائی کا کام کرانے پر سندھ حکومت کے ترجمان بیرسٹرمرتضیٰ وہاب نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے کراچی کی بارشوں پر بہت دیر سے نوٹس لیا ہے جس پر حیرت اور افسوس ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں چار روز قبل بارش ہوئی تھی، برساتی پانی کی نکاسی ہو چکی اور عوام کی پریشانی کا مداوا بھی بہت حد تک ہو چکا ہے۔

بیرسٹر مرتضی وہاب نے سوال اُٹھایا کہ جب کراچی میں بارش ہورہی تھی تو کیا گورنر کراچی کی سڑکوں پر نظر آئے تھے؟ جب کراچی میں بارشوں سے مشکلات سامنے آئیں تو کیا پی ٹی آئی کے وزرا کہیں دکھائی دیے؟

اُن کے بقول تحریک انصاف کا کوئی رُکن قومی یا صوبائی اسمبلی کراچی کے شہریوں کے ساتھ دکھائی نہیں دیا۔ اب یہ مگرمچھ کے آنسو بہانے کے لیے سامنے آئے ہیں۔

دوسری جانب وزیر اطلاعات سندھ ناصر شاہ نے بھی اس تاثر کو رد کیا ہے کہ حالیہ بارشوں کے بعد کراچی ڈوب گیا تھا۔

اُن کے بقول ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سال شہر میں ماضی کے مقابلے صورتِ حال بہت حد تک بہتر رہی اور سوائے چند نشیبی علاقوں کے دو سے ڈھائی گھنٹوں کے اندر نکاسی آب کا کام مکمل کرلیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے نالوں کی صفائی کا آغاز تین جولائی سے شروع کر دیا گیا تھا اور شہر کے 38 بڑے نالوں کے 78 چوکنگ پوائنٹس پر صفائی کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔

تحریک انصاف کی جانب سے وزیر اعظم کے اعلان کا خیر مقدم

ادھر دوسری جانب گورنر سندھ عمران اسماعیل سمیت پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی رہنماؤں نے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔

گورنر سندھ نے چیئرمین این ڈی ایم اے سے ملاقات کے بعد الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت کے پاس کراچی میں بارشوں کے بعد پیدا شدہ صورتِ حال سے نمٹنے کی سرے سے کوئی منصوبہ بندی نہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی رکھنے والے کراچی کے دُکھوں کا مداوا نہیں کیا جاتا اور یہ شہر آفت زدہ شہر کا منظر پیش کرتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت اب کراچی کی جانب پوری توجہ دے گی، عالمی بینک سمیت دیگر ذرائع سے حاصل فنڈز شہر کی بہتری کے لیے استعمال ہوں گے۔

کراچی میں دوسرے روز بھی بارش، ہر طرف پانی ہی پانی
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:00 0:00

انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نے اس مقصد کے لیے ایک سمری پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت فوج بھی اپنا حصہ اس کام میں ڈالے گی اور اب یہ کام طویل المدتی بنیادوں پر کیا جائے گا۔

گورنر سندھ نے بتایا کہ نالوں کی صفائی کے لیے تین مراحل میں کام ہو گا جب کہ اس مقصد کے لیے صوبائی حکومت کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔

کیا وفاقی حکومت کی مداخلت سے کراچی کے مسائل حل ہوں گے؟

لیکن دوسری جانب شہری اُمور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے فوج کی مدد سے شہر صاف کرانے کا کام محض عارضی اقدام ہے جس سے شہر کے مسائل کا مستقل حل تلاش کرنا ممکن نہیں۔

سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی اور شہر ی امور کے ماہر فہیم الزمان کا کہنا ہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا دائرہ کار صرف آفت اور ایمرجنسی صورتِ حال میں کام کا ہے۔

اُن کے بقول کراچی میں نکاسی آب کے مسئلے کے حل کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج کو شہری اُمور حل کرنے کی مہارت نہیں تو وہ بھی یہ کام کیسے کرسکتی ہے جب کہ صوبے میں بلدیاتی نظام بھی انتہائی کمزور ہے۔

فہیم الزمان کا کہنا تھا کہ کراچی کے مسائل حل بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنائے بغیر ممکن ہی نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی 247 یونین کمیٹیوں کو مضبوط کرنا ہوگا انہیں مشینری اور افرادی قوت فراہم کرنا ہو گی، اختیارات دینا ہوں گے تاکہ وہ فوری طور پر رہائشیوں کے مسائل حل کر سکیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ شہر میں سیوریج کے مسائل اور برساتی پانی کی نکاسی کے لیے موثر اقدامات کے ساتھ سالڈ ویسٹ ٹھکانے لگانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی وفاقی حکومت نے فوج کے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے تعاون سے شہر میں نالوں کی صفائی کا کام کرایا تھا جسے تحریک انصاف نے کامیاب مگر صوبائی حکومت نے اس مہم کو ناکام قرار دیا تھا۔

ادھر سندھ حکومت نے مون سون کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر 230 ملین روپے کی رقم فوری جاری کردی ہے جس کے تحت شہر بھر میں نالوں کی صفائی کا کام تیز کردیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG