کراچی میں ٹریفک حادثات میں ہلاکتوں کی شرح سب سے زیادہ، تین سال میں ایک ہزار اموات
فائل فوٹو
کراچی —
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ٹریفک حادثات اور ان میں ہلاکتوں کی شرح ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ تین سال میں ایک ہزار سے زائد اموات اور 10 ہزار کے لگ بھگ افراد زخمی ہوئے تھے۔
دنیا بھر میں نومبر کا تیسرا ہفتہ گزشتہ 25 برس سے روڈ ٹریفک حادثات کا شکار ہونے والوں کی یاد میں منایا جا رہا ہے۔
'سندھ پولیس ایکسیڈنٹس انالیسز اینڈ ریسرچ سینٹر' کے اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں 2018 میں 400 سے زائد اموات ہوئیں۔ جب کہ 2019 میں 350 سے زائد جب کہ رواں برس اب تک 280 افراد حادثات میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
تاہم ان اعداد و شمار میں ان حادثات میں زخمیوں کی تعداد سے متعلق کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ ان حادثات میں زخمی ہونے والوں کی اصل تعداد اور مکمل صحت یاب ہونے والوں کی تعداد کتنی ہے۔
اس کے علاوہ ان حادثات میں کتنے افراد دوران علاج چل بسے۔ یا پھر لمبے عرصے کے لیے کومے میں چلے گئے یا پھر عمر بھر کے لیے معذور ہوگئے۔ اس سے متعلق بھی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔
حکام کے مطابق ایسے واقعات میں گزشتہ چند برس میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 8 سے 10 ہزار کے قریب ہے۔
انچارج سندھ پولیس انالیسز سینٹر علی محمد سہاگ کا کہنا ہے کہ اس بارے میں جو اعداد و شمار موجود بھی ہیں وہ بھی انتہائی پریشان کن ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ادارے نے محکمۂ صحت سندھ کو ایسے افراد کا ڈیٹا فراہم کرنے کی درخواست کی تاکہ اصل صورتِ حال کا اندازہ لگایا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایک جانب شہروں کے اندر ٹریفک حادثات کی شرح بڑھتی جا رہی ہے تو دوسری جانب ہائی ویز اور موٹر ویز پر بھی ان کی شرح میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
وزارتِ مواصلات کی فروری میں سینیٹ میں پیش کی جانے والی رپورٹ کے مطابق ملک بھر کی ہائی ویز اور موٹر ویز پر حادثات کی شرح میں ایک سال کے دوران اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔
تین سال قبل 2017 میں 428 حادثات میں سے 236 جان لیوا ثابت ہوئے تھے جب کہ 2018 میں ہائی ویز اور موٹر ویز پر پیش آنے والے حادثات کی کُل تعداد 478 تھی۔ جن میں سے 243 جان لیوا ثابت ہوئے۔
ہائی ویز اور موٹر ویز پر ٹریفک حادثات کی وجہ جہاں سڑکوں کی ابتر حالت اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد نہ کرنا بتائی جاتی ہے۔ تو ریسکیو مشینری کی عدم موجودگی کے ساتھ ان سڑکوں پر ٹراما سینٹرز کا نہ ہونا بھی قرار دیا جاتا ہے۔
‘ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن’ اور صحت کے دیگر عالمی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق بھی پاکستان میں روڈ ٹریفک ایکسیڈنٹس کی شرح بڑھتی جا رہی ہے اور 2018 میں پاکستان میں 30 ہزار سے زائد لوگ ٹریفک حادثات کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ جو ملک میں ہونے والی کُل ہلاکتوں کا دو فی صد جب کہ اموات کی 15ویں بڑی وجہ ہے۔
کراچی کی بسیں
1/11ندیم پچھلے پندرہ برس سے بس اڈوں پر گاڑیاں صاف کررہاہے اور روز کے دو چار سو روپے کما لیتا ہے
کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیور بھی مسافروں کی طرح کئی مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہیں جہاں ایک جانب ٹریفک جام جھیلنا پڑتا ہے، وہیں ان کا شکوہ ہے کہ سی این جی اور چنگ چی رکشوں کے باعث عوام نے بسوں میں سفر کرنا کم کردیا ہے۔ عام افراد اب چنگ چی کی سواری کو ترجیح دیتے ہیں جس سے بسوں کی کمائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ساتھ ہی سی این جی کی بندش سے بھی ان بسوں کے ڈرائیوروں کو سخت مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ کراچی کی اکثر سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں جن پر بسوں میں سفر ایک تکلیف دہ تجربہ ہوتا ہے۔
2/11ایک مسافر افضال کا کہنا ہے کہ بچپن سے بس کا سفر کررہا ہوں۔ مگر اب کراچی کی کئی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کے باعث اتنی خراب ہوگئی ہیں کہ وہاں بسیں چل ہی نہیں پاتیں۔
کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیور بھی مسافروں کی طرح کئی مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہیں جہاں ایک جانب ٹریفک جام جھیلنا پڑتا ہے، وہیں ان کا شکوہ ہے کہ سی این جی اور چنگ چی رکشوں کے باعث عوام نے بسوں میں سفر کرنا کم کردیا ہے۔ عام افراد اب چنگ چی کی سواری کو ترجیح دیتے ہیں جس سے بسوں کی کمائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ساتھ ہی سی این جی کی بندش سے بھی ان بسوں کے ڈرائیوروں کو سخت مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ کراچی کی اکثر سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں جن پر بسوں میں سفر ایک تکلیف دہ تجربہ ہوتا ہے۔
3/11بس ڈرائیوروں کا شکوہ ہے کہ سی این جی اور چنگ چی رکشوں کے باعث عوام نے بسوں میں سفر کرنا کم کردیا ہے
کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیور بھی مسافروں کی طرح کئی مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہیں جہاں ایک جانب ٹریفک جام جھیلنا پڑتا ہے، وہیں ان کا شکوہ ہے کہ سی این جی اور چنگ چی رکشوں کے باعث عوام نے بسوں میں سفر کرنا کم کردیا ہے۔ عام افراد اب چنگ چی کی سواری کو ترجیح دیتے ہیں جس سے بسوں کی کمائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ساتھ ہی سی این جی کی بندش سے بھی ان بسوں کے ڈرائیوروں کو سخت مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ کراچی کی اکثر سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں جن پر بسوں میں سفر ایک تکلیف دہ تجربہ ہوتا ہے۔
4/11وحید عباس نامی بس ڈرائیور کا کہنا ہے رکشوں کی اتنی تعداد بڑھ گئی ہے کراچی کے روڈ پر اب رکشہ ہی رکشہ نظر آتے ہیں
کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیور بھی مسافروں کی طرح کئی مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہیں جہاں ایک جانب ٹریفک جام جھیلنا پڑتا ہے، وہیں ان کا شکوہ ہے کہ سی این جی اور چنگ چی رکشوں کے باعث عوام نے بسوں میں سفر کرنا کم کردیا ہے۔ عام افراد اب چنگ چی کی سواری کو ترجیح دیتے ہیں جس سے بسوں کی کمائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ساتھ ہی سی این جی کی بندش سے بھی ان بسوں کے ڈرائیوروں کو سخت مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ کراچی کی اکثر سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں جن پر بسوں میں سفر ایک تکلیف دہ تجربہ ہوتا ہے۔
5/11جاوید 14 سال سے کنڈکٹر کا کام کر رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں اس کی دیہاڑی کم ہوگئی ہے
کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیور بھی مسافروں کی طرح کئی مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہیں جہاں ایک جانب ٹریفک جام جھیلنا پڑتا ہے، وہیں ان کا شکوہ ہے کہ سی این جی اور چنگ چی رکشوں کے باعث عوام نے بسوں میں سفر کرنا کم کردیا ہے۔ عام افراد اب چنگ چی کی سواری کو ترجیح دیتے ہیں جس سے بسوں کی کمائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ساتھ ہی سی این جی کی بندش سے بھی ان بسوں کے ڈرائیوروں کو سخت مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ کراچی کی اکثر سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں جن پر بسوں میں سفر ایک تکلیف دہ تجربہ ہوتا ہے۔
6/11لمبے روٹس کی بسوں کے ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ وہ دن بھر میں چار چکر لگالیتے ہیں
کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیور بھی مسافروں کی طرح کئی مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہیں جہاں ایک جانب ٹریفک جام جھیلنا پڑتا ہے، وہیں ان کا شکوہ ہے کہ سی این جی اور چنگ چی رکشوں کے باعث عوام نے بسوں میں سفر کرنا کم کردیا ہے۔ عام افراد اب چنگ چی کی سواری کو ترجیح دیتے ہیں جس سے بسوں کی کمائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ساتھ ہی سی این جی کی بندش سے بھی ان بسوں کے ڈرائیوروں کو سخت مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ کراچی کی اکثر سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں جن پر بسوں میں سفر ایک تکلیف دہ تجربہ ہوتا ہے۔
7/11Davide Necchi of Iceland captured this great brightness and quick development of the aurora in late August.
کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیور بھی مسافروں کی طرح کئی مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہیں جہاں ایک جانب ٹریفک جام جھیلنا پڑتا ہے، وہیں ان کا شکوہ ہے کہ سی این جی اور چنگ چی رکشوں کے باعث عوام نے بسوں میں سفر کرنا کم کردیا ہے۔ عام افراد اب چنگ چی کی سواری کو ترجیح دیتے ہیں جس سے بسوں کی کمائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ساتھ ہی سی این جی کی بندش سے بھی ان بسوں کے ڈرائیوروں کو سخت مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ کراچی کی اکثر سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں جن پر بسوں میں سفر ایک تکلیف دہ تجربہ ہوتا ہے۔
8/11ان بسوں کے اڈے شہر کے کئی مقامات پر موجود ہیں
کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیور بھی مسافروں کی طرح کئی مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہیں جہاں ایک جانب ٹریفک جام جھیلنا پڑتا ہے، وہیں ان کا شکوہ ہے کہ سی این جی اور چنگ چی رکشوں کے باعث عوام نے بسوں میں سفر کرنا کم کردیا ہے۔ عام افراد اب چنگ چی کی سواری کو ترجیح دیتے ہیں جس سے بسوں کی کمائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ساتھ ہی سی این جی کی بندش سے بھی ان بسوں کے ڈرائیوروں کو سخت مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ کراچی کی اکثر سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں جن پر بسوں میں سفر ایک تکلیف دہ تجربہ ہوتا ہے۔
9/11ایک بس کی تیاری میں لگ بھگ 4 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں
کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیور بھی مسافروں کی طرح کئی مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہیں جہاں ایک جانب ٹریفک جام جھیلنا پڑتا ہے، وہیں ان کا شکوہ ہے کہ سی این جی اور چنگ چی رکشوں کے باعث عوام نے بسوں میں سفر کرنا کم کردیا ہے۔ عام افراد اب چنگ چی کی سواری کو ترجیح دیتے ہیں جس سے بسوں کی کمائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ساتھ ہی سی این جی کی بندش سے بھی ان بسوں کے ڈرائیوروں کو سخت مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ کراچی کی اکثر سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں جن پر بسوں میں سفر ایک تکلیف دہ تجربہ ہوتا ہے۔
10/11ان بسوں پر مختلف رنگ برنگی نقش نگاری بھی کی جاتی ہے
کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیور بھی مسافروں کی طرح کئی مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہیں جہاں ایک جانب ٹریفک جام جھیلنا پڑتا ہے، وہیں ان کا شکوہ ہے کہ سی این جی اور چنگ چی رکشوں کے باعث عوام نے بسوں میں سفر کرنا کم کردیا ہے۔ عام افراد اب چنگ چی کی سواری کو ترجیح دیتے ہیں جس سے بسوں کی کمائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ساتھ ہی سی این جی کی بندش سے بھی ان بسوں کے ڈرائیوروں کو سخت مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ کراچی کی اکثر سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں جن پر بسوں میں سفر ایک تکلیف دہ تجربہ ہوتا ہے۔
11/11بس ڈرائیور منور خان کا کہنا ہے کہ چنگ چی رکشوں کے باعث عوام نے بسوں میں سفرکرنا کم کردیا ہے
کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیور بھی مسافروں کی طرح کئی مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہیں جہاں ایک جانب ٹریفک جام جھیلنا پڑتا ہے، وہیں ان کا شکوہ ہے کہ سی این جی اور چنگ چی رکشوں کے باعث عوام نے بسوں میں سفر کرنا کم کردیا ہے۔ عام افراد اب چنگ چی کی سواری کو ترجیح دیتے ہیں جس سے بسوں کی کمائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ساتھ ہی سی این جی کی بندش سے بھی ان بسوں کے ڈرائیوروں کو سخت مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ کراچی کی اکثر سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں جن پر بسوں میں سفر ایک تکلیف دہ تجربہ ہوتا ہے۔
Previous slide
Next slide
اسی طرح 2019 میں بھی 36 ہزار کے لگ بھگ افراد سڑکوں پر رونما ہونے والے حادثات کی نذر ہوئے۔ جب کہ رواں سال مارچ سے اب تک بھی 26 ہزار سے زائد افراد مختلف چھوٹے بڑے حادثات میں اپنی جانیں کھو بیٹھے ہیں۔ اس طرح یہ شرح ملک میں تشدد، گردے کے امراض، چھاتی کے کینسر اور دیگر کئی موذی امراض سے ہلاکتوں سے بھی زیادہ ہے۔
حادثات کی بڑی وجہ انسانی غلطیاں
جامعہ کراچی کے استاد اور روڈ ٹریفک حادثات پر ریسرچ کرنے والے ڈاکٹر سلمان زبیر کا کہنا ہے کہ ان حادثات کی بنیادی وجوہات میں انسانی غلطیوں کا احتمال سب سے زیادہ ہے۔ جس کی شرح 95 فی صد بنتی ہے۔
ان کے بقول حادثات کی دوسری بڑی وجہ تکنیکی خرابیاں ہیں جن میں سڑکوں میں پائے جانے والے انجینئیرنگ فالٹس، ماحولیاتی اثرات، بہتر روڈ انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی اور دیگر شامل ہیں۔
ڈاکٹر سلمان زبیر کے مطابق انسانی غلطیوں میں اوور اسپیڈنگ، رانگ وے سفر کرنا، قانون پر عدم عمل درآمد، موٹر سائیکل سواروں کا ہیلمٹ کا استعمال نہ کرنا اور کم عمری میں ڈرائیونگ جیسے عوامل کے علاوہ ایک لمبی فہرست ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی میں ٹریفک حادثات کی شرح زیادہ ہونے کی بھی سب سے بڑی وجہ انسانی غلطیاں ہی ہیں۔
ان کے بقول سب سے بڑی وجہ آبادی کے بڑے حصے کو روڈ سینس نہ ہونا ہے۔ جب کہ لاہور، فیصل آباد، ملتان اور پنجاب کے دیگر شہروں کی نسبت کراچی میں رانگ وے سے سفر کرنے کی وجہ سے ٹریفک حادثات کی شرح بھی بے حد زیادہ ہے۔ جہاں رانگ وے سے آنا جانا جرم کے بجائے حق سمجھا جاتا ہے۔
کراچی: منفرد موٹر سائیکل ریس
1/5اسٹنٹس دکھانے کے لئے خصوصی طور پر تیار کردہ بائیک
کراچی کی شاید ہی کوئی سڑک ایسی ہو جہاں ایک پہیئے پر موٹر سائیکل چلاتا کوئی نوجوان کبھی نظر نہ آتا ہو۔ شام کے اوقات میں جب سڑکوں پر بلا کا ٹریفک ہوتا ہے اور گاڑیاں پھنس پھنس کر چل رہی ہوتی ہیں، اس وقت بھی آپ کو اپنی’دھن کے پکے‘ چند نوجوان ایسے ضرور مل جائیں گے جو تمام خطروں کو جانتے بوجھتے، پیٹ کے بل لیٹ کر موٹر سائیکل چلانا بہت بڑی بہادری سمجھتے ہیں۔ مزید جانیئے ان تصویروں کی زبانی:
2/5ایک اور کرتب، رکشا کو تین کے بجائے دو پہئوں پر چلانے کا مظاہرہ
کراچی کی شاید ہی کوئی سڑک ایسی ہو جہاں ایک پہیئے پر موٹر سائیکل چلاتا کوئی نوجوان کبھی نظر نہ آتا ہو۔ شام کے اوقات میں جب سڑکوں پر بلا کا ٹریفک ہوتا ہے اور گاڑیاں پھنس پھنس کر چل رہی ہوتی ہیں، اس وقت بھی آپ کو اپنی’دھن کے پکے‘ چند نوجوان ایسے ضرور مل جائیں گے جو تمام خطروں کو جانتے بوجھتے، پیٹ کے بل لیٹ کر موٹر سائیکل چلانا بہت بڑی بہادری سمجھتے ہیں۔ مزید جانیئے ان تصویروں کی زبانی:
3/5لیٹ کر موٹر سائیکل چلاتا ہوا ایک نوجوان، تماشائی بھی نمایاں ہیں
کراچی کی شاید ہی کوئی سڑک ایسی ہو جہاں ایک پہیئے پر موٹر سائیکل چلاتا کوئی نوجوان کبھی نظر نہ آتا ہو۔ شام کے اوقات میں جب سڑکوں پر بلا کا ٹریفک ہوتا ہے اور گاڑیاں پھنس پھنس کر چل رہی ہوتی ہیں، اس وقت بھی آپ کو اپنی’دھن کے پکے‘ چند نوجوان ایسے ضرور مل جائیں گے جو تمام خطروں کو جانتے بوجھتے، پیٹ کے بل لیٹ کر موٹر سائیکل چلانا بہت بڑی بہادری سمجھتے ہیں۔ مزید جانیئے ان تصویروں کی زبانی:
4/5ایک پہئے پر موٹر سائیکل چلانے کا مظاہرہ کرتا ہوا نوجوان
کراچی کی شاید ہی کوئی سڑک ایسی ہو جہاں ایک پہیئے پر موٹر سائیکل چلاتا کوئی نوجوان کبھی نظر نہ آتا ہو۔ شام کے اوقات میں جب سڑکوں پر بلا کا ٹریفک ہوتا ہے اور گاڑیاں پھنس پھنس کر چل رہی ہوتی ہیں، اس وقت بھی آپ کو اپنی’دھن کے پکے‘ چند نوجوان ایسے ضرور مل جائیں گے جو تمام خطروں کو جانتے بوجھتے، پیٹ کے بل لیٹ کر موٹر سائیکل چلانا بہت بڑی بہادری سمجھتے ہیں۔ مزید جانیئے ان تصویروں کی زبانی:
5/5اسٹنٹس دکھانے کے لئے خصوصی طور پر تیار کردہ ایک اور بائیک
کراچی کی شاید ہی کوئی سڑک ایسی ہو جہاں ایک پہیئے پر موٹر سائیکل چلاتا کوئی نوجوان کبھی نظر نہ آتا ہو۔ شام کے اوقات میں جب سڑکوں پر بلا کا ٹریفک ہوتا ہے اور گاڑیاں پھنس پھنس کر چل رہی ہوتی ہیں، اس وقت بھی آپ کو اپنی’دھن کے پکے‘ چند نوجوان ایسے ضرور مل جائیں گے جو تمام خطروں کو جانتے بوجھتے، پیٹ کے بل لیٹ کر موٹر سائیکل چلانا بہت بڑی بہادری سمجھتے ہیں۔ مزید جانیئے ان تصویروں کی زبانی:
Previous slide
Next slide
انہوں نے کہا کہ کراچی میں کُل ٹریفک کا 60 سے 70 فی صد موٹر سائیکل سواروں پر مشتمل ہے جن میں سے بہت کم لوگ ہی ہیلمٹ استعمال کرتے ہیں۔
اسی طرح انہوں نے بتایا کہ شہر میں کئی سگنل فری کوریڈورز بنائے گئے ہیں لیکن یہ سگنل فری کوریڈورز ایسے علاقوں سے گزر رہے ہیں جو گنجان آبادیوں پر مشتمل ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ لیاقت آباد، جمشید ٹاؤن، فیڈرل بی ایریا سے سگنل فری کوریڈورز گزر رہے ہیں۔ جہاں آبادی زیادہ ہے اور سڑک کراس کرنے والوں کے لیے پیڈسٹرین برجز، فٹ پاتھ اور دیگر سہولیات کا سوچا ہی نہیں گیا۔
ان کے بقول یہی نہیں بلکہ راستے میں بچت بازار بھی لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ ٹھیلے کھڑے ہوتے ہیں اور تجاوزات کی بھر مار بھی ہے۔ جب کہ کار پارکنگ بھی مین سڑکوں پر ہی رکھی جاتی ہے جس سے ٹریفک حادثات کی شرح بڑھتی ہے۔
محمد ثاقب 2007 سے صحافت سے منسلک ہیں اور 2017 سے وائس آف امریکہ کے کراچی میں رپورٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ کئی دیگر ٹی وی چینلز اور غیر ملکی میڈیا کے لیے بھی کام کرچکے ہیں۔ ان کی دلچسپی کے شعبے سیاست، معیشت اور معاشرتی تفرقات ہیں۔ محمد ثاقب وائس آف امریکہ کے لیے ایک ٹی وی شو کی میزبانی بھی کر چکے ہیں۔