رسائی کے لنکس

کراچی میں ماس ٹرانزٹ منصوبے کب مکمل ہوں گے؟


کراچی میں 2017 کی مردم شماری کے مطابق ایک کروڑ 60 لاکھ سے زائد آبادی کے لیے کوئی ایک بھی ماس ٹرانزٹ سسٹم موجود نہیں۔ دو ماس ٹرانزٹ منصوبے تقریباََ سات برس سے التوا کا شکار ہیں۔

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں ریپڈ بس ٹرانسپورٹ کے منصوبے کے ساتھ گزشتہ ماہ کے آخر میں میٹرو ٹرین بھی دوڑنے لگی ہے۔ جب کہ آبادی کے لحاظ سے چوتھے، چھٹے اور ساتویں نمبر پر آنے والے شہروں یعنی راولپنڈی، پشاور اور ملتان میں بھی میٹرو بس سروس چل رہی ہیں لیکن آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے اور معاشی ترقی کا انجن سمجھے جانے والے شہر کراچی میں صورتِ حال یکسر مختلف ہے۔

کراچی میں 2017 کی مردم شماری کے مطابق ایک کروڑ 60 لاکھ سے زائد آبادی کے لیے کوئی ایک بھی ماس ٹرانزٹ سسٹم موجود نہیں۔

اس حوالے سے اگرچہ کئی عدالتی احکامات، سیاسی دعوے اور وعدے کیے گئے مگر اب تک اس پر کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی اور کم از کم دو ماس ٹرانزٹ منصوبے تقریباََ سات برس سے التوا کے شکار ہیں۔

ماضی کی تیز رفتار سواری سرکلرریلوے کا کیا ہوا؟

کراچی میں دو دہائیوں قبل تک کامیابی سے چلنے والی سرکلر ریلوے کو بند ہونے کے بعد اسے اعلانات کے باوجود بھی بحال نہیں کیا جا سکا ہے۔

کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے سپریم کورٹ نے چھ ماہ کا وقت دیا تھا تاہم اب تک اس کی بحالی تو ممکن نہیں ہو سکی۔ لیکن اس ضمن میں کچھ سست روی کے ساتھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے اور آئندہ چند ماہ میں آزمائشی آپریشن اور پھر مارچ 2021 تک حکام اسے اس کے پرانے روٹ پر بحال کرنے کے لیے پُر امید ہیں۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کہتے ہیں کہ کے سرکلر ریلوے کے 30 کلو میٹر لوپ لائن میں سے 14 کلو میٹر کا ٹریک بحال ہو چکا ہے جب کہ باقی ماندہ ٹریک کی بحالی سندھ حکومت کے اوور ہیڈ اور فلائی اوور بنانے سے مشروط ہے۔

شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ سرکلر ریلوے کی 40 کوچز میں سے 15 کوچز مکمل طور پر تیار ہو چکی ہیں اور باقی 25 کوچز بھی بہت جلد تیار ہو جائیں گی۔

واضح رہے کہ اس مقصد کے لیے سرکلر ریلوے کے ٹریک پر آنے والے پُلوں اور انڈر پاسز کی تکمیل کے لیے سندھ حکومت نے فوج کے انجینئرنگ کے ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو ٹھیکہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

کراچی کا گرین لائن منصوبہ کب مکمل ہو گا؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:37 0:00

حکام کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات کے پیشِ نظر پہلے مرحلے کے اختتام پر کے سی آر کو دسمبر 1999 کے روٹ اور شکل میں بحال کیا جائے گا۔ جب کہ دوسرے مرحلے میں اسے جدید اربن ٹرین سروس کا درجہ دیا جائے گا جس کی کنسلٹنسی سروس حاصل کرنے کے لیے ٹینڈر جاری کر دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق اس مقصد کے لیے پہلے مرحلے کی مکمل بحالی کے لیے ایک ارب 85 کروڑ روپے درکار ہوں گے۔

واضح رہے کہ کراچی میں ماضی میں پبلک ٹرانسپورٹ کا مؤثر ذریعہ سرکلر ریلوے ہی رہا ہے جو یومیہ ہزاروں مسافروں کو اپنی منزل مقصود پر پہنچاتی رہی ہے لیکن سرمایہ کاری نہ ہونے اور حکومتی عدم توجہ کا شکار ہو کر یہ 1999 میں بند ہو گئی۔

اس دوران اس کا 43 کلومیٹر طویل ٹریک تجاوزات کی نذر ہو گیا اور وقت گزرنے کے ساتھ اس کا نام و نشان بھی کئی جگہ سے بالکل مٹ گیا۔

سرکلر ریلوے کا ٹریک کہیں تجاوزات کا شکار ہو گیا اور کہیں سرے سے زمین ہی میں دھنس کر ماضی کی کہانی بن گیا جب کہ سرکلر ریلوے اسٹیشنز نشے کے عادی افراد کا مسکن اور کچرا کنڈیوں میں تبدیل ہو گئے۔

کراچی میں آبادی بڑھنے کے ساتھ ٹریفک کے مسائل نے انتظامیہ کی توجہ ایک بار پھر اس جانب مبذول کرائی اور 2006 میں جاپانی حکومت کے ادارے جاپان انٹرنیشنل کو آپریشن ایجنسی (جائیکا) کے تعاون سے سرکلر ریلوے کے احیا کے لیے ایک جامع اور مفصل رپورٹ تیار کی گئی جس کا مقصد سرکلر ریلوے کو جدید خطوط پر استوار کرنا تھا۔

اس منصوبے کے تحت ریلوے ٹریک پر پہلے تجاوزات کا خاتمہ کرنا، وہاں آباد افراد کی متبادل جگہ آباد کاری کے ساتھ جدید ترین ٹرین سسٹم متعارف کرانا بتایا گیا تھا۔

منصوبے کے تحت ہر چھ منٹ بعد چلنے والی ٹرین 1391 مسافروں کو لے کر روانہ ہو گی اور اس طرح ایک روز میں 6 لاکھ سے زائد مسافر سرکلر ریلوے کے ذریعے سفر کر سکیں گے۔

اس منصوبے کی قیمت کا تخمینہ دو ارب 60 کروڑ 90 لاکھ امریکی ڈالرز لگایا گیا تھا جو اس وقت 417 ارب پاکستانی روپے بنتے ہیں لیکن جاپانی حکومت کی منصوبے کی تکمیل کے لیے امداد کی غرض سے کڑی شرائط پوری نہیں کی گئیں اور اس وجہ سے منصوبہ 14 سال سے التوا کا شکار ہے۔

دو سال قبل یہ منصوبہ جاپانی حکومت کے بجائے چینی حکومت سے مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور اس مقصد کے لیے کراچی سرکلر ریلوے کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ تاہم اب تک یہ واضح نہیں کہ منصوبے کے لیے کیا شرائط ہیں اور یہ منصوبہ کب تک شروع ہو گا۔

گرین لائن بی آر ٹی منصوبہ کب شروع ہو گا؟

جولائی 2014 میں حکومت کے اعلان کردہ گرین لائن بی آر ٹی پراجیکٹ کے منصوبے پر 2016 میں کام شروع ہوا اور اس وقت یہ کہا گیا تھا کہ یہ منصوبہ 2018 تک مکمل کرلیا جائے گا. لیکن اس منصوبے کی تکمیل کی حتمی تاریخ بڑھائی جاتی رہی اور اب اس کی تکمیل کی نئی تاریخ جون 2021 بتائی جا رہی ہے جس کے لیے انفراسٹرکچر کی تعمیر سے لے کر آپریشن کے لیے بسوں کی فراہمی بھی وفاقی حکومت نے اپنے ذمے لی ہے۔

شروع میں منصوبے کا تخمینہ 16 ارب روپے لگایا گیا تھا جو اب 20 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل میں حائل تمام رکاوٹیں دور کر لی گئی ہیں جن میں منصوبے کی تکمیل کے لیے مالی سرمائے کے ساتھ بسوں کی فراہمی کے لیے ٹینڈرز بھی جاری کر دیے گئے ہیں جس سے امید ہے کہ یہ منصوبہ نئی ڈیڈ لائن تک مکمل ہو جائے گا۔

اورنج لائن بی آر ٹی پراجیکٹ کا کیا ہوا؟

کراچی میں بس ریپڈ سسٹم کے سب سے پہلے جس ٹریک پر کام شروع ہوا تھا وہ اورنج لائن تھا جسے بعد میں عبدالستار ایدھی کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔

یہ ٹریک اورنگی ٹاون کو بورڈ آفس چورنگی سے جوڑتا ہے۔ یہ ٹریک صوبائی حکومت تعمیر کرا رہی ہے. لیکن محض چار کلو میٹر طویل اس ٹریک پر کام پانچ سال گزر جانے کے باوجود بھی نا مکمل ہے۔

سندھ حکومت کے مطابق اورنج لائن کا یہ ٹریک آئندہ چند ماہ میں تیار ہو جائے گا۔

ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ منظور، شروع کب ہو گا؟

شہر میں ایک بس ریپڈ ٹرانسپورٹ پراجیکٹ، جسے ریڈ لائن کہا جاتا ہے، اس کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک نے 23 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کا قرضہ جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

اس قرضے سے کراچی میں بس ریپڈ سسٹم کا ریڈ لائن کوریڈور تعمیر کیا جائے گا۔ 26 اعشاریہ 6 کلومیٹر طویل کوریڈور کراچی ایئر پورٹ کے قریب ماڈل کالونی سے شروع ہو کر نمائش چورنگی تک تعمیر کیا جائے گا جس میں 29 مختلف اسٹاپس اور 6 لین کی دو رویہ سڑکیں شامل ہوں گی۔

منصوبے میں پارکنگ اور کم توانائی خرچ کرنے والی اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب بھی شامل ہے۔

حکام کے مطابق اس کوریڈور کے ذریعے تقریباََ 15 لاکھ لوگ مستفید ہوں گے جو شہر کی آبادی کا 9 فی صد بنتا ہے۔

کیا کراچی سرکلر ریلوے واقعی بحال ہوجائے گی؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:57 0:00

کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی

کراچی چیمبر آف کامرس کی کرائی گئی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق کراچی کی سڑکوں پر رواں دواں گاڑیوں میں پبلک ٹرانسپورٹ کا حصہ محض ساڑھے چار فی صد رہ گیا ہے۔ جو زیادہ سے زیادہ 42 فی صد مسافروں کی ضروریات ہی پوری کر سکتا ہے۔

شہریوں کی اکثریت آمد و رفت کے لیے پرائیویٹ گاڑیوں کا استعمال کرتی ہے جو شہر کے مجموعی ٹریفک کا تو 36 فی صد ہے لیکن اس سے صرف 21 فی صد مسافروں کی ضروریات ہی پوری ہوتی ہیں۔

کراچی میں رکشوں اور ٹیکسیوں کی تعداد شہر کے کُل ٹریفک کا 10 فی صد ہے جو آٹھ فی صد مسافروں کو سفری سہولیات فراہم کرتی ہیں۔

بسوں کی تعداد 5000 سے بھی کم ہے جو 56 لاکھ مسافروں کو سفر کی سہولت مہیا کرتی ہیں۔ یہ تعداد روزانہ سفر کرنے والوں کا 42 فی صد ہے۔

اس طرح کراچی میں ایک بس کے حصے میں یومیہ اوسطا 250 سے زائد مسافر آتے ہیں۔

صوبائی حکومت کا مؤقف؟

سندھ حکومت کے وزیر ٹرانسپورٹ اویس قادر شاہ کا کہنا ہے کہ ایک جانب جہاں شہر میں وفاقی حکومت کے تحت 25 کلو میٹر طویل گرین لائن بس ریپڈ سسٹم پر کام جاری ہے وہیں صوبائی حکومت 4 کلومیٹر طویل اورنج لائن بس ریپڈ سسٹم پر بھی کام آئندہ سال تک مکمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ان کے بقول اسی طرح 26 کلو میٹر ریڈ لائن کے لیے بھی ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے تعاون کے بعد کام آئندہ سال تک شروع ہونے کی توقع ہے۔

وزیرِ ٹرانسپورٹ اس تاثر کو رد کرتے ہیں کہ صوبائی حکومت کراچی میں ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کرونا کی وجہ سے منصوبوں میں کچھ تاخیر ضرور ہوئی ہے لیکن ان منصوبوں کے علاوہ دیگر منصوبوں کے تحت بھی شہر کے ٹرانسپورٹ مسائل حل کرنے کے لیے صوبائی حکومت کوشاں ہے۔

مئی 2019 میں صوبائی وزیرِ ٹرانسپورٹ نے شہر میں 1000 نئی بسیں لانے کا دعویٰ کیا تھا جو 40 مختلف روٹس پر چلائی جانی تھیں۔ ان میں سے 60 بسیں دو ماہ میں اور پھر 200 بسیں دو ماہ کے بعد لانے کے وعدے کیے گئے تھے۔

اس طرح چند ماہ میں یہ بسیں شہر میں مختلف روٹس پر چلنا تھیں لیکن صوبائی حکومت ان دعوؤں کے 18 ماہ گزرنے کے باوجود بھی شہر میں کوئی نئی پبلک بس لانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔

کراچی: برسوں سے مسافروں کا منتظر ریلوے اسٹیشن
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:31 0:00

'اصل مسئلہ سیاسی کریڈٹ لینا ہے'

صوبے میں اپوزیشن جماعتیں یہ کہتی دکھائی دیتی ہیں کہ سندھ میں برسرِ اقتدار پیپلز پارٹی 12 سال کے طویل دورِ اقتدار میں بھی ماس ٹرانزٹ سسٹم تو دُور ایک بھی بس لانے میں کامیاب نہیں ہوئی جس سے اس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

وہیں شہری ترقی کے ماہرین بھی آج تک ملک کے سب سے بڑے شہر میں بہتر ٹرانسپورٹ سسٹم کی عدم موجودگی کی ساری ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد کرتے نظر آتے ہیں۔

اربن ریسورس سینٹر سے وابستہ زاہد فاروق شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے بہتر نظام کی عدم موجودگی کی اصل وجہ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہ ہونے کو قرار دیتے ہیں۔

زاہد فاروق کا کہنا ہے کہ ایک جانب تو شہر میں ماس ٹرانزٹ کے جتنے منصوبے چل رہے ہیں وہ سب تاخیر کا شکار ہیں۔ تو دوسری جانب یہ سارے منصوبے وفاقی حکومت یا بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے تعاون سے بن رہے ہیں جس کے لیے صوبائی حکومت کو وفاق کی جانب دیکھنا پڑتا ہے۔ اس طرح وفاقی حکومت کے تعاون کے بغیر کراچی میں کوئی زیرِ تکمیل منصوبہ مکمل نہیں ہو سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اکثر یہ کہتی نظر آتی ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے وصولیاں کم ہونے پر این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کے حصے میں آنے والی رقم پر وفاق کٹوتی کر دیتا ہے جس کا اثر صوبے میں ترقیاتی کاموں یا جاری منصوبوں پر تو پڑتا ہے۔ مگر ان کا اثر غیر ترقیاتی کاموں پر کم ہی نظر آتا ہے۔

زاہد فاروق کے مطابق اس میں ایک اور نکتہ یہ بھی ہے کہ یہاں کسی منصوبے کو شروع یا مکمل کرنے کا سہرا سیاسی جماعتیں اپنے سر لینا چاہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ منصوبے سیاسی کریڈٹ لینے کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اگر ایک سیاسی جماعت کریڈٹ لینے کا دعویٰ کرتی ہے تو دوسری اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر کے اسے وہ کریڈٹ لینے سے روکنے کی کوشش کرتی ہے۔

کراچی پیکیج

وزیرِ اعظم عمران خان نے ستمبر میں کراچی کے لیے وفاق اور صوبائی حکومت کا مشترکہ 1100 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں میں ٹرانسپورٹ کے نظام کی بحالی کے لیے اقدامات کا بھی اعلان کیا تھا جس کے لیے 300 ارب روپے کی خطیر رقم درکار ہو گی۔

اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت 50 ارب 80 کروڑ روپے ادا کرے گی جب کہ 249 ارب 20 کروڑ روپے چینی حکومت سے قرضہ حاصل کیا جائے گا۔

کیا کراچی W11 سے محروم ہو جائے گا؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:17 0:00

اسی طرح بس ریپڈ سسٹم کے لیے مجوزہ گرین لائن کے علاوہ اورنج لائن، ریڈلائن اور یلو لائن کو بھی مکمل کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے کُل 448 ارب روپے کے لگ بھگ رقم درکار ہوگی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے جہاں ماس ٹرانزٹ سسٹم کی شکل میں بڑی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ تو دوسری جانب درمیانی مدت کے منصوبے کے تحت 30 ہزار سے زائد بسوں کی بھی ضرورت ہے۔ تا کہ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی پوری کی جا سکے اور شہریوں کے مسائل حل کیے جا سکیں۔

مبصرین کے مطابق شہر میں ماس ٹرانسپورٹ کے بجائے 20 لاکھ سے زائد پرائیویٹ گاڑیوں اور 40 لاکھ موٹرسائیکلز کا سیلاب نظر آتا ہے جس سے آلودگی، بے ہنگم ٹریفک، پارکنگ، تنگ سڑکیں اور اس سے جڑے مسائل شہر کی پہچان بن رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG